جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائی سے 15 افراد ہلاک، 4اسرائیلی فوجی مارے گئے
جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران چار فوجییوں کی ہلاکت کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج ک وبھرپور کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے ایران امریکہ معاہدے کے تحت لبنان میں جنگ بندی ہونی چاہئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق فوجیوں کی ہلاکتیں جمعرات کی شب ہوئیں۔ اسرائیلی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی صبح ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر شدید زخمی جبکہ تین ریزرو نان کمیشنڈ افسران اور ایک نان کمیشنڈ افسر معمولی زخمی بھی ہوئے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے بھی جمعے کو بتایا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع قصبوں شرقیا، حروف، کفر رمان، کفر جوز اور کفر صیر پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد کھلی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ حزب اللہ نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پابند نہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گیور نے جمعے کے روز لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کے بعد کہا کہ ’پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔‘ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکیوں کے احترام کے ساتھ، اسرائیل کو پوری دنیا پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ ہمارے بچوں کے خون اور ہمارے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔‘
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر امید ظاہر کی کہ ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملے کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کہا اور لکھا کہ ’پچھلی رات میں نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ حزب اللہ پر حملہ کرے۔‘ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے 80 سے زیادہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے تنظیم کے درجنوں ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور ان حملوں کی قیمت حزب اللہ کو چکانا پڑے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ آج صبح انہوں نے اپنے ملک کے وزیر دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف کے ساتھ جنوبی لبنان میں کارروائیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ’جب تک شمالی بستیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو، اسرائیل جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون میں رہے گا۔‘