سفارتی کامیابی کے بعد وزیر اعظم قومی مسائل پر بھی توجہ دیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 19 / جون / 2026
ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت کے بعد اب وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومت پاکستان کے لیے اندرون خانہ معاملات دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ذریعے عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایسے چھوٹے اقدامات موجودہ حکومتی نظام پر اعتماد بحال یا ملک میں تنازعہ اور تصادم کی موجودہ صورت حال ختم نہیں کرسکیں گے۔
مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگی جھڑپوں میں کامیابی کے موقع پر پاکستانی عوام میں تقسیم کے جو رجحانات نوٹ کیے گئے تھے، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی اور ریجن میں امن کی بحالی کے لیے وزیر اعظم اور آرمی چیف کی شاندار خدمات کے دوران ان میں شدت محسوس کی گئی ہے۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے موقع پر حکومتی دعوؤں اور فوجی کامیابی کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کا رجحان موجود تھا، بعینہ ایران امریکہ جنگ میں ثالثی اور اس خطرناک تصادم کو رکوانے میں کردار ادا کرنے کے معاملہ پر بھی پاکستانی رائے عامہ میں گہری تقسیم اور شبہات کے سائے محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مئی کے دوران پاکستان نے بھارت کی فوجی جارحیت کے خلاف جو شاندار کامیابی حاصل کی تھی، اس کا اعتراف پوری دنیامیں کیا جاچکا ہے۔ اس بارے میں کوئی شبہ موجود نہیں ہے کہ اس تنازعہ میں کون جارح تھا اور کس نے کامیابی سے اپنا دفاع کرکے دشمن فوج کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔ یہ مباحث اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہیں دہرانے سے نہ پاکستان کی قامت میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کوئی مدد مل سکے گی۔ تاہم یہ بات سبق آموز ہونی چاہئے کہ پاکستانی رائے عامہ میں اس معاملہ پر اتفاق رائے موجود نہیں تھا، حالانکہ بھارت جیسے دشمن اور جارح قوم کے مقابلے میں پاکستان کی کامیابی پر پوری قوم کو ہم آواز ہوکر سر فخر سے بلند کرنا چاہئے تھا۔ کچھ مبصرین نے بجا طور سے اس قسم کی منفی رائے پر تبصرے کرتے ہوئے واضح بھی کیا کہ قومیں ایسے مواقع پر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کرنے یا خود ہی کو نیچا اور گھٹیا سمجھنے کی بجائے ، اس کامیابی کا کریڈٹ لے کر سربلند ہوتی ہیں جو افواج پاکستان کی ذہانت اور عمدہ جنگی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کو حاصل ہؤا تھا۔ البتہ اس سرزنش کے باوجود اس حقیقت سے گریز نہیں کیا جاسکتا کہ اس جنگ میں پاکستان کی کامیابی اور فوج کی شاندار عسکری کارکردگی کو اگر ایک بڑے طبقے نے سراہا تو دوسری طرف ایک ایسا گروہ موجود تھا جو اس بارے میں شبہات پیدا کرنے اور پاکستانی فوج کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہا۔
یہی صورت حال گزشتہ دو ماہ کے دوران پاکستانی قیادت کی شاندار سفارتی کامیابیوں کے بارے میں دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعظم ، ان کی ٹیم اور آرمی چیف نے دن رات ایک کرکے امریکہ اور ایران کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کرنے پر آمادہ کیا۔ پاکستان کے لیے یہ کریڈٹ کسی اعزاز سے کم نہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ثالث یا ضامن کے طور پر دستاویز دستخط ثبت کیے ۔ یہ پاکستانی لیڈروں کی دن رات محنت اور شاندار مفاہمانہ سفارت کاری کو خراج تحسین کے مترادف ہے۔ ٹرمپ اور پزشکیان نے پاکستانی لیڈر کے ہمراہ اس قیمتی امن دستاویز پر دستخط ثبت کرکے درحقیقت پاکستان کی خدمات کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ مفاہمتی یادداشت کو ان خدمات اور کوششوں کا سرٹیفکیٹ بنا دیا۔ اس کے باوجود دیکھا گیا کہ مسلسل اس امر کو پاکستان کی ناکامی قرار دینے کی کوشش کی گئی کہ بدھ کو الیکٹرانک دستخط ہوجانے کے بعد متعدد وجوہ کی بنا پر سوٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی تقریب منسوخ ہونے یا ایران امریکہ کے مذاکرات کا آغاز نہ ہونے کو پاکستانی کی ’ناکامی‘ سے محمول کیا گیا۔ ایسے عناصر بھی سوشل میڈیا پر سرگرم دکھائی دیے جن کا دعویٰ تھا کہ اصل ثالثی تو قطر نے کی ہے ، ایران یا امریکہ پاکستان کی کوئی عزت نہیں کرتے۔ ایسا افسوسناک رجحان قومی وقار کے منافی ہے۔ اس سے وہ قومی اتحاد موجود نہ ہونے کی خبر ملتی ہے جس کی اہم معاشی و سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی بھی قوم کو شدید ضرورت ہوتی ہے۔
