ریشمی کو ڈچ شہریت مل گئی
- تحریر فہیم اختر
- بدھ 17 / جون / 2026
زندگی میں بعض سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے اندر خوشیوں، ملاقاتوں اور یادوں کا ایک پورا جہان سموئے ہوتے ہیں۔ میرا حالیہ سفر بھی کچھ ایسا ہی تھا، جس کا آغاز لندن کے ایک خوشگوار دن سے ہوا اور اختتام ایسی یادوں پر ہوا جو مدتوں ذہن میں تازہ رہیں گی۔
پچھلے ماہ میرے عزیز دوست اور بھائی محمد حسن نے اطلاع دی کہ ان کی اہلیہ ریشمی حسن کو ڈچ شہریت مل گئی ہے اور اس سلسلے میں 15 جون کو ایک خصوصی تقریب سٹی کونسل میں منعقد ہونے والی ہے۔ یہ خبر سن کر مجھے دلی خوشی ہوئی۔ دیارِ غیر میں محنت، استقامت اور عزم کے بعد کسی نئی شناخت اور نئے سفر کا آغاز یقیناً مبارک باد کا مستحق ہوتا ہے۔ چنانچہ میں نے اسی وقت اس تقریب میں شرکت کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ ہفتہ 13 جون کی دوپہر لندن کا موسم اپنی پوری رعنائی کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔ آسمان صاف تھا، دھوپ نرم اور خوشگوار تھی اور فضا میں گرمیوں کی دلکشی گھلی ہوئی تھی۔ میری اہلیہ ہما سید ہمیں قریبی ریئنس پارک اسٹیشن تک چھوڑنے آئیں۔ وہاں سے ہم نے ٹرین پکڑی اور آرام سے گیٹ وِک ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔آج کے دور میں فضائی سفر کا ایک مرحلہ جس سے اکثر مسافر خائف رہتے ہیں، وہ سیکورٹی چیک ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے اس روز تمام کارروائی نہایت تیزی اور آسانی سے مکمل ہو گئی۔ نہ کہیں غیر معمولی رش تھا اور نہ ہی طویل انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔ یوں سفر کے آغاز ہی میں ایک خوشگوار احساس پیدا ہو گیا۔
شام چھ بجے ہماری پرواز لندن سے روانہ ہوئی۔ جہاز نے ابھی بلندی حاصل ہی کی تھی کہ نیچے پھیلے ہوئے انگلستان کے سرسبز مناظر ایک خوبصورت نقشے کی صورت اختیار کرنے لگے۔ محض پچاس منٹ بعد ہم ایمسٹرڈیم کے معروف اسخیفول ایئرپورٹ پر اتر رہے تھے۔ اتنا مختصر فضائی سفر کہ یوں محسوس ہوا جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر تک کا فاصلہ طے کیا ہو۔ایئرپورٹ سے باہر نکلے تو محمد حسن حسبِ توقع مسکراتے ہوئے استقبال کے لیے موجود تھے۔ پردیس میں اپنوں کی محبت کا احساس ہمیشہ دل کو چھو لیتا ہے۔ ٹرین اور بس کے ذریعے ہم ان کے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ایمسٹرڈیم کی صاف ستھری سڑکیں، منظم ٹریفک، نہریں اور خوبصورت رہائشی علاقے اس شہر کی انفرادیت کا احساس دلاتے رہے۔
گھر پہنچے تو ریشمی حسن اور ان کے ہونہار فرزند ارباب نے انتہائی محبت اور خلوص کے ساتھ استقبال کیا۔ مہمان نوازی برصغیر کی روایت ہے، لیکن بعض لوگ اسے ایک فن کی طرح نبھاتے ہیں اور ریشمی حسن انہی لوگوں میں شامل ہیں۔کچھ ہی دیر بعد کھانے کی میز سج گئی۔ روسٹ لیمب کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لذیذ پکوان کا ذائقہ واقعی قابلِ تعریف تھا۔ گوشت نہایت مہارت سے تیار کیا گیا تھا اور ہر لقمہ میزبانوں کے ذوق اور محبت کی گواہی دے رہا تھا۔ کھانے کے بعد بنگلہ دیش سے آئے ہوئے آم پیش کیے گئے۔ ان آموں کی مٹھاس، خوشبو اور رس بھری لذت نے گویا ہمیں چند لمحوں کے لیے بنگال کی سرزمین تک پہنچا دیا۔ دیارِ غیر میں بیٹھ کر اپنے خطے کے پھلوں سے لطف اندوز ہونا ایک الگ ہی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
