درخواست بنام ڈونلڈ ٹرمپ : رضی الدین رضی کا 9 برس پرانا کالم

بخدمت جناب ڈونلڈٹرمپ صاحب بہادر، صدر متحدہ ریاست ہائے امریکہ، سربراہ عرب امریکہ سربراہی کانفرنس وسرپرست اعلیٰ دنیائے عرب
جناب عالی گزارش ہے کہ فدوی سب سے پہلے تو اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی کم عقلی اورکم علمی کی بنا پر عالی مرتبت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کاشکار رہاجس پر وہ ندامت کااظہار ضروری سمجھتا ہے اور اس فروگذاشت پر آپ سے دست بستہ معافی کاخواستگارہے۔

جناب عالی افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے آپ کے بدخواہوں نے آپ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیداکررکھی تھیں۔جب سے آپ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں امیدوار بنے تھے ہنود و یہود کے ایجنٹوں کی طرف سے آپ کی کردارکشی کی مہم شروع کردی گئی تھی۔آپ کے بارے میں طے شدہ منصوبے کے تحت یہ تاثر پیدا کیا گیاکہ آپ خدانخواستہ اسلام دشمن ہیں اور مسلمانوں کو نیست ونابودکرنا چاہتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران آپ کے اس قسم کے کچھ بیانات بھی سامنے آئے جن سے یہ بد گمانی پیدا ہوتی تھی کہ آپ مسلمانوں کے سخت مخالف ہیں، لیکن اب اندازہ ہوا کہ ہم اپنی کوتاہ نظری کے باعث آپ کے ان بیانات کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ اب سمجھ آتا ہے کہ درحقیقت وہ سب انتخابی پروپیگنڈہ تھا۔ الحمداللہ امریکہ کے باشعور اور پڑھے لکھے لوگوں نے اس پروپیگنڈہ پرکوئی توجہ نہ دی، اللہ کی مدد شاملِ حال ہوئی اورفتح وکامرانی نے آپ کے قدم چومے:
مدعی لاکھ برا چاہے توکیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

عالی مرتبت مسئلہ یہ ہے کہ عالمی امن کے دشمن اپنی ہزیمت کے بعد بھی خاموش نہ ہوئے اور آپ کی کامیابی کے بعد آپ کی کردارکشی شروع کردی گئی۔ آپ کی اور محترمہ میلانیا کی ایسی ہوش ربا تصاویر اور جعلی ویڈیوز سوشل میڈیاپر پھیلائی گئیں کہ جنہیں دیکھ کر سرتوشرم سے جھک جاتاتھا لیکن دل یہ کہتا تھاکہ یقیناً ان تصاویر اور ویڈیوز کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور پھر وقت نے ثابت کیاکہ دشمنوں نے جوبھی پروپیگنڈہ کیاتھا، وہ لغوتھا۔ آپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد چندشرپسنداسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پرجب پابندیاں لگائیں توایک مرتبہ پھرطوفان کھڑاہوگیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی سادہ لوحی اور انگریزی زبان سے نا آشنائی کی وجہ سے ان بہت سی باتوں اور الزام تراشیوں کوسچ سمجھتے رہے۔ اب صدر منتخب ہونے کے بعد جب آپ نے اپنے پہلے دورے کے لئے حجازمقدس کاانتخاب کیا توگویاسب الزام باطل ثابت ہوگئے۔

