ایران امریکا ڈیل پر خدشات
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 17 / جون / 2026
پاکستان کی میزبانی میں ایران، امریکا معاہدہ اس وقت عالمی میڈیا میں چھایا ہوا ہے۔ ایک طرف یہ کہتے ہوئے اس کی تحسین کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے پوری دنیا سکھ کا سانس لے گی، تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گرنے سے مہنگائی کم ہو جائے گی، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں جتنی تیزی سے اوپر گئی ہیں، اس سے عالمی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی۔
امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ تو رنگ بازی میں آپے سے باہر ہو رہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ میں نے 1979 کے بعد وہ کام کر دکھایا ہے جو کوئی بھی امریکی پریزیڈنٹ نہیں کر سکا۔ جب اس کارنامے کی تفصیل پوچھی جاتی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ جواب دیتا ہے کہ میں نے اسٹریٹ آف ہرمز پر ایرانی قبضہ چھڑوا کر اب اسے اوپن کروایا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ یہ تو اٹھائیس فروری سے قبل ہی اوپن تھی تو پھر آپ نے کیا اچیو کیا ہے؟ ٹرمپ کا جواب آتا ہے کہ میں نے ایرانیوں سے یورینیم انرچمنٹ رکوا دی ہے۔ ایران اب ایٹم بم نہیں بنا سکے گا۔ اسرائیل کو بھی اس نادر معاہدے پر میرا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اسرائیل ان کے سامنے دو گھنٹے بھی نہ ٹھہر سکتا۔
پورے امریکا میں بحث چل رہی ہے، یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یورینیم انرچمنٹ کو مخصوص حد تک روک دینے کا معاہدہ تو دو ہزار پندرہ میں پریزیڈنٹ باراک اوباما نے کوئی ایک فائر کیے بغیر ایران سے منوا لیا تھا۔ جسے آپ نے 2018 میں صدر بنتے ہی توڑ ڈالا۔ آپ کی اس حماقت کے باعث ایرانی رجیم کو یہ موقع ملا کہ وہ یورینیم انرچمنٹ کو اس بالائی سطح تک لے گئے جہاں سے ایٹم بم بنانا کوئی زیادہ دور نہیں رہ گیا تھا۔ اس تمام تر خرابی کے ذمہ دار تو خود آپ تھے، پھر یہ آپ کا کارنامہ کیسے ہو گیا؟ ایران امریکا ڈیل جسے ڈیل سے زیادہ MOU کہنا چاہیے واقعی بہت دلچسپ ہے۔ ایرانی رجیم کو اس پر پاکستان کا دل و جان سے ممنون ہونا چاہیے۔ پاکستان نے انہیں وہ کچھ دلوا دیا ہے جس کا اس برس کے آغاز میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بلا شبہ اس میں ٹرمپ کی حماقتوں کے ساتھ ایرانی رجیم کی اپنی بھی ہمت ہے کہ وہ ٹرمپ کی کھوکھلی دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ اپنی میزائل ٹیکنالوجی سے ٹرمپ کی بینڈ بجا دی۔ نہ صرف ٹرمپ کی بلکہ بشمول اسرائیل اس کے عرب اتحادیوں کو بھی تاک تاک کر ایسے مزائل مارے کہ وہ آگے سے جوابی وار بھی نہ کر سکے
اور اب امریکا کے ساتھ جو یادداشت سائن کی گئی ہے، اس کی 14 شقوں کا اگر ون بائی ون جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹرمپ نے انہیں پڑھے بغیر ہی امریکا میں اس ناروا جنگ کے کارن اپنی ڈوبتی ساکھ کو بچانے کے لیے غیر مشروط سرنڈر کر دیا ہے۔
ایک طرف کہا جا رہا تھا کہ ایران نے امریکی اتحادی عرب خلیجی ریاستوں کو اپنے میزائلوں سے جو نقصان پہنچایا ہے، امریکا اس کا ازالہ 24 ارب ڈالرز کے منجمد ایرانی فنڈز یا اثاثوں سے کرے گا۔ لیکن یادداشت میں اس کے برعکس یہ کہا گیا کہ کچھ شرائط کے تحت یہ خلیجی ممالک تین سو ارب ڈالرز تعمیر نو کے لیے ایران کو مہیا کریں گے جسے ایک طرح سے ہرجانہ ہی سمجھا جائے گا۔ سوال اٹھتا ہے کہ خلیجی عرب ممالک اس نوع کا ہرجانہ کیوں بھریں گے؟ کیا انہوں نے ٹرمپ یا نیتن یاہو کو یہ کہا تھا کہ خوا مخواہ کا پنگا لیتے ہوئے یکبارگی ایرانیوں پر دھاوا بول دو اور ان کے سپریم لیڈر کو مار ڈالو جنہوں نے یہ حرکت کی تھی، اس کا خمیازہ بھی وہی بھگتیں۔ 24 ارب ڈالرز کے منجمد فنڈز کے متعلق بھی متضاد باتیں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ جے ڈی وینس اس کا انکار کر رہے ہیں لیکن ایرانیوں نے واضح طور پر یہ دکھایا ہے کہ یہ فنڈز انہیں واپس کر دیے جائیں گے۔ آدھے مذاکرات شروع ہونے سے قبل اور آدھے مابعد۔
سٹریٹ آف ہرمز کے حوالے سے بھی ایرانیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اگرچہ ٹول ٹیکس نہیں لگائیں گے مگر گزرنے والے جہازوں سے ترکوں کی طرح سروسز فیس ضرور وصول کریں گے۔ یورینیم افزودگی کے سلسلے میں بھی کوئی ایسی ٹھوس ضمانت نہیں دی گئی ہے، نہ ہی انرچمنٹ کی کوئی حد یا مقدار مقرر کی گئی ہے۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ایران اور امریکا براہ راست مذاکرات کریں گے۔ ایرانی میزائل پروگرام پر بھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے جس کا مطالبہ ٹرمپ کرتے چلے آ رہے تھے، لبنان کے ایشوز کو بھی ایرانیوں نے اپنی ڈیل میں شامل کروا لیا ہے۔ حالانکہ یہ شق قطعی ناقابل عمل ہے۔ اسرائیل کی کسی ڈیل میں شمولیت کے بغیر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حزب اللہ کی کسی کارروائی کا کوئی جواب نہیں دے گا۔ اس نوع کی بندش تبھی ممکن ہو سکتی تھی اگر خود اسرائیل کو بھی اس ڈیل کا لازمی حصہ بنایا جاتا۔ ہمارے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانیوں کے نزدیک حزب اللہ کی حیثیت اپنے وجود کی طرح بالکل ایسے ہی ہے جیسے افغان طالبان کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان کی ہے۔ ان پر حملہ وہ اپنے اوپر حملہ کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر بھلا اسرائیل سے یہ توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنا حق دفاع استعمال نہیں کرے گا جبکہ اس سلسلے میں امریکاو یورپ کی حکومتوں سے بڑھ کر مغرب کی رائے عامہ ان کی پشت پناہ ہو۔
درویش اپنے یہ خدشات پورے اعتماد کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہے کہ ٹرمپ کی یہ ڈیل یا یادداشت قطعی ناقابل عمل ثابت ہوں گی۔ اس وقت ٹرمپ کی جان پر بنی ہوئی تھی کہ کسی بھی شرط پر وہ ایرانیوں سے اسٹریٹ آف ہرمز کا کنٹرول چھڑواتے ہوئے جیسے تیسے جنگ بندی کو منوائے بصورت دیگر امریکی رائے عامہ نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن میں اسے نکسن کی طرح وائٹ ہاؤس سے باہر نکلوا سکتی ہے۔ ساری شیخیاں دھری کی دھری رہ جانی ہیں۔ ایرانیوں کو بھی ٹرمپ کی اس پتلی صورت حال کا ادراک تھا۔ اسی لیے وہ نہ صرف یہ کہ اس کی گیدڑ بھبھکیوں کو خاطر میں نہیں لائے بلکہ اپنی شرائط کو بہتر طور پر منوایا۔ اگرچہ اس ناروا جنگ میں کچومر ایرانیوں کا بھی نکل گیا ہے اور اب تعمیر نو کے لیے جان کے لالے انہیں بھی پڑے ہوئے ہیں۔ قیادت کا بحران بھی ہے۔ مسائل ہر دو اطراف ہیں۔، لیکن ٹرمپ کو اس ڈیل کے بعد بھی جو مشکلات آنے والی ہیں، ان کی قیمت نہ صرف ریپبلکن کو چکانی پڑ سکتی ہے بلکہ مابعد جو بھی امریکی حکومت بنے گی اسے اور امریکی قوم کو چکانی پڑے گی۔
وقت کے ساتھ امریکا میں یہ بحث مزید بڑھے گی کہ ٹرمپ نے ہمارے اور اسرائیل کے ساتھ کیا ہاتھ کر دیا ہے۔ امریکی عظمت کا کھوکھلا نعرہ لگانے والے نے امریکی عظمت زمیں بوس کر دی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی اہل سیاست و دانش کے ساتھ پریزیڈنٹ اوباما اور پریزیڈنٹ کلنٹن کے جائزے قابل ملاحظہ ہیں۔