محمد حسن اور ریشمی حسن کا تعلق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے ہے۔ گزشتہ چھ برسوں سے وہ ایمسٹرڈیم میں مقیم ہیں۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے نہ صرف ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی بلکہ اپنی محنت اور مثبت سوچ سے اس معاشرے میں اپنی جگہ بھی بنائی۔ ریشمی حسن کی ڈچ شہریت دراصل اسی مسلسل جدوجہد، صبر اور استقامت کا ثمر ہے۔ایمسٹرڈیم میں ہماری پہلی شام محبت، خلوص، بہترین مہمان نوازی اور لذیذ کھانوں کے نام رہی۔ اس شام نے مجھے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، اپنے لوگوں کی محبت اور اپنائیت ہر فاصلے کو مختصر اور ہر سفر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
اتوار 14 جون کا دن ہماری یادوں میں ایک خوشگوار اور دلکش سفر کے طور پر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ اس روز محمد حسن بھائی اپنی اہلیہ ریشمی حسن اور بیٹے ارباب کے ہمراہ ہمیں نیدرلینڈ کے خوبصورت اور پُرفضا گاؤں خِت ہورن لے گئے، جسے اس کی پُرسکون نہروں اور دلکش مناظر کی وجہ سے ’ڈچ وینس‘بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں ہم سب نے نہروں میں بوٹ کی سیر سے لطف اٹھایا اور قدرتی حسن سے بھرپور ماحول میں یادگار لمحات گزارے۔ اس خوشگوار تفریح کو مزید یادگار بنانے میں ریشمی حسن کے ہاتھوں سے تیار کردہ لذیذ پلاؤ کا بھی بڑا کردار تھا، جس کے ذائقے نے سب کے دل جیت لیے۔ یہ دن نہ صرف بہترین مہمان نوازی بلکہ ریشمی حسن کی اس خوبصورت صلاحیت کا بھی مظہر تھا کہ وہ اپنائیت، محبت اور خلوص کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہیں، جو ان کی ڈچ معاشرے میں کامیاب شمولیت اور نئی شہریت کے سفر کی ایک خوبصورت علامت ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو نئی سرزمینوں میں اجنبیت کے احساس سے نکال کر اپنائیت کی فضا عطا کرتے ہیں۔ معروف ادیب، شاعر اور سماجی کارکن محمد حسن جب اپنی اہلیہ ریشمی حسن کے ساتھ محض چھ برس قبل بنگلہ دیش سے نیدرلینڈز آئے تو ان کے سامنے ایک نئے معاشرے، نئی زبان اور نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کا چیلنج تھا۔ مگر عزم، محنت اور مثبت سوچ نے اس سفر کو کامیابی کی داستان میں بدل دیا۔ محمد حسن نے اپنی ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے کمیونٹی میں اپنی شناخت قائم رکھی جبکہ پیشے کے اعتبار سے اکاونٹنٹ ریشمی حسن نے پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی میں اپنی جگہ بنائی۔ ایمسٹرڈیم میں ان کی ڈچ شہریت کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا تھا کہ یہ محض ایک قانونی یا انتظامی مرحلہ نہیں بلکہ چھ برس کی مسلسل جدوجہد، نئے وطن سے وابستگی اور ایک خاندان کے خوابوں کی تعبیر کا جشن ہے، جس میں بنگلہ دیش کی یادیں بھی شامل ہیں اور نیدرلینڈز کے روشن مستقبل کی امیدیں بھی۔
تھوڑی دیر بعد ایمسٹرڈیم کے قلب میں واقع ڈیم اسکوائر جانے کا اتفاق ہوا۔ محمد حسن بھائی ہمارے ہمراہ تھے، اس لیے یہ محض ایک سیاحتی سیر نہ رہی بلکہ ایک خوشگوار رفاقت میں ڈھل گئی۔ شہر کے مصروف ترین علاقے سینٹرم کی گلیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے کبھی تاریخی عمارتیں ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتیں اور کبھی کسی کیفے کے سامنے رک کر ہم شہر کی رنگا رنگ زندگی کا مشاہدہ کرنے لگتے۔ اس دوران دلچسپ گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ کبھی پرانی یادیں تازہ ہوئیں، کبھی برطانیہ اور ہالینڈ میں زندگی کے فرق پر گفتگو ہوئی اور کبھی مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وقت قدموں کے ساتھ ساتھ خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ڈیم اسکوائر ایمسٹرڈیم کا تاریخی اور ثقافتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سترہویں صدی میں جب ہالینڈ دنیا کی بڑی تجارتی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا، تب یہی علاقہ شہر کی اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس وسیع و عریض چوک کے ایک جانب شاہی محل (رائل پیلس) اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ دوسری جانب نیشنل مونیومنٹ دوسری عالمی جنگ میں جان کی قربانی دینے والوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح، فنکار، موسیقار اور مقامی باشندے اس چوک کو ہر وقت زندگی سے بھرپور رکھتے ہیں۔ڈیم اسکوائر سے نکل کر جب ہم سینٹرم کی تاریخی گلیوں میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ اور جدید زندگی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چل رہی ہوں۔ صدیوں پرانی نہریں، روایتی ڈچ طرزِ تعمیر کی عمارتیں، سائیکلوں کی طویل قطاریں اور مختلف زبانیں بولتے لوگ اس شہر کی بین الاقوامی شناخت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی منظر رک کر دیکھنے کو مجبور کرتا تھا۔ لیکن اس دن کی اصل خوبصورتی صرف تاریخی مقامات نہیں تھے بلکہ ایک اچھے دوست کی معیت، بے تکلف گفتگو اور وہ خوشگوار لمحات تھے جو کسی بھی سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔
محمد حسن اور ان کی اہلیہ ریشمی حسن کی شاندار میزبانی، بے مثال خلوص اور محبت بھری تواضع نے ہمارے نیدرلینڈ کے قیام کو ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔ ان کے ہاتھوں کے لذیذ پکوان، خصوصاً ریشمی حسن کے تیار کردہ خوش ذائقہ پلاؤ اور نہاری نے اس سفر کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔ ریشمی حسن کی ڈچ شہریت کا حصول محض ایک قانونی یا انتظامی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کی تکمیل ہے جس میں محنت، خاندانی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور انسان دوستی نمایاں رہی ہیں۔ ان کی شخصیت مشرقی روایات کی گرمجوشی اور مغربی معاشرے کی مثبت اقدار کا حسین امتزاج ہے۔ دعا ہے کہ وہ اپنی نئی شناخت اور ذمہ داریوں کے ساتھ اسی طرح کامیابی، عزت اور محبت کے سفر کو جاری رکھیں اور اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کے لیے باعثِ فخر بنتی رہیں۔
منگل 16 جون کی شام ہم ایمسٹرڈیم کے اسخیفول ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئے، لیکن اپنے ساتھ صرف سامان ہی نہیں بلکہ حسین یادوں، خوشگوار لمحات اور بے پناہ محبتوں کا ایک انمول خزانہ بھی لے آئے۔