حیرانی اور پریشانی کے درمیان
- تحریر خالد مسعود خان
- ہفتہ 20 / جون / 2026
میں جب نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے باہر آیا تو ہمدمِ دیرینہ جمع برادرِ خورد ندیم سعید میرا منتظر تھا۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ندیم سعید نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز ایک انگریزی اخبار سے کیا۔ اس کی پہلی جاب ملتان میں تھی۔
چند سال اس انگریزی اخبار کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ بی بی سی کو پیارا ہوگیا اور لندن جا پہنچا۔ بی بی سی سے اپنے بین الاقوامی صحافتی کیریئر کا آغاز کرنے والا ندیم سعید بعد ازاں دنیا کے دیگر دوتین مشہور صحافتی اداروں سے منسلک رہا اور آج کل نیویارک میں اقوام متحدہ میں اردو سیکشن کے خبرنامے کا مدار المہام ہے ۔
اقوام متحدہ کے میڈیا سیکشن کے زیر انتظام دس زبانوں پر مشتمل خبرناموں کا اجرا کیا جاتا ہے۔ ان دس میں سے چھ بڑی زبانوں کو بطور آفیشل لینگویجز تصور کیا جاتا ہے۔ بڑی زبانوں میں ان کو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی جغرافیائی وسعت کو بھی زیر نظر رکھا گیا ہے۔ ان چھ زبانوں میں انگریزی، ہسپانوی،فرانسیسی،چینی،روسی اور عربی شامل ہیں۔ ان چھ میں سے روسی زبان کو تو سوویت یونین کی اُس وقت کی طاقتور حیثیت کی وجہ سے یہ درجہ حاصل ہوا تھا جبکہ عربی کو ایک وسیع جغرافیائی خطے کی زبان کے طور پر جس میں سارا مشرقِ وسطیٰ اور پورا شمالی افریقہ شامل ہے، کی وجہ سے یہ مقام ملا۔ چینی (مینڈرین) زبان بلا شبہ اس وقت روئے ارض پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ انگریزی نوآبادیاتی ماضی کے سبب اب دنیا بھر میں باہمی رابطے کی سب سے مقبول اور مستعمل زبان ہے۔ فرانسیسی اور ہسپانوی زبان بھی اپنے استعماری پس منظر کے باعث دنیا کے بہت سے خطوں میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی ہیں بلکہ دوردراز کے بہت سے ممالک کی سرکاری زبانیں بھی ہیں۔
دیگر چار جزوی زبانوں میں اردو، ہندی، پرتگیزی اور سواحلی ( افریقن ) زبانیں شامل ہیں۔ ندیم سعید گزشتہ تین چار سال سے اقوام متحدہ کے اردو خبرنامے اور اس سے وابستہ معاملات کا سربراہ ہے۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے کبھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم کافی عرصے کے بعد ملے ہیں۔ گفتگو کا آغاز اس صورت سے پرانی یادوں سے جڑ کر نئی صورتحال پر آتا ہے کہ لمحوں میں درمیانی وقفہ گویا غائب سا ہو جاتا ہے۔ امریکہ جانے کا پروگرام بنا تو کومل نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں اُتریں گے ؟ میں نے کہا :نیو یارک۔ وہ کہنے لگی کہ نیو یارک کیوں؟ میں نے کہا :ندیم سعید کو ملنا ہے۔ وہ کہنے لگی: اب یہ امریکہ میں آپ کا کون سا نیا دوست آگیا ہے ؟ اُس کا خیال ہوتا ہے کہ اگر میں امریکہ آیا ہوں تو مجھے سب سے پہلے اسی کے پاس آنا چاہیے۔ اس کا یہ خیال منطقی طور پر بالکل درست ہے۔
شروع میں اس نے میرے امریکہ پہنچ کر اس سے پہلے دوستوں کے ہاں جانے پر احتجاج کیا تو میں نے کہا:باپ اور بیٹی کی محبت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن میں تمہارے امریکہ آنے سے پہلے اپنے انہی دوستوں کے ساتھ وقت گزارا کرتا تھا اور اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں یہ کہوں کہ میں آپ کے پاس اس لیے نہیں آ سکتا کہ اب میری بیٹی امریکہ آ گئی ہے۔ کومل کو یہ بات سمجھ آ گئی ۔ تاہم اُس نے مجھے کہا کہ آپ مجھے بتا دیں کہ آپ کے کتنے دوست ہیں جو اس ترجیحی فہرست میں شامل ہیں۔ میں نے کہا: یہ کل چار دوست ہیں۔ ایک لاس اینجلس میں مقیم شفیق ہے ایمرسن کالج سے لے کر بہاالدین زکریا یونیورسٹی تک ہم ایک ساتھ رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پہ میاں چنوں والا برادرِ خورد خالد منیر،تیسرے پہ ہمارے ملتان کے برادرِ بزرگ اعجاز احمد اور چوتھے پر نیو یارک میں مقیم نہایت عمدہ شاعر اور بہت ہی شاندار دوست شوکت فہمی ہے۔ پھر یوں ہوا کہ شوکت فہمی مستقل پاکستان شفٹ ہو گیا اور چار کی فہرست سکڑ کر تین پر چلی گئی۔
