جنہاں بالے دیوے بجھے!
- تحریر سہیل وڑائچ
- ہفتہ 20 / جون / 2026
آج فخر و انبساط اور مسرت کا دن ہے۔ چہار دانگ ِ عالم میں میرے پاکستان کا چرچا ہے۔ ہر کوئی حیران ہے کہ کل کا دہشت گرد، ڈیفالٹ زدہ اور کمزور ملک عالمی بساط پر اس قدر اہم تعمیری اور مثبت کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟
پرائے حیران ہیں تو بات سمجھ آتی ہے، اپنے بھی پریشان ہوں تو سمجھ نہیں آتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ملک میں قنوطیت اور مایوسی کا راج ہے، ہر وہ شخص بڑا دانشور ہے جو مادر وطن کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے نتیجہ تباہی تک لیکر جاتا ہے۔ دراصل ہمارے ملک میں تباہی خوشحالی سے زیادہ بکتی ہے، اس لئے مایوسی فروشوں کی اندرون اور بیرونِ ملک تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ آج مجھے پنجاب کے لافانی شاعر اور تا ابد زندہ رہنے والی کتاب ’ ہیر‘ لکھنے والے وارث شاہ کا یہ شعر یاد آرہا ہے:
جنہاں بالے دیوے بجھے
اوہناں نوں کیہ ڈر ہنیرے دا
(جنہوں نے بجھے ہوئے چراغ جلائے ہیں انہیں اندھیرے سے کیونکر ڈر لگے گا)
پاکستان نے اپنےسے کئی گنا بڑے ملک بھارت کو ناکوں چنے چبوا کر، امریکی صدر ٹرمپ سے دوستی پیداکرکے، ایران امریکہ جنگ میں ثالث بن کر اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے مایوسی فروشوں، تباہی بھونپوؤں اور منفی بیانیوں کو یکسر ناکام کردیا۔ کل تک قنوطی جب دہشت گردی کے شکار پاکستان کے مستقبل پر سوال اٹھاتے تھے تو سوائے مادر وطن کیلئے موجود جذبات اور یہاں کے ٹیلنٹ پر بھروسے کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی تھی۔ مگر اٹل ارادے تو دریاؤں کے رخ بدل دیتے ہیں، پہاڑوں کے سینے چیر دیتے ہیں، تقدیر کے آگےبند باندھ دیتے ہیں۔ ایسا ہی پاکستان کےساتھ ہوا ہے۔ بھارت کو فقیدالمثال بہادری کے بغیر ہرانا ناممکن تھا۔ ایسی بہادری دکھائی گئی کہ بھارت بوکھلا گیا۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ اقتدار میں آکر پاکستان کے خلاف کھڑا ہوگا۔ ماضی میں اس نے پاکستان کو کئی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایاتھا۔ مگر کوئی ایساچمتکار کیا گیا کہ سب کچھ بدل گیا جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کا عالمی ڈھنڈورا پیٹنے اور ہماری فتح کو دنیا بھر میں تسلیم کروانے میں صدر ٹرمپ کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں بھی اسی دوستی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب سے جو دفاعی معاہدہ ہواہے، وہ بھی کبھی نہ ہوپاتا اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ میں اپنی پوری طاقت نہ دکھائی ہوتی۔ ایران بھارت کا دیرینہ حلیف ہے مگر پاکستان نے ایران کی اعانت کرکے اسے تباہی اور نقصان سے بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ مڈل ایسٹ کی سیاست میں پاکستان پہلے بالواسطہ شریک تھا، اب براہ راست کردار بن گیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے مشرقِ وسطیٰ کے اوپر تلے درجنوں دورے کئے مگر بظاہر ان سے وہ فائدہ نہیں ہوا جو ہونا چاہئےتھا۔ توقع تھی کہ100بلین ڈالر ملیں گے مگر دوچار بلین ہی مل سکے تاہم یہ ساری جدوجہد بے کار نہیں گئی۔ اس سے اعتماد کے رشتے بحال ہوئے بعض اوقات کان کن سونا ڈھونڈنے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہے ہوتے ہیں، دن رات کھدائیاں کرتے ہیں مگر سونا نہیں ملتا۔ لیکن اچانک کدال ایک پتھر پر پڑتی ہے اور وہ پتھر ہیرا نکل آتا ہے۔ پُر خلوص محنت کبھی اکارت نہیں جاتی، سائنسدان گنجے پن کا علاج ڈھونڈنے پر شب وروز محنت کررہے تھے۔ کامیابی نہیں ہو رہی تھی مگر پھر انہیں ’ ویا گرا‘ مل گئی جس سے میڈیکل کی دنیا میں انقلاب آگیا۔ پاکستان مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری کیلئے کوشش کررہا تھا مگر اب اسے وہاں کے دفاع کی ذمہ داری مل گئی جو سرمایہ داری سے بھی محفوظ، پرکشش اور زیادہ نفع بخش ہے۔
