امریکہ کی ہزیمت، ایران کی سرخروئی اور اسرائیل کی پریشانی
- تحریر فہیم اختر
- جمعہ 19 / جون / 2026
غرور اور طاقت کا نشہ تاریخ میں بارہا بڑی سلطنتوں کے زوال کا سبب بنا ہے۔ نپولین کی روس پر چڑھائی سے لے کر جرمنی کے سوویت یونین پر حملے تک، حکمرانوں نے اپنی عسکری برتری کو دائمی سمجھا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ طاقت کا غرور اکثر شکست کی تمہید بنتا ہے۔ آج بھی یہی سبق عالمی سیاست میں نظر آتا ہے۔
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دباؤ اور طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی تو حالات نے یہ دکھایا کہ ہر قوم کو جھکانا ممکن نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقتور خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتے ہیں تو غرور حقیقت پسندی پر غالب آ جاتا ہے، اور یہی لمحہ زوال کے سفر کا آغاز بن جاتا ہے۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ طاقت کے نشے کے بجائے حقائق کو تسلیم کیا جائے، کیونکہ تاریخ کے اوراق میں غرور کی داستانیں بہت ہیں مگر ان کا انجام اکثر عبرت ناک ہی رہا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمت کی یادداشت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس معاہدے کی شرائط کو سامنے رکھا جائے تو بظاہر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جس ایران کو فوجی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی، وہ نہ صرف اپنی جگہ قائم رہا بلکہ کئی اہم معاملات میں اپنی شرائط منوانے میں بھی کامیاب دکھائی دیتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور معاشی گھیراؤ کے نتیجے میں تہران کی حکومت کمزور پڑ جائے گی یا پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ لیکن نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ خطے میں اس کی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی توانائی کی سپلائی کے ایک بڑے حصے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت نے واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر آنے اور کئی اہم رعایتیں دینے پر مجبور کیا۔
معاہدے کے مطابق پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور تیل کی برآمدات کے لیے راستے کھولنے جیسے اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکہ کو اپنی سابقہ سخت پالیسی سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ چند ماہ قبل تک واشنگٹن ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھا، لیکن آج وہی امریکہ مفاہمت اور رعایتوں کی زبان بولتا دکھائی دیتا ہے۔اس معاہدے کا سب سے بڑا سیاسی دھچکا اسرائیل کو لگا ہے۔ اسرائیلی قیادت طویل عرصے سے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف کی حامی رہی ہے اور وہ چاہتی تھی کہ تہران کو مزید دباؤ کے ذریعے کمزور کیا جائے۔ تاہم اگر امریکہ نے ایران کے ساتھ سمجھوتے کا راستہ اختیار کیا ہے تو اس سے اسرائیل کی بعض علاقائی ترجیحات متاثر ہونا ناگزیر ہے۔ لبنان اور خطے کے دیگر معاملات پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
تاہم ایک اہم سوال اپنی جگہ برقرار ہے: کیا امریکہ اور اسرائیل پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ امریکہ نے ماضی میں متعدد معاہدوں اور وعدوں کو بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے مطابق تبدیل کیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل بھی اپنے قومی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔ لہٰذا ایران کے لیے یہ دانش مندی نہیں ہوگی کہ وہ اس معاہدے کو مستقل ضمانت سمجھ لے۔ایران نے اس مرحلے پر ثابت کیا ہے کہ دباؤ کے باوجود وہ اپنی بنیادی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹا اور اس نے اپنی اسٹریٹجک طاقت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ لیکن ساتھ ہی اسے یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں میں تبدیلی کسی بھی وقت ممکن ہے۔ اس لیے اعتماد کے بجائے ہوشیاری، طاقت کے توازن اور قومی مفادات کا تحفظ ہی مستقبل کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
یہ معاہدہ وقتی طور پر ایران کے وقار، استقامت اور سفارتی کامیابی کی علامت بن سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کے لیے ایک سیاسی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں کسی بھی فریق کے لیے مکمل اطمینان کی گنجائش نہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں جذبات نہیں بلکہ محتاط حقیقت پسندی کو رہنما اصول بنانا چاہیے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مفاہمت کی یہ یادداشت کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کا آغاز ہے جس کے اختتام پر شاید ایک جامع جوہری سمجھوتہ وجود میں آئے۔ فی الحال دونوں فریق صرف اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ تاہم اس یادداشت میں ایران کے لیے اہم ترغیبات موجود ہیں، جن میں پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کے امکانات شامل ہیں۔ یہ سب کچھ آئندہ ساٹھ روزہ مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے، جن میں توسیع بھی ہو سکتی ہے کیونکہ معاملات نہایت پیچیدہ اور حساس ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے اور دونوں جانب ایسے حلقے بھی سرگرم ہیں جو اس عمل کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے سخت گیر عناصر، امریکہ کے بعض سیاسی دھڑے اور ایران کے اندر موجود مخالف آوازیں کسی بھی پیش رفت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس کے باوجود اگر ایران اور امریکہ ایک ایسا جوہری معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو اور جس پر عملی طور پر عملدرآمد بھی ہو، تو یہ صرف دو ممالک کے تعلقات میں بہتری کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے منظرنامے کو بدل سکتا ہے۔ تاہم یہ منزل ابھی دور ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے طویل، صبر آزما اور کٹھن مذاکرات کا مرحلہ درپیش ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار باہمی اعتماد، سفارتی حکمتِ عملی اور علاقائی استحکام کے فروغ پر ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ نہ صرف ان کے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن، سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور مستقبل میں تعاون اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھیں۔اس کے ساتھ یہ امر بھی اہم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں اور فوجی اقدامات پر نظرِ ثانی کرے، کیونکہ خطے میں کشیدگی اور تنازعات کے تسلسل سے پائیدار امن کا قیام مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بھی اپنی پالیسیوں اور حمایت کے اثرات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو علاقائی عدم استحکام کو بڑھاتے ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی اور دیرپا امن اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق بین الاقوامی قوانین، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں کی پاسداری کریں۔