سانحہ چکوال اور کٹہرے میں کھڑی سی سی ڈی
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 20 / جون / 2026
چکوال میں پاکستانی نژاد آسٹریلوی فیملی کی9سالہ ہانیہ کی سی سی ڈی کے ہاتھوں دردناک موت سی سی ڈی اور پنجاب پولیس کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔وہ سی سی ڈی جو اپنے کسی پولیس مقابلے کے بارے میں کسی جوابدہی کو ہی ضروری نہیں سمجھتی تھی ۔اور مرنے والوں کے لواحقین دہائیاں ہی دیتے رہ جاتے تھے۔
حتیٰ کہ کسی جوڈیشل انکوائری کا بھی حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ اس چکوال والے واقعہ کے بعد گویا کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے۔ آخر کیوں بھئی آخر کیا ہوا ہے ، اس بار۔ تو صاحبو! اب یہ بات زبانِ زدِعام ہو چکی ہے کہ اگر مرنے والی ہانیہ کی آسٹریلوی شہریت نہ ہوتی اور آسٹریلوی وزیراعظم اُس کے لئے آواز نہ اٹھاتے تو سی سی ڈی نے اس واقعہ کو بھی اپنا ایک کارنامہ بنا کے پیش کرنا تھا۔ نجانے اُس صورت میں کہانی کیا ہوتی اور ہانیہ کی فیملی ہی شاید کسی الزام کی زد میں آ جاتی۔اب لوگ بجا طور پر سوچ رہے ہیں کہ پاکستان میں انسانی جان کتنی ارزاں ہے اور ہماری حکومتیں ان انسانوں کے مرنے پر کس بے حسی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔جبکہ آسٹریلیا نے اپنی ایک معصوم شہری کے لئے اعلیٰ سطح پر آواز اٹھائی، صرف آواز ہی نہیں اٹھائی،بلکہ مطالبہ کر دیا کہ شفاف تحقیقات کرائی جائے، جس سے دنیا بھی مطمئن ہو۔
اُس کے بعد سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ چکوال جا کر ہانیہ کی قبر پر پھول رکھ آئے ہیں اور ورثاسے تعزیت کے ساتھ ساتھ مکمل انصاف کا یقین بھی دِلا چکے ہیں۔ مگر لگتا ہے اس سے بات بن نہیں رہی،کیونکہ ورثا تفتیش سے مطمئن نہیں اور آسٹریلوی سفارتخانہ بھی عدم اطمینان ظاہر کر چکا ہے۔ اس لئے پہلے سی سی ڈی کے اعلیٰ افسروں نے پریس کانفرنس کر کے صفائیاں پیش کیں لیکن غبار کم نہ ہوا تو پنجاب کے آئی جی راؤ عبدالکریم اور سی سی ڈی کے سربراہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ وہاں صحافیوں نے جو چبھتے ہوئے سوال کئے وہ بات کو مزید اُلجھا گئے۔یہ اونٹ اب کس کروٹ بیٹھے گا فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اب بات اس سوال تک آ گئی ہے کہ کیا اتنے بڑے واقعہ کے بعد جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور اوورسیز پاکستانیوں میں عدم تحفظ پھیلا، سی سی ڈی کے سربراہ کو استعفا نہیں دینا چاہئے۔ خیر اس کا امکان کم ہے۔ البتہ کسی اور ملک میں ایسا واقعہ ہوا ہوتا تو پولیس کا سربراہ پریس کانفرنس میں اِدھر اُدھر کی بات نہ کرتا بلکہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیتا۔
میں اُن لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے سی سی ڈی کے قیام پر تعریفی کالم لکھے۔ اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔ مجھے یاد ہے اُن کالموں پر مجھے دوستوں اور قارئین کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔تاہم میرا نظریہ یہ تھا کہ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لئے ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو یکسو ہو کر جرائم پر نظر رکھے۔کچھ وقت گزرا تو اِسی سی سی ڈی کے بارے میں سوالات اور شکایات سامنے آنے لگیں۔ خرابی اُس وقت پیدا ہوئی جب سی سی ڈی کا تھنک ٹینک اگر کوئی ہے تو ڈی ٹریک ہوا، جھوٹی واہ واہ کے لئے ایسے راستے اختیار کیے گئے جو کسی منظم فورس کو زیب نہیں دیتے۔ مثلاً کسی کی ویڈیو سامنے آئی کہ وہ راہ چلتی خاتون یا لڑکی کے ساتھ نازیبا حرکت کر رہا ہے تو اسے تلاش کرنے کے بعد نیفے یا ٹانگوں میں گولی مار کر اُس کی ویڈیو بنائی گئی جس میں وہ اپنے جرم کا اقرار بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے اُسے سزا بھی مل گئی ہے۔