ندیم سعید کچھ عرصہ پہلے لندن چھوڑ کر نیویارک آ گیا۔ کومل کو اس نئی انٹری کا علم نہیں تھا ۔اس نے پوچھا کہ یہ ندیم سعید اب درمیان میں کہاں سے آ گئے؟ تو میں نے اسے یاد دلایا کہ قرب اڑھائی عشرے قبل تم نے اور تمہاری دونوں بہنوں نے سندباد ہوٹل ملتان میں ایک سرامکس کی ورکشاپ کی تھی۔ ماضی میں جھانک کرکومل کی آواز ایک دم خوشی سی جھلکی۔ اُس نے کہا ہاں ہم تینوں نے وہ ورکشاپ کی تھی۔ وہ بڑی زبردست اور مزیدار ورکشاپ تھی۔ میں نے کہا: اس ورکشاپ میں جو آپ کی ٹیچر تھیں وہ آپ کو یاد ہیں، اُس نے کہا :بالکل یاد ہیں بہت اچھی طرح یاد ہیں۔ میں نے کہا :وہ ندیم سعید کی مسز ہیں تو اسے سب کچھ یاد آیا۔ پوچھنے لگی کہ انکل تو لندن میں تھے یہاں کب آئے ہیں ؟ میں نے کہا: انکل کو یہاں آئے ہوئے تین سال سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن میں اس دوران اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے نیویارک نہ جا سکا تاہم میں نے اس بار پروگرام بناتے ہوئے طے کر لیا تھا کہ میں پہلے نیویارک اتروں گا۔
سو میں ندیم سعید کے پاس تھا۔ ہم دونوں عموماً پاکستان کی سیاست کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔ وہ اس لیے کہ پاکستانی سیاست کو ندیم بھی اچھی طرح جانتا ہے اور میں بھی۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستانی سیاست پر گفتگو ایک لاحاصل بحث اور فضول تجزیہ ہے جو ہم دانشور بننے کے زعم میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کسی قاعدے، ضابطے، اصول، آئین، اقدار اور اخلاق کسی چیز کی نہ تو پابند ہے اور نہ ان حوالوں سے چلتی ہے۔ تو اس پر اندازے لگانا، بحث کرنا،تجزیے کرنا، نتائج نکالنا اور دانشوری بگھارناسب کچھ کارِ لاحاصل اور وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس دوران میں ندیم سے ان چیزوں کے بارے میں سنتا ہوں جسے ہم بین الاقوامی سیاسی منظرنامہ کہہ سکتے ہیں ۔ندیم عالمی حالات سے آگاہ رہتا ہے اور یہ اس کی بین الاقوامی سطح کی صحافتی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ضرورت بھی ہے۔ اس دوران میں نے سب سے پہلے اس کے دفتری معاملات اور اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اردو سیکشن میں کتنے افراد کام کر رہے ہیں؟ اس نے بتایا کہ ایک وہ ہے اور اس کے ساتھ دو معاونین ہیں تاہم بنیادی طور پر جسے آفیسر کی نشست کہا جا سکتا ہے، وہ صرف ایک ہی ہے۔
بعد ازاں جب دیگر زبانوں کے سیکشنز کا ذکر ہوا تو ندیم سعید نے بتایا کہ ہندی سیکشن میں کافی زیادہ لوگ کام کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت اقوامِ متحدہ میں ہندی زبان کے سیکشن کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے نہ صرف اس کی سرپرستی کرتی ہے بلکہ ہندی سیکشن کے ملازمین کی تنخواہوں اور بعض دیگر مالی معاملات میں معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس نے اردو سیکشن کی تعداد میں اضافے کیلئے ایک تجویز پیش کی تو اسے جواب دیا گیا کہ اگر پاکستان کی حکومت اردو سیکشن کیلئے ایک بندہ سپانسر کرے تو اقوامِ متحدہ بھی اپنے وسائل سے ایک اضافی فرد فراہم کر دے گی ،اس طرح یہ مجموعی تعداد تین ہو سکتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس سلسلے میں پاکستان کے قونصل خانے سے بات ہوئی تو وہاں سے جواب ملا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ وزارتِ اطلاعات سے متعلق ہے۔ یوں یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
المیہ یہ کہ ہماری حکومتی ترجیحات ریاست کے بجائے ذاتیات کو سامنے رکھ کر طے کی جاتی ہیں۔ ہم ایسی ایسی فضول جگہ پر سرکاری پیسہ لٹاتے ہیں کہ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے اور ایسی ایسی اہم جگہوں پر بچت کرتے ہیں کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے۔ ہم ایک عرصے سے اسی حیرانی اور پریشانی کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)