پاکستان ہمارا ملک ہے۔ حکومت سے اختلاف ہوتا رہتا ہے، حکومتی پالیسیوں سے اختلاف قانونی، آئینی اور اخلاقی حق ہے۔ میڈیا کا اصل کام ہی حکومتوں پر نظر رکھنا اور ان کی خامیوں پر توجہ دلانا ہوتا ہے مگر ہم سب پاکستانیوں کو بلا رنگ ونسل، بلا سیاسی تعصب، پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کا متمنی ہونا چاہئے۔ جو چند لوگ اپنے تعصبات یا دشمنی کے سبب ملک کے فائدے نقصان کو بھی نہیں سمجھ پاتے، ان سے تو بحث لاحاصل ہے۔ ان کٹھ ملاؤں اور کٹھ بحثیوں کوتوسیاسی مخالفت نے اندھا کررکھاہے۔ وگرنہ پاکستان کا امیج اس وقت75سالہ تاریخ میں سب سے بہتر ہوا ہے۔ اور یہ کامیابی ایسی ہے کہ ہر پاکستانی کواس پر پھولے نہیں سمانا چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور معاہدہ کرانا سفارتکاری کی تاریخ کا مشکل ترین کام تھا۔ دونوں طرف ضد، انتہا پسندی اور تحفظات تھے۔ پاکستان نے خاموش رہ کر یہ کارنامہ انجام دیا۔ وہی پاکستان جس پر کل تک دہشت گردی کا گڑھ ہونے کے الزامات لگتے تھے، وہی پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر اور پیامبر بن کر ابھرا ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے اور پختونخوامیں طالبان کے ساتھ اندرونی لڑائیوں اور بھارت اور افغانستان کی حکومتوں سے بیرونی لڑائیوں کے باوجود پاکستان نے جس طرح اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، اس نے ہر پاکستانی کا سر اونچا کردیا ہے۔
میرے علم میں آیا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے دوران کئی مرحلے ایسے بھی آئے جب مذاکرات ٹوٹے، پھر سے جھڑپیں شروع ہوگئیں، غلط فہمیاں بڑھ گئیں مگر پاکستان نے انتہائی ٹھنڈے مزاج سے اپنی کوششیں اور بڑھا دیں۔ ایران کے جو سفر فیلڈ مارشل اور ان کے وفود نے کئے، وہ بھی خطرے سے خالی نہ تھے۔ اسرائیل ہر صورت میں معاہدے کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ ایک پیامبر تو تہران میں تھے کہ اچانک حملے کی اطلاع مل گئی۔ ایک گھنٹے کے اندر انہیں محفوظ رکھنے کیلئے واپس پاکستان جانے کی درخواست کی گئی۔ گویا آج جو پاکستان دنیا بھر میں امن کا لیڈر بن کر ابھرا ہے، یہ پاکستان کی خاموش قربانیوں، رتجگوں اور انتہائی دباؤ میں گزرے لمحوں کا خراج ہے۔
ہم جیسے مادہ پرست اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہمیں یا عوام کو دنیا میں لیڈری، امن کی پیامبری اور بین الاقوامی اہمیت کے معاشی فوائد کب ملیں گے؟ سوال تو بجا ہے لیکن بین الاقوامی طور پر فوری فوائد کی توقع کرنا شاید کچھ زیادہ خوش امیدی ہوگی۔ توقع یہی ہے کہ بین الاقوامی عزت و اہمیت بالآخر معاشی فوائد بھی لے کر آئے گی، پاکستان پہلے صرف جنوبی ایشیا کی سیاست کا کھلاڑی تھا، اب مڈل ایسٹ کے وار تھیٹر کا حصّہ بن گیا ہے۔ مصر مڈل ایسٹ کا حصہ ہونے اور طاقتور فوج ہونے کی وجہ سے دُنیا بھر میں اہمیت رکھتا رہا ہے۔ اسے امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اربوں ڈالر کی امداد ملی ہے۔ ایک بار تو اس کے سارے غیر ملکی قرضے بھی معاف کر دیئے گئے۔ پاکستان کو مڈل ایسٹ کی سیاست کا عملی کردار بننے کی وجہ سےآئندہ برسوں میں مصر کی طرح اضافی اہمیت ملنے کا امکان ہے۔
وارث شاہ کے بقول جنہوں نے بجھے ہوئے چراغوں کو الہ دین کا چراغ بنا کرجلایا اور دنیا بھر کے جنوں کو حاضر کر لیا ہے، وُہ اندھیروں اور مسائل سے کیا ڈریں گے۔ رجائیت پسند ہونے کی وجہ سے آج کا دن ایک خوشحال پاکستان، ایک مضبوط پاکستان اور ایک متحد ومتفق پاکستان کیلئے یہ دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔ امیدوں کے نئے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اندرونی اتفاق اور سیاسی استحکام پیدا ہو جائے تو ترقی اور خوشحالی زیادہ تیزی سے آئے گی۔ وارث شاہ امن کا پیامبر تھا۔ ہر طرح کے استحصال کے خلاف تھا۔ اس نے مظلوم ہیر کی آواز بن کر معاشرے کو جھنجھوڑا اور اس کا پیغام ایسا دل نشیں تھا کہ آج بھی گاؤں کی ہر بیٹھک میں اس کو پڑھ کر لطف اٹھایا جاتا ہے اور اس کے معانی پر بحث کی جاتی ہے۔
پاکستان کا نیا امیج امن کے پیامبر کا ہے۔ اندرونی طور پر پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے تو واقعی جنتِ ارضی بن جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)