یہ لاقانونیت کی انتہا کا ایک عملی اور کھلا اظہار تھا جس پر سی سی ڈی کے بارے میں سنجیدہ حلقے سوالات اُٹھانے لگے گویا سی سی ڈی نے عملاً اور ظاہراً اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ وہ فوری سزا دینے پر قادر بھی ہے اور خود مختار بھی۔ حالانکہ ملکی قانون میں اس کی کوئی گنجائش سرے سے موجود نہیں۔ سی سی ڈی کوئی علیحدہ سے بھرتی کی گئی فورس نہیں، بلکہ پنجاب پولیس کے افسروں اور جوانوں کا انتخاب کر کے بنایا گیا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے۔آج سہیل ظفر چٹھہ تواتر سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سی سی ڈی کے اپنے ایس او پیز ہیں اور ہم سختی سے اُن پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ مگر اس سوال کا اُن کے پاس جواب نہیں ہوتا کہ سی سی ڈی کے اہلکار یا اہلکاروں نے ایک ایسی گاڑی پر بیسیوں گولیاں کیوں برسائیں جس سے اُن پر کوئی فائر نہیں ہو رہا تھا۔ یہ کیسا سیلف ڈیفنس تھا جو یکطرفہ چلتا رہا اور 9سالہ ہانیہ کو گیارہ گولیاں لگ گئیں۔
وہ اس واقعہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک حصہ سیلف ڈیفنس تھا جب ڈاکو سی سی ڈی پر فائرنگ کر رہے تھے۔ اور دوسرا حصہ وہ تھا جب کار ڈاکوؤں سے بچ کر ہانیہ کا والد تیزی سے لے جا رہا تھا۔ وہ دوسرے حصے کی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہاں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی۔ کیا اسے صرف ایس او پیز کی خلاف ورزی کہا جا سکتا ہے یا یہ مجرمانہ عمل ہے کہ آپ بے دریغ گولیاں چلائے جا رہے ہیں۔ پھر صحافیوں کو اس سوال کا جواب بھی نہیں ملتا کہ جب آپ خود طے کر چکے ہیں کہ فائرنگ کرنے والا صرف ایک اہلکار تھا تو پھر ایف آئی آر میں اُس کا نام کیوں نہیں دیا جاتا، حتیٰ کہ اُسے گرفتار کر کے جیل بھی بھیج دیتے ہیں۔ ایسی باتیں پاکستان میں لوگوں کو مطمئن نہیں کر پا رہیں تو آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کو کیسے مطمئن کر سکیں گی۔
ابھی تک ہانیہ کے والدین نے واپس آسٹریلیا جانا ہے اور وہ کہہ بھی چکے ہیں کہ انہیں انصاف کی اُمید نہیں۔ وہاں کیا ہوگا، میڈیا کیسے اس کیس کو اُٹھائے گا اور آسٹریلوی حکومت کا ردعمل کیا ہو گا۔اِس بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ کہیں بات اُن ایک ہزار افراد کی موت تک نہ نکل جائے،جنہیں مبینہ طور پر سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں مار چکی ہے۔چکوال کا واقعہ اس حوالے سے بھی سی سی ڈی کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ اس نے اُس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔اب اُس طرح کی صورتحال نہیں رہی جو اس واقعہ سے پہلے تھی کہ سی سی ڈی کے ہر دعوے کو آنکھیں بند کر کے درست مان لیا جاتا تھا۔ بلاشبہ سی سی ڈی نے اچھے کام بھی کئے ہوں گے،لیکن اگر وہی گھسی پٹی کہانی دہرانی ہے جو پچھلے پچاس برسوں سے جاری ہے کہ ملزموں کو برآمدگی کے لئے لے جا رہے تھے کہ ساتھیوں نے حملہ کر دیا اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک اور فائرنگ کرنے والے فرار ہو گئے تو معاف کیجئے یہ بیانیہ اب پٹ چکا ہے۔
خاص طور پر چکوال واقعہ کے بعد کئی پردے ہٹ گئے ہیں اب فرہاد کو نئے تیشے لانے ہوں گے وگرنہ ہر ایسے ’مقابلے‘ کی گونج عالمی سطح تک جائے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)