21ویں صدی کا اہم ترین سبق
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 21 / جون / 2026
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے وقتی طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم ضرور کیا ہے لیکن اس مختصر مگر شدید تصادم نے دنیا کو کئی نئی کشیدگیوں، منفرد جہتوں اور اَن چاہے نتائج سے روشناس کرایا ہے۔
چند ہفتے قبل یہ بحث جاری تھی کہ آیا امریکا اور اسرائیل کی تباہ کن عسکری برتری کے سامنے ایران ٹھہر پائے گا؟ اگر ایسا ہوا تو آخر کب تک؟ حملے ہوئے، جوابی حملے ہوئے، میزائل چلے، تنصیبات تباہ ہوئیں، مشرق وسطیٰ کے بیشتر فرنٹ لائن ممالک کا سینکڑوں اربوں ڈالرز اور معاہدوں پر مبنی سیکیورٹی نظام اور گارنٹیوں کا ہوا اس جنگ میں ہوا ہو گیا۔ سینکڑوں میل دور کئی ممالک عبور کرتے میزائلوں اور ڈرونز نے جو تباہی کی سو کی، ان حملوں نے کئی پرانے جیوپولیٹیکل مفروضے بھی اڑا کر رکھ دیے ہیں۔ جنگ کے خاتمے پر ایک نئی حقیقت آشکار ہو کرمجسم ہوئی ہے: اکیسویں صدی کی جنگیں محض بیسویں صدی کے روایتی اصولوں اور ہتھیاروں سے نہیں جیتی جا سکتیں اور یہ کہ چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں کو اگر مکمل زیر نہ کرسکیں تو بھی زیردام ضرور لا سکتے ہیں۔
ایران اسی کی زندہ مثال ہے۔ تقریباً نصف صدی سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ملک، محدود فضائی صلاحیت، کمزور معیشت اور مسلسل بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نہ صرف اپنی ریاستی ساخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ جدید دور میں ’مزاحمت‘ اور ’برداشت‘ بجائے خود ایک عسکری طاقت ہے۔ ہزاروں فضائی حملوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ایران نے جوابی دفاعی صلاحیت برقرار رکھی، آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی منڈیوں کو زیر وزبر کرنے کی صلاحیت دکھائی اور یہ ثابت کیا کہ جغرافیائی ساخت، قومی حمیت اور مقