جے ڈی وینس کا اسرائیل کو انتباہ

  • جمعہ 19 / جون / 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ اسرائیل امریکی ہتھیاروں کی بنیاد پر جنگ جوئی میں ملوث ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دُنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتا۔ پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا اُن میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انہیں امریکی ہنرمندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے۔‘

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کا جواب دے رہے تھے۔ جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ اُنہیں اسرائیلی وزرا کے بیانات دیکھ کر بُرا لگتا ہے کہ وہ ایسے ملک کے سربراہ (ٹرمپ) کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اُن سے ہمدردی رکھتا ہے اور دُنیا کی سپر پاور کا سربراہ ہے۔

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’گو کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اس راستے پر نہیں چلے لیکن میں اُن وزرا کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو صدر ٹرمپ کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ اُنہیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور صدر ٹرمپ پر تنقید کے بجائے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔‘

جے ڈی وینس کی جانب سے یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب بعض اسرائیلی وزرا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر تنقید کر رہے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ’ہم ٹرمپ کے اُس معاہدے کے پابند نہیں جو ہماری قومی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اِس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل اور اُس کے وزیر اعظم کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بیروت میں اسرائیلی کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کسی ایک شخص کو ڈھونڈنے کے لیے ہر بار پوری عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘ وہ لبنان میں اسرائیل کے طرزِعمل سے خوش نہیں۔ اگر اسرائیل سب کو مارے بغیر یہ کام ختم نہیں کر سکتا تو پھر کوئی اور کرے گا، شام یہ کرے گا۔

اس سے پہلے بھی امریکی صدر اپنے بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر اور پھر امریکی نائب صدر کی اسرائیل پر تنقید کو بعض ماہرین دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج قرار دے رہے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور جنگ بندی تک دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی تھی، تاہم اپریل میں جنگ بندی اور اس دوران مذاکرات اور اب 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اسرائیل نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس معاہدے میں فریق نہیں اور لبنان پر اس کے حملے جاری ہیں۔ گزشتہ شب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب الله سے منسلک 80 اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کے ’درجنوں‘ ارکان کو ہلاک کیا۔

یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں تنازع ختم کرنے کے مقصد سے ایک معاہدے پر دستخط کے ایک روز بعد ہوئے ہیں۔ اس معاہدے میں لبنان میں مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی افواج نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس نے اصرار کیا ہے کہ حزب الله کے ساتھ اس کا تنازع ایران کے خلاف جنگ سے الگ ہے۔ ادھر حزب الله نے عہد کیا ہے کہ جب تک دراندازی جاری رہے گی وہ اپنے حملے جاری رکھے گا۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اندرونِ ملک اس مسلح گروہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دباؤ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹکراؤ کی طرف لے جا سکتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور اس میں موجود شرائط پر اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے مفاہمتی یادداشت پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم جمعرات کی شام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم نے غزہ سے متصل علاقوں میں سلامتی اور خوشحالی کو بحال کیا، اسی طرح ہم شمالی اسرائیل کے شہروں اور دیہات میں بھی امن یقینی بنائیں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی بفر زون کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم وہاں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