لبنان پر اسرائیلی حملے، ایران کا انتباہ
اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔ حالانکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
لبنان کی قومی خبر ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ان حملوں میں نبطیہ سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ڈرونز کے ذریعے زہرانی کے علاقے میں واقع شہر انصاریہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔ ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں باقر قالیباف نے بتایا کہ انہوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران زور دیا کہ ’جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بشمول لبنان۔‘
قالیباف، جنہوں نے اتوار کے روز ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے، نے کہا کہ ’قابض قوتوں‘ یعنی اسرائیل کو زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری ’عزت اور وقار کے ساتھ‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ لبنان کسی بھی ایسے معاہدے کا لازم و ملزوم حصہ ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہو۔
دوسری طرف ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیا نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 84 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
قرارگاہ خاتم الانبیا نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتا تو اسے ایران کی مسلح افواج کے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ یہ تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