شیکسپر، انسانوں کا نبض شناس تھا

شیکسپیئر سے میری دلچسپی محض ایک ادبی قاری کی دلچسپی نہیں بلکہ ایک یادگار ذاتی تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔ کئی برس قبل پاکستان کے ممتاز بین الاقوامی اداکار، صداکار، براڈکاسٹر اور دانشور ضیا محی الدین ہماری دعوت پر آسٹریلیا تشریف لائے۔

انہوں نے سڈنی میں دو شو کیے جو بہت کامیاب رہے۔ ضیا محی الدین صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر فنِ اداکاری اور تھیٹر کا ایک معتبر حوالہ تھے۔ انہوں نے لندن میں طویل عرصہ تھیٹر سے وابستہ رہنے کے علاوہ برطانوی اور ہالی ووڈ فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ ان کی آواز، ان کا اسلوبِ بیان اور ادب و فن پر ان کی گہری نظر انہیں اپنے عہد کے منفرد فنکاروں میں ممتاز کرتی تھی۔ ان کے قیامِ سڈنی کے دوران ایک روز میں انہیں آسٹریلیا کی معروف علامت، سڈنی اوپیرا ہاؤس، دکھانے لے گیا۔ سمندر کے نیلگوں پانیوں کے کنارے ایستادہ یہ شاندار عمارت دنیا کے عظیم ثقافتی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ اس روز وہاں مختلف پروگراموں کے اشتہارات آویزاں تھے۔ انہی میں ولیم شیکسپیئر کے شہرۂ آفاق ڈرامے "ہیملٹ" کی نمائش کا اعلان بھی نمایاں تھا۔ ضیا محی الدین کی نظر جب اس اشتہار پر پڑی تو وہ چند لمحوں کے لیے ٹھہر گئے۔ پھر مسکراتے ہوئے بولے: ’کئی برس پہلے میں نے لندن میں اس ڈرامے کی ہدایت کاری کی تھی‘ ۔

میں نے ان کی بات سنی تو ایک لمحے کے لیے مجھے یقین نہ آیا۔ اگرچہ میں ان کی بین الاقوامی شہرت اور فنی مقام سے بخوبی واقف تھا، لیکن شیکسپیئر کے لازوال شاہکار "ہیملٹ" کی ہدایت کاری کا ذکر میرے لیے حیران کن تھا۔  میں نے قریب جا کر وہاں موجود معلوماتی تحریر پڑھی تو واقعی ضیا محی الدین کے اس دعوے کی تصدیق ہو گئی۔ میرے لیے یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ میں ایک ایسے فنکار کے ساتھ کھڑا تھا جس نے نہ صرف مشرق و مغرب کے ادبی اور ثقافتی جہانوں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا تھا بلکہ شیکسپیئر جیسے عالمی ادبی نابغے کے فن کو بھی اپنے تخلیقی لمس سے نئی جہت دی تھی۔ بعد ازاں ہم اوپیرا ہاؤس کے قریب سمندر کے کنارے واقع ایک کافی شاپ میں جا بیٹھے۔ شام ڈھل رہی تھی۔ بندرگاہ کے پانیوں پر سورج کی سنہری کرنیں بکھری ہوئی تھیں۔ ہوا میں نمکین سمندری خوشبو رچی ہوئی تھی اور سامنے دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے سیاحوں کا ہجوم تھا۔ ایسے دلکش ماحول میں گفتگو کا موضوع فطری طور پر شیکسپیئر بن گیا۔

ضیا محی الدین بولتے گئے اور میں ہمہ تن گوش سنتا گیا۔ انہوں نے شیکسپیئر کے عہد، لندن کے تھیٹروں، ملکہ الزبتھ کے دربار، گلوب تھیٹر، ہیملٹ، اوتھیلو، میکبتھ اور رومیو و جولیٹ کے کرداروں پر اس انداز سے گفتگو کی کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے چار سو برس پرانا انگلستان ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا ہو۔ ان کی گفتگو محض معلومات کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسے فنکار کا مشاہدہ تھی جس نے خود تھیٹر کی دنیا کو قریب سے دیکھا تھا اور شیکسپیئر کے فن کو اپنی عملی زندگی میں برتا تھا۔ چند برس قبل ضیا محی الدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن سڈنی اوپیرا ہاؤس کے سائے میں ہونے والی وہ نشست آج بھی میرے حافظے میں تازہ ہے۔ آج جب میں شیکسپیئر کی یہ داستان قلم بند کرنے بیٹھا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ضیا محی الدین کی وہ گفتگو پھر سے میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ یہ تحریر دراصل اسی یادگار ملاقات کی ایک بازگشت ہے، ایک ایسے عظیم فنکار کی یاد میں جس نے مجھے شیکسپیئر کو محض پڑھنے نہیں بلکہ سمجھنے کا سلیقہ بھی عطا کیا۔

