امریکہ ایران ثالثی سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟

پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر آ جائے تو اطراف میں کچھ مزاج برہم ہو جاتے ہیں۔ اسی برہمی میں اس سوال کی تکرار سامنے آ رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے انہیں ایک معاہدے پر رضامند کر کے پاکستان کو کچھ حاصل بھی ہوا یا اس نے صرف مشقت ہی اٹھائی؟

آئیے اس سوال کا سیدھا، سادہ، آسان اور مختصر جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ عرصے سے  پاکستان کٹہرے میں کھڑا تھا۔ کبھی ایک الزام لگتا تھا، کبھی دوسرا۔ کبھی ایف اے ٹی ایف میں صفائیاں دینا پڑتی تھیں، کبھی دنیا میں اپنے سافٹ امیج کے لیے پریشان ہونا پڑتا تھا۔ اب وہ کٹہرے سے نکلا اور سیدھا ثالث کی مسند فضیلت پر جا بیٹھا۔ اس نے وہ ذمہ داری سنبھال لی جسے بڑی بڑی طاقتوں اور خود اقوام متحدہ میں ہمت نہ تھی کہ ادا کر پاتے۔ اب وہ دنیا کو اپنی صفائیاں نہیں دے رہا تھا، اب وہ دنیا پر منڈلاتی ایک خوفناک جنگ کے سامنے ڈھال بنا کھڑا تھا۔ اب اس کی طرف انگلیاں نہیں اٹھ رہی تھی، اب اس کی جانب نگاہیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔۔ یہ پہلا فائدہ تھا۔

دوسرا فائدہ پاکستان کو یہ ہوا کہ اس نے تنہائی کے مفروضے کو باطل ثابت کر دیا۔ ابھی کل کی بات ہے، یہی ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیتے تو جنوبی ایشیا پر نظر رکھنے والے ماہرین اور تجزیہ کار اس ایک بات پر بالعموم متفق تھے کہ پاکستان اب امریکہ کے لیے اتنا اہم نہیں رہا، وہ بین الاقوامی سیاست میں غیر متعلق ہو چکا ہے۔ کچھ نے تو یہاں تک بھی لکھا کہ عالمی برادری کے لیے پاکستان اب ایک ’بوجھ‘ بن چکا ہے لیکن اس جنگ میں معلوم ہوا کہ پاکستان ہی تو اہم تھا۔ جب ایک تہذیب کو تباہ کرنے کی باتیں ہونے لگیں تو پاکستان ہی امن کا پرچم تھام کر نکلا۔ جو انڈیا اپنے تئیں پاکستان کو جنوبی ایشیا کے سیاسی منظر نامے سے ’مائنس‘ کر چکا تھا، اسی انڈیا کے سفارت کار اور تزویراتی امور کے ماہرین دہائی دینے لگے کہ پاکستان تو مرکز و محور بن گیا۔

تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سیاست میں اپنا آپ منوا لیا۔ پاکستان نے اس جنگ کو ایران اور عرب کی جنگ میں بدلنے سے روک لیا۔ اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن پاکستان نے ٹرمپ کو جنگ بندی کے لیے قائل کر لیا۔ پاکستان نے اسلامی دنیا کو بھی بتا دیا کہ اس کی کیا حیثیت ہے۔ اس سے پہلے امن اور مذاکرات کا مرکز قطر ہوتا تھا۔ اب پاکستان ہے۔ خود قطر کے وزیر خارجہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مرکزی حیثیت اور ثالثی پاکستان ہی کر رہا تھا، باقی صرف معاون تھے۔