وزیر اعظم اور آرمی چیف کی شاندار خدمات کے اس اعتراف کے بعد البتہ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ جنگ میں کامیابی یا سفارتی کارکردگی سے پاکستان کو درپیش حقیقی مسائل ختم نہیں ہوتے۔ ایسی کامیابیاں ضرور مسائل حل کرنے میں معاونت فراہم کرسکتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیڈروں کی توجہ محض بیان بازی اور کریڈٹ لینے تک محدود نہ رہے بلکہ وہ مسائل کو سمجھنے کا عندیہ دیں اور ان کے حل کا عزم ظاہر کریں۔ صرف سیاسی بیانات یا دعوے مسائل کا حقیقی حل تجویز نہیں کرتے۔ اسی لیے وزیر اعظم شہباز شریف سے دست بستہ گزارش کرنا ضروری ہے کہ سرحدوں کی کامیاب حفاظت اور سفارتی میدان میں جھنڈے گاڑ دینے کے بعد اب قومی مسائل کی طرف توجہ مبذول کریں اور ان کا حل تلاش کیا جائے تاکہ عوام کو احساس ہوسکے کہ حکومت اپنے عوام کی ضرورتوں کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرکے عوام کی خدمت کا سہرا اپنے سر باندھنے کی جو کوشش کی ہے، وہ پوری طرح سے قابل فہم نہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ زیادہ ہوگئی تھیں، اب یہ قیمت کم ہو رہی ہے تو اس میں فطری طور سے کمی واقع ہورہی ہے۔ حکومت اس میں کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے رہی۔
اس کے علاوہ یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ملک کے معاشی معاملات گوناں گوں اور تہ دار مسائل کا صرف ایک پہلو ہیں۔ تمام معاملات کو بیک وقت سمجھنے اور ان کا حل تلاش کیے بغیر معاشی بہتری کا راستہ بھی ہموار نہیں ہوسکتا۔ ان مسائل میں دہشت گردی، آزاد کشمیر میں بے چینی، سیاسی پارٹیوں میں اعتماد و احترام کی کمی اور بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاملہ شامل ہے۔ بھارت نے دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کی تقسیم کا اصول طے کرنے والے سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا ہؤا ہے اور سیاسی طور سے نریندر مودی حکومت کا یہ مؤقف اب واضح کیاجاچکا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے بہنے والے کسی دریا کا پانی پاکستان کو دینے پر تیار نہیں ہے۔ بھارت اگر اس دعوے پر عمل درآمد کرنے کے قابل ہوگیا تو یہ پاکستانی خطے میں رہنے والے لوگوں پر زندگی تنگ کرنے کے مترادف ہوگا۔
اس لیے اس سیاسی بیان کو محض بیانات سے نمٹنے کی بجائے حکومت کے پاس ٹھوس منصوبہ ہونا چاہئے۔ اس منصوبہ کے تحت واضح کیا جائے کہ پاکستان، بھارتی حکومت کو کیسے ان عزائم سے باز رکھے گا ۔ اس کے ساتھ پاکستان میں پانی کی ضروریات پوری کرنے اور بین الصوبائی تقسیم کے معاملات طے کرنے کے لیے آبی وسائل محفوظ بنانے اور تلاش کرنے کی کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستانی حکومت ،عوام کے علاوہ عالمی برادری پر واضح کرے کہ بھارت کی یک طرفہ واٹر پالیسی کے کیا خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور پاکستان کیسے اس کا جواب دینے کی سکت رکھتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ حکومتی نظام میں کسی نہ کسی سطح پر ایسی کوئی منصوبہ بندی ہورہی ہو لیکن اگر پاکستانی عوام کو اس کی اطلاع نہیں ملتی تو ان کی بے چینی میں اضافہ بھی فطری ہے ۔ اس کے علاوہ سیاسی مخالفین کو بھی اس معاملہ پر رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور ایک علیحدہ سیاسی ایجنڈا عام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ اس افتراق سے پہلے حکومت کو اشتراک کا کوئی راستہ تلاش کرلینا چاہئے۔
قومی اتفاق رائے یا عام طور سے قابل قبول بیانیہ کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی تصادم کی کیفیت ختم ہو ۔ بدقسمتی سے ملک میں سیاسی اختلافات محض پالیسیوں کے فرق تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ بداعتمادی کی شدید صورت اختیار کرچکے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف تو خیر اس حکومت یا اس کے مینڈیٹ کو ماننے پر ہی آمادہ نہیں ہیں لیکن حکومت کا ساتھ دینے والی پارٹیاں جن میں پیپلز پارٹی سر فہرست ہے، موقع بے موقع اپنی ناراضی واضح کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ اختلاف میڈیا کی زینت بننے کے بعد حکومت ’فائر فائیٹنگ‘ قسم کا طریقہ اختیار کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ مسائل حل کرلیے گئے ہیں لیکن درحقیقت مسائل کو منظر عام سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ وزیر اعظم کو اس پہلو پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ ایسے پیچیدہ مسائل کیسے حل کیے جائیں؟
اسی طرح عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی مسلسل حراست کا معاملہ انہیں نظر انداز کرنے سے حل نہیں ہوسکے گا۔ اگر گزشتہ چند ماہ سے ایران کے خلاف جنگ اور عالمی حالات کی وجہ عمران خان کا مسئلہ میڈیا میں موجود نہیں ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ معاملہ طے ہوچکا ہے یا عمران خان کی پارٹی کی سیاسی حمایت ختم ہوگئی ہے۔ ایسی غلط فہمی سے حکومت معاملات طے کرنے میں ناکام ہوسکتی ہے۔ ملک وقوم کا مفاد اس میں پوشید ہ ہے کہ حکومت اس اہم سیاسی تنازعہ کو فراموش کرنے کی بجائے اسے حل کرنے کے لیے اقدام کرے۔ عمران خان تین سال سے زائد مدت سے جیل میں بند ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود 6 ماہ سے ان کے وکلا و اہل خاندان کو ملاقات سے روکا جارہا ہے۔ ایسے یک طرفہ اور شدت پسندانہ انتظامی اقدامات ملک میں سیاسی ہم آہنگی کو شدید متاثر کررہے ہیں۔
بدقسمتی سے وزیر اعظم نے اس پہلو پر توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔ اب عالمی سفارت کاری میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد انہیں ملکی معا ملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کام کرنا چاہئے۔