لندن کی ایک سرد اور دھند آلود شام تھی۔ دریائے ٹیمز کے پانیوں پر کہر تیر رہی تھی اور شہر کی گلیوں میں گھوڑوں کی ٹاپوں، خوانچہ فروشوں کی آوازوں اور شراب خانوں کے شور کے درمیان ایک اور ہجوم بھی رواں تھا۔ یہ لوگ کسی شاہی تقریب یا مذہبی اجتماع میں شریک ہونے نہیں جا رہے تھے۔ ان کی منزل ایک تھیٹر تھا، جہاں ایک نیا ڈراما پیش ہونے والا تھا۔ ہجوم کے درمیان کھڑا ایک شخص خاموشی سے اسٹیج کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ نہ کوئی جرنیل تھا، نہ درباری، نہ عالم اور نہ سیاست دان۔ مگر آنے والی صدیوں میں اس کا نام ان سب سے زیادہ زندہ رہنے والا تھا۔ یہ ولیم شیکسپیئر تھا، اسٹریٹفورڈ کے ایک معمولی دستانہ ساز کا بیٹا، جو انسانی جذبات اور نفسیات کی ایسی سلطنت تعمیر کرنے والا تھا جس پر وقت کے طوفان بھی اثر انداز نہ ہو سکے۔ اسی دور میں اپریل 1564 میں اسٹریٹفورڈ اپون ایون کے ایک نسبتاً خاموش قصبے میں ایک بچے نے جنم لیا۔ اس کا نام ولیم رکھا گیا۔ اس کے والد جان شیکسپیئر ایک ہنرمند کاریگر تھے جو دستانے بناتے تھے، جبکہ والدہ مریم آرڈن ایک معزز دیہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسٹریٹفورڈ ایک خاموش اور نسبتاً چھوٹا قصبہ تھا، لیکن وہاں زندگی اپنی پوری رنگینی کے ساتھ موجود تھی۔ بازار، میلے، کھیت، چرچ، جھگڑے، محبتیں، امیدیں اور محرومیاں۔۔۔ یہ سب وہ مناظر تھے جنہوں نے شیکسپیئر کے حساس ذہن کو تشکیل دی۔ وہ لوگوں کو صرف دیکھتا نہیں تھا، ان کے چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں بھی پڑھ لیتا تھا۔ یہی صلاحیت بعد میں اس کے فن کی بنیاد بنی۔

اسٹریٹفورڈ کوئی بڑا علمی مرکز نہیں تھا، مگر وہاں زندگی تھی۔ کھیت تھے، بازار تھے، میلے تھے، چرچ تھا، جھگڑے تھے، محبتیں تھیں اور عام لوگوں کے روزمرہ مسائل تھے۔ شیکسپیئر نے اپنی سب سے بڑی تعلیم کتابوں سے نہیں بلکہ انہی مناظر سے حاصل کی۔ اس زمانے کا انگلستان ایک عظیم تبدیلی کے دور سے گزر رہا تھا۔ یورپ میں نشاۃِ ثانیہ کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ قدیم یونان اور روم کے علوم دوبارہ زندہ ہو رہے تھے۔ سمندری مہمات نئی دنیا دریافت کر رہی تھیں اور ملکہ الزبتھ اول کے دور میں انگلستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ مگر اس ترقی کے باوجود عام لوگوں کی زندگی آسان نہیں تھی۔ غربت، بیماری، مذہبی کشمکش اور سیاسی بے یقینی ہر طرف موجود تھی۔ طاعون کی وبائیں بار بار شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھیں اور زندگی کی ناپائیداری ہر شخص کے ذہن پر سایہ کیے رکھتی تھی۔ شیکسپیئر نے بچپن میں مقامی گرامر اسکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں اسے لاطینی زبان، کلاسیکی ادب اور بیان و بلاغت سے شناسائی ہوئی۔ اگرچہ وہ کسی یونیورسٹی میں نہ جا سکا، لیکن زندگی خود اس کی سب سے بڑی درسگاہ ثابت ہوئی۔ وہ لوگوں کو غور سے دیکھتا، ان کے رویوں کا مشاہدہ کرتا اور ان کی گفتگو سے انسانی فطرت کے رنگ اخذ کرتا تھا۔

اٹھارہ برس کی عمر میں اس نے این ہیتھوے سے شادی کی، جو اس سے عمر میں بڑی تھیں۔ جلد ہی اس کے تین بچے ہوئے، جن میں ایک بیٹا ہیمنٹ اور دو بیٹیاں سوزانا اور جوڈتھ شامل تھیں۔ مگر شیکسپیئر کے دل میں ایک بے چینی تھی۔ اسٹریٹفورڈ کی محدود دنیا اس کے خوابوں کے لیے چھوٹی پڑ رہی تھی۔ چنانچہ وہ قسمت آزمانے لندن چلا گیا، اور یہی فیصلہ اس کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔ سولہویں صدی کے آخری برسوں کا لندن ایک متحرک، شوریدہ اور امکانات سے بھرپور شہر تھا۔ یہاں تجارت پھل پھول رہی تھی، جہاز دنیا بھر سے سامان لا رہے تھے، دربار سیاسی سازشوں کا مرکز تھا اور تھیٹر عوامی زندگی کا سب سے مقبول ذریعۂ تفریح بن چکے تھے۔ شیکسپیئر نے ابتدا میں تھیٹر کی دنیا میں معمولی کام کیے، اداکاری بھی کی، مگر جلد ہی اس کی اصل صلاحیت سامنے آ گئی۔ وہ مکالمے ایسے لکھتا تھا جو کرداروں کے دل و دماغ کو زندہ کر دیتے تھے۔
اس کے ابتدائی ڈراموں میں تاریخ، مزاح اور رومانس کا امتزاج ملتا ہے، لیکن جلد ہی اس کے قلم میں غیر معمولی گہرائی پیدا ہونے لگی۔ "رومیو اور جولیٹ" نے اسے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ یہ صرف دو نوجوان عاشقوں کی کہانی نہیں تھی بلکہ محبت اور سماجی تعصبات کے تصادم کی داستان تھی۔ اس ڈرامے نے ثابت کر دیا کہ محبت انسانی تجربے کی سب سے طاقت ور قوتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد "ہیملٹ" آیا، اور شیکسپیئر محض ایک کامیاب ڈرامہ نگار نہیں رہا بلکہ انسانی روح کا مفسر بن گیا۔ ہیملٹ ایک ایسا کردار تھا جو اپنے باطن سے جنگ کر رہا تھا۔ وہ انتقام لینا چاہتا تھا مگر سوچ کے بوجھ تلے دب جاتا تھا۔ اس کا سوال "ہونا یا نہ ہونا" صرف ایک شہزادے کا سوال نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فکری کشمکش بن گیا۔ چار سو برس بعد بھی یہ مکالمہ زندہ ہے، کیونکہ انسان آج بھی انہی سوالات سے دوچار ہے۔

شیکسپیئر کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے کردار مکمل فرشتے یا مکمل شیطان نہیں ہوتے۔ "اوتھیلو" ایک عظیم سپہ سالار ہے، مگر شک اور حسد کا شکار ہو کر اپنی زندگی تباہ کر لیتا ہے۔ "میکبتھ" ایک بہادر جنگجو ہے، مگر اقتدار کی ہوس اسے اخلاقی تباہی تک لے جاتی ہے۔ "کنگ لیئر" ایک طاقت ور بادشاہ ہے، مگر جذباتی کمزوریوں کے باعث اپنی سلطنت اور سکون دونوں کھو دیتا ہے۔ شیکسپیئر نے انسانی فطرت کی ان پیچیدگیوں کو جس مہارت سے پیش کیا، وہ آج بھی حیران کن محسوس ہوتی ہیں۔ گلوب تھیٹر کی 1599 میں تعمیر نے شیکسپیئر کی زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ یہ تھیٹر اس کی تخلیقی سلطنت کا مرکز بن گیا۔ یہاں اس کے ڈرامے پیش ہوتے، ہزاروں لوگ انہیں دیکھتے اور ان کے کردار عوامی شعور کا حصہ بنتے۔ گلوب تھیٹر میں امیر اور غریب ایک ہی ڈرامے پر ہنستے اور روتے تھے۔ یہ فن کی جمہوریت کا ایک شاندار نمونہ تھا۔
مگر زندگی ہمیشہ کامیابیوں کا دوسرا نام نہیں ہوتی۔ 1596 میں شیکسپیئر کے اکلوتے بیٹے ہیمنٹ کی وفات نے اسے اندر سے جھنجھوڑ دیا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ اس سانحے کے بعد اس کی تحریروں میں دکھ اور تنہائی کا رنگ گہرا ہو گیا۔ "ہیملٹ"، "کنگ لیئر" اور دوسرے المیوں میں جو درد اور محرومی محسوس ہوتی ہے، اس کے پیچھے شاید ایک باپ کے غم کی بازگشت بھی شامل ہے۔

شیکسپیئر کا زمانہ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔ ملکہ الزبتھ اول کی وفات کے بعد شاہ جیمز اول برسرِ اقتدار آیا۔ شیکسپیئر کی تھیٹر کمپنی کو شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور اس کا مقام مزید مستحکم ہو گیا۔ مگر اس دوران انگلستان مذہبی اختلافات، سیاسی سازشوں اور معاشرتی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ شیکسپیئر نے ان سب حالات کو اپنے ڈراموں میں کسی نہ کسی صورت سمو دیا۔
  گلوب تھیٹر 1613میں  آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ اگرچہ بعد میں اسے دوبارہ تعمیر کر لیا گیا، لیکن یہ واقعہ شیکسپیئر کے لیے ایک علامتی جھٹکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ لندن کی مصروف زندگی سے دور ہونے لگا اور بالآخر اپنے آبائی قصبے اسٹریٹفورڈ واپس آ گیا۔ وہاں اس نے نسبتاً خاموش زندگی گزاری اور اپنے آخری دن وہیں گزارے۔ اور پھر 1616 کا سال آ پہنچا۔ بہار اپنے پورے جوبن پر تھی۔ درختوں پر نئی کونپلیں نمودار ہو رہی تھیں اور فطرت ایک نئے موسم کا استقبال کر رہی تھی۔ مگر اسی موسم میں شیکسپیئر کی زندگی کا سفر اپنے اختتام کے قریب پہنچ تئیس اپریل 1616 کو شیکسپیئر دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی عمر صرف باون برس تھی۔ اسٹریٹفورڈ کے ہولی ٹرینیٹی چرچ میں اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ بظاہر ایک ادیب کی زندگی ختم ہو گئی تھی، مگر درحقیقت اس کی اصل زندگی اب شروع ہونے والی تھی۔

اس کی وفات کے سات برس بعد اس کے دوستوں نے اس کے ڈراموں کو جمع کرکے "فرسٹ فولیو" کے نام سے شائع کیا۔ یہ ادبی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک تھا۔ اگر یہ مجموعہ شائع نہ ہوتا تو شیکسپیئر کے کئی شاہکار ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتے تھے۔ اسی کتاب نے اس کے ادبی ورثے کو محفوظ کیا اور آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

وقت گزرتا گیا، مگر شیکسپیئر کی اہمیت کم نہ ہوئی۔ یورپ کے بڑے مفکرین، جرمنی کے گوئٹے، انگلستان کے کولرج، روس کے دوستوئیفسکی اور دنیا بھر کے ادیب اس کے معترف رہے۔ جدید نفسیات کے ماہرین نے اس کے کرداروں میں انسانی ذہن کی گہرائی دیکھی، جبکہ ادبی نقادوں نے اس کی زبان، علامتوں اور فکری وسعت کا تجزیہ کیا۔ اردو دنیا بھی شیکسپیئر سے بے نیاز نہ رہ سکی۔ اس کے ڈراموں کے تراجم ہوئے، تھیٹر پر پیش کیے گئے اور نصاب کا حصہ بنے۔ اس کے کردار اردو قاری کے لیے اجنبی محسوس نہ ہوئے، کیونکہ انسانی جذبات کی زبان عالمگیر ہوتی ہے۔ ہیملٹ کا اضطراب، اوتھیلو کا شک، میکبتھ کی ہوسِ اقتدار اور رومیو و جولیٹ کی محبت ہر معاشرے میں سمجھی جا سکتی ہے۔

شیکسپیئر کی اصل عظمت یہی ہے کہ اس نے انسان کو سمجھا۔ اس نے یہ جان لیا کہ سلطنتیں بدل جاتی ہیں، زبانیں بدل جاتی ہیں، زمانے بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے بنیادی جذبات نہیں بدلتے۔ محبت، خوف، حسد، امید، ندامت اور خواب ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے اس کے کردار آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔
تاریخ میں بے شمار بادشاہ گزرے، ان کے محلات کھنڈر بن گئے۔ بے شمار جرنیل آئے، ان کی فتوحات ماضی کی دھول میں گم ہو گئیں۔ بے شمار دولت مند دنیا سے رخصت ہوئے، ان کے خزانوں کا نشان تک باقی نہ رہا۔ مگر اس دستانہ ساز کے بیٹے کے لفظ آج بھی زندہ ہیں۔ اس نے کوئی سلطنت فتح نہیں کی، مگر دلوں کی ایک ایسی سلطنت قائم کر دی جو چار سو برس بعد بھی قائم ہے۔

شاید اسی لیے شیکسپیئر کی کہانی صرف ایک ادیب کی کہانی نہیں، بلکہ انسانی تخلیقی قوت کی داستان ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات قلم تلوار سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے، اور لفظ وقت کے سمندر پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں صدیوں کی موجیں بھی مٹا نہیں سکتیں۔