وہ جو آپ کو اسلام دشمن کہتے تھے، ان کی زبانیں بھی گنگ ہوگئیں اورپھر ان بدخواہوں نے اپنی توپوں کارخ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان، دیگرعرب ممالک اور شاہزادوں کی طرف کردیا۔ آپ کے دورے کا آغازہوا اور آپ خاتون اول کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ گئے۔ ریاض ایئر پورٹ پرشاہ سلمان بن عبدالعزیز اپنی کابینہ کے ہمراہ آپ کے استقبال کے لئے بہ نفس نفیس موجودتھے۔ فلک نے بھلا یہ نظارہ اس سے پہلے کب دیکھا تھا۔ جلالہ ۃالملک نے پہلے تو آپ کے ساتھ معانقہ کیاپھر عرب روایات کے مطابق آپ کی گالوں کابوسہ لیا اورخاتون اول ریاست ہائے متحدہ امریکہ یعنی آپ کی زوجہ محترمہ کے ساتھ صرف مصافحہ فرمایا۔ اب اسلام دشمنوں کی جانب سے نیاپروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور بات کابتنگڑ یہ بنایاگیاکہ محترمہ میلانیا بھلا سکارف یادوپٹے کے بغیر کھلے بالوں کے ساتھ حجاز مقدس کیوں تشریف لائی ہیں۔ کوئی انہیں بتائے کہ اگرمحترمہ میلانیا اورآپ کی عفت مآب صاحبزادیاں سکارف اور دوپٹے کے بغیر سعودی عرب آ ہی گئی تھیں تواس میں بھلا قباحت ہی کیاتھی۔ افسوس کہ یہ سب لوگ اس بات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ تمام محترم خواتین اس شدید گرمی کے موسم میں بھی پورا لباس زیب تن کر کے آئیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ سکارف اور دوپٹے کی پابندی توصرف مسلمانوں کے لئے ہے اورہونی بھی چاہئے۔ ویسے بھی عرب حکمران بہت مہمان نواز ہیں۔ وہ بھلا مہمانوں پر اپنے عقائد کیسے مسلط کرسکتے تھے اور پھروہ تو ایک ایسے رہنما اوراس کے اہل خانہ کااستقبال کررہے تھے جومسلمانوں کی فکر کرتا ہے اور ان کی سربلندی کے لئے کام کر رہا ہے۔ اورجناب صدرِ ذی وقار ہم تو یہ بھی فراموش کر گئے کہ آپ نے سعودی عرب کو اسرائیل پر بھی ترجیح دی تھی یعنی آپ نے سعودی عرب کادورہ پہلے کیا اور بعدمیں اسرائیل کی دیوار گریہ پرحاضری دی۔

جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََ بعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔ اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پر آپ کادل جس طرح خون کے آنسو رو رہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اور منافقت کے بغیر، اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔ یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اور ابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔ نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریر تیارکرتے رہے اور وہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔ آپ سفرکی صعوبتوں کو بخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اور آپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریر بھی نہ کرسکیں گے لہذا آپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔

اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیا تویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔ آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کو بھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اور انتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔ اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔ یقیناََ انتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں اور آپ کی تقریر کے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔

جناب عالی دہشت گردی کو جڑسے اکھاڑنے کے لئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم نے اپنے سپہ سالار بطل حریت راحیل شریف کو پہلے ہی اس اسلامی فوج کی قیادت کے لئے سعودی عرب بھیج دیاہے جس نے ایران، شام، یمن اور دیگرممالک میں دہشت گردوں کاصفایا کرناہے اورجناب راحیل شریف صاحب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا تو زمانہ معترف ہے۔ انہوں نے ضرب عضب میں اتنی کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کو نیست ونابودکیاکہ اس کے بعد کسی اور آپریشن کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آپریشن ردالفساد تو ہم نے صرف آپ کی اور سعودی عرب کی خوشنودی کے لئے شروع کیاہے ۔ ورنہ اس کی کوئی خاص ضرورت تو اب نہیں تھی۔

جناب والا اس درخواست کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں آپ کی تقریر اورآپ کی شخصیت سے متاثرہونے کے بعد اس اسلامی فوج کاحصہ بننا چاہتا ہوں جس نے اسلام کی سربلندی کے لیے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں کام کرنا ہے۔ جنرل صاحب کوتو آپ کی جانب سے خطیر رقم بھی فراہم کی جارہی ہے اور یہ یقیناً وہ اس کے حق داربھی ہیں لیکن میں اپنی خدمات آپ کو مفت پیش کرتا ہوں۔ ہاں اگر آپ نے اس کے عوض مجھے کچھ نذرانہ پیش کرنے کی کوشش کی تو صرف آپ کی خوشی کے لیے اسے قبول کرلوں گا۔ امید ہے کہ آپ حقیر کی اس عاجزانہ سی درخواست پر ضرورغور فرمائیں گے۔ میں نسل درنسل پہلے بھی آپ کا غلام تھا، آئندہ بھی غلام ہی رہوں گا۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)