اس دورانیے میں امریکی صدر نے جتنی بار پاکستانی قیادت کی تعریفیں کیں، یہ ایک الگ باب ہے۔ اگر کسی کو اب بدلتے منظر نامے کی افادیت سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو اس منظرنامے کو بیٹھ کر ’موناٹائز‘ کر لے اور خود دیکھ لے اس کے ساتھ کتنے امکانات جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی اصول تھا کہ سعودی عرب ہمارا انتہائی قریبی دوست ہے، مرکز عقیدت ہے، اس سے تو ہم دور رہ نہیں سکتے اور ایران ہمارا پڑوسی ہے، برادر ملک ہے اس کو بھی ہم نے ناراض نہیں کرنا، ایک توازن برقرار رکھنا ہے۔

یہ جنگ اس پالیسی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔ ہم اس جنگ میں خیر خواہ بن گئے اور ہم نے کہہ دیا کہ سب کے لیے اس خیر خواہی کے باوجود سعودی عرب کو ہماری ریڈ لائن سمجھا جائے۔ چنانچہ چوتھا فائدہ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی سفارت کاری کے ایک بنیادی اصول کو مشکل ترین وقت میں کامیابی سے آزما لیا۔ مسلم دنیا میں ایران کا سب سے بڑا خیر خواہ اس وقت پاکستان ہی ہے اور سعودی عرب کا سب سے قریبی اتحادی بھی پاکستان ہی ہے۔

پانچواں فائدہ یہ ہوا کہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر ہم نے تزویراتی اور سفارتی تعلق کو ایک نئی جہت دے ڈالی۔ ہم ساتھ کھڑے تھے، یک جان دو قالب تھے۔ سب کو پیغام جا چکا تھا۔ چنانچہ اس باہمی اتحاد ہی کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ جب ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے ایک مطالبہ کیا تو پاکستان اور سعودی عرب نے بیک آواز ہو کر کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے بغیر اسرائیل سے تعلق ممکن ہی نہیں۔ موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں یہ معمولی کامیابی نہیں ہے۔ یہ مسلم دنیا کی ایک سفارتی اور تزویراتی نشاۃ ثانیہ ہے۔ اس کے ثمرات آگے چل کر دکھائی دیں گے لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ وہ غیر معمولی ہوں گے۔

چھٹا فائدہ یہ ہوا کہ ایران اور ہمارے تعلق کو ایک نئی جہت ملی۔ ہم اور قریب ہوئے۔  ایرانی پارلیمان میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے۔ اس کے ساتھ بہت سی تزویراتی تبدیلیاں جڑی ہوئی ہیں۔ ایران کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے۔ اس سرحد پر اب دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔

رجیم چینج ہو جاتا تو یہاں اسرائیلی پراکسی آ بیٹھتی۔ اب یہاں ہمارے دوست ہیں۔ بلوچستان میں جاری شورش اور دہشت گردی سے نمٹنا اب پاکستان کے لیے پہلے سے کچھ زیادہ آسان ہوگا۔ 

ساتواں فائدہ یہ ہے ایران سے پابندیاں نرم ہوتی ہیں اور وہ عالمی برادری کے اجتماعی معاشی نظام سے منسلک ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے معاشی امکانات کا جہان آباد ہو سکتا ہے۔ گیس اور تیل سے پاکستان کی معیشت کھڑی ہو سکتی ہے۔ جب باہمی تجارت بڑھے گی تو ڈالر کی کمی کا بحران کم ہو گا۔ معیشت کا ایک پورا جہاں ہے جو سامنے کھڑا ہے۔ صرف گیس پائپ لائن پراجیکٹ ہی مکمل کر لیا جائے تو توانائی کا بحران قابو میں آ جائے۔ ایران کے راستے پاکستان وسط ایشیا کی منڈیوں تک وہ رسائی بھی حاصل کر سکتا ہے جو افغانستان کے راستے حاصل کرنے میں مشکلات ہی رہیں۔ یہ ایک متبادل تجارتی راہداری بن سکتا ہے۔

خدشات اب بھی ختم نہیں ہوئے،  لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے لیے اب منظر نامہ بالکل بدل چکا ہے۔ پاکستان کے سامنے اب امکانات کا ایک غیر معمولی جہان آباد ہے۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)