امن کی یادداشت جو شاید امن نہ لاسکے!

امریکی صدر ٹرمپ نے پیرس میں جی ۔7 کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے امید ظاہر کی  ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ  طے پانے والے نکات پر حرف بہ  حرف عمل کرے گا۔ بصورت دیگر امریکہ ایک بار پھر ایران پر بمباری کرنے پر مجبور ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا یہ طرز تکلم ان کی سیاسی بے بسی اور ایران کے ساتھ طے پانے والی  مفاہمتی یادداشت کی متعدد کمزوریوں کا برملا اعتراف ہے۔

اگرچہ ایران یا امریکہ نے اتوار کو دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی یادداشت کا مکمل متن جاری نہیں کیا اور دونوں ملکوں کے لیڈروں نے اپنے اپنے طور پر اس کی وضاحت کرکے سرخرو ہونے کا اعلان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم امریکی میڈیا بلوم برگ  نے 14 نکات پر مشتمل اس یادداشت کا م مکمل متن جاری کردیا ہے۔ اگرچہ یہ مصدقہ  متن نہیں ہے اور غالباً   سرکاری طور سے  معاہدے کا متن  جمعہ کے روز سوٹزرلینڈ میں معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد ہی جاری کیا جائے گا تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ وائٹ ہاؤس یا امریکی وزارت خارجہ نے یہ نکات عام ہونے کے بعد ان کی تردید کرنا  ضروری نہیں سمجھا۔ اس طرح  بلوم برگ کے شائع کردہ نکات کو حتمی  سمجھنے میں کوئی حرج نہیں۔

سامنے آنے والی غیر مصدقہ دستاویز کے مطابق ایران نے  امریکہ سے اپنے تمام مطالبات تسلیم کرائے ہیں حتی کہ امریکہ  جنگ کے دوران ایران میں ہونے والے نقصان کے ازالے اور تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کا فنڈ  قائم کرنے  پر بھی راضی ہوگیا ہے۔ دستاویز  کے اس نکتہ میں اگرچہ کہا گیا  ہے کہ ’امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا جس پر فریقین متفق ہوں گے۔ اس کا مقصد ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی ہوگا۔ اس منصوبے کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کا طریقہ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 دن کے اندر تیار کیا جائے گا‘۔  اگرچہ    اس میں ایران کو ہرجانہ دینے کے الفاظ شامل نہیں ہیں لیکن درحقیقت جب امریکہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایران میں جنگی نقصان سے  بحالی کے کام  کے لیے تین سو ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کرنے پر راضی ہوگیا ہے تو تکنیکی لحاظ سے اسے امریکہ کا اعتراف شکست  ہی سمجھا جائے گا۔  ورنہ ایرانی  بمباری سے اسرائیل ہی نہیں متعدد عرب ممالک میں  اربوں ڈالر کا نقصان ہؤا ہے لیکن ا س مفاہمتی یادداشت میں   ایران پر اس نقصان  تلافی کرنےکی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی  اس جنگ جوئی کا کوئی حوالہ موجود ہے۔

یادداشت کے غیر مصدقہ متن کے سوا ایرانی ذرائع  بھی تین سو   ارب ڈالر  کی فراہمی کا زور شور سے ذکر کررہے ہیں۔ تاہم امریکی عہدیدار یہ کہتے ہوئے اس کی  ’تردید‘ کررہے ہیں کہ کوئی امریکی پیسہ  ایران  منتقل نہیں ہو گا۔ لیکن اس وضاحت کے لیے متن کے اس  حصے کی آڑ  لی جاسکتی ہے کہ امریکہ نے وعدہ تو کیا ہے لیکن یہ رقم درحقیقت اس کے علاقائی شراکت دار فراہم کریں گے۔ امریکہ صرف اس کی ضمانت دے رہا ہے۔ البتہ کسی عرب ملک نے ایسی کسی امداد یا ادائیگی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ کسی عرب ملک نے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ نہیں کیا تھا۔ اب اگر امریکہ دھونس و دھمکی سے  ایک ایسی غلطی کے  لیےحلیف عرب ممالک کو خطیر فنڈ  فراہم کرنے پر مجبور کرتا ہے تو کہیں سے بھی یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ   اس امداد  سے  انہیں کیا فائدہ ہوگا۔ اسی دستاویز کے مطابق امریکہ اس بات پر بھی اتفاق کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی فوجی صلاحیت میں  اضافہ نہیں کرے گا۔  اس کا مطلب ہے کہ امریکہ بالواسطہ طور سے عرب ممالک کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کا اعلان کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے  یادداشت کو کانگرس میں پیش کرنے اور عوامی نمائیندوں کی رائے لینے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے کسی  مباحثہ کے دوران اس دستاویز میں امریکہ کے وقار اور عالمی رتبے کو پہنچنے والے نقصان پر ضرور بات کی جائے گی ۔ کانگرس  کوئی ایسا معاہدہ مسترد بھی کرسکتی ہے جس کے تحت  امریکہ کا کوئی مطالبہ نہیں مانا گیا مگر ایران اپنے تمام بنیادی  مطالبے منوانے  میں کامیاب ہوگیا ہے۔ امریکہ نے عہد کیا ہے  کہ حتمی معاہدہ ہونے کے بعد ایران پر عائد  ہر قسم کی معاشی پابندیاں ختم کردی جائیں گی تاہم   اس حتمی معاہدے سے پہلے جو  مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساٹھ دن کے اندر طے پائے گا، امریکہ ایرانی تیل کی برآمد  کے اجازت نامے جاری کرے گا۔ یعنی اس تنازعہ سے پہلے ایرانی تیل فروخت کرنے پر جو پابندی عائد تھی، اسے اٹھا لیا جائے گا۔ ایران کے لیے یہ معاشی سہولت بھی نہایت خوش کن ہوگی اور وہ مارکیٹ میں پوری قیمت پر تیل بیچ کر کثیر وسائل حاصل  کرسکتا ہے۔

امریکی صدریہ کہتے ہوئے اس معاہدے کو ’شاندار ڈیل‘ قرار دیتے رہے ہیں کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔   اگرچہ مفاہمتی یادداشت میں  یہ نکتہ شامل ہے لیکن ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی بلکہ وہ  پر امن مقاصد کے لیے  یورینیم افزودہ کرنے  کا حق تسلیم کرانا چاہتا تھا۔ وہ اب بھی اس حق سے دست بردار نہیں ہؤا۔ یادداشت میں اگرچہ براہ راست اس کا ذکر نہیں ہے لیکن ہین السطور یہ تسلیم کیا گیا  ہے کہ ایران  مناسب کنٹرول کے تحت جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔  ٹرمپ کے خیال میں  معاہدے کے تحت دوسری کامیابی آبنائے ہرمز کھلوانا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز  تو جنگ سے پہلے بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے کھلی تھی۔ ٹرمپ کی یک طرفہ جنگ کی وجہ سے ایران نے اس آبی شاہراہ کو بند کیا۔ اب اسے کھلوانے پر اتفاق رائے امریکی کامیابی نہیں کہی جاسکتی۔  مفاہمتی یادداشت کے باوجود ایران ابھی تک اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے سروس چارجز لینے کی بات کررہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے عملی تسلط کو تسلیم کیا جارہا ہے۔

امریکہ ایران کامیزائل پروگرام اور پراکسی گروپوں کی ایرانی مدد بند کرانا چاہتا تھا۔ لیکن یہ دونوں نکات مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں ہیں۔  بلکہ لبنان میں جنگ بندی کو یادداشت کا حصہ بناکر امریکہ نے اپنے پاؤں میں خود ہی  بیڑیا ں ڈال لی ہیں۔  اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے ، اس لیے یہ ناقابل فہم ہے کہ امریکہ کیسے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بند کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ خاص طور سے اسرائیلی حکومت ایران کے  ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے خلاف رہی ہے۔ اب وہ  لبنان جنگ کو ایران امریکہ معاہدہ خراب کرانے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے متعدد کمزور نکات کی وجہ سے  امریکہ اور ایران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کا امکان روشن سے زیادہ دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ یادداشت کی غیر مبہم اور غیر واضح زبان اور اس میں متعدد ایسے نکات کا اندراج جو براہ راست امریکہ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں، اس معاہدے کے بارے میں شبہات کو تقویت دیں گے۔   اگرچہ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ تہران میں اب زیادہ معتدل  مزاج لیڈر حکمران ہیں لیکن یہ دعویٰ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ ایران میں اصل اختیار کے مالک پاسداران انقلاب کے لیڈر بڑی حد تک انتہا پسند ہیں اور وہ کسی بھی لمحے تنازعہ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ نئے رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای  اپنے والد کے برعکس پاسداران کے بارے میں زیادہ  ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کے زیر اثر دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے یہ قیاس کرنا دست نہیں ہوگا  کہ امریکہ  کے لچک دکھانے سے پاسداران کی طاقت کم ہوگی اور معتدل مزاج سیاسی قیادت معاملات طے کرنے کے قابل ہوسکے گی۔

شاید انہی کمزوریوں کی وجہ سے صدر ٹرمپ گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ پابندیاں ہٹانے اور حتمی امن کے لیے ایران کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنا پڑے گا۔  البتہ مفاہمتی یادداشت  میں تو ایسا کوئی تقاضہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اس تاریخی کامیابی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدارامن اب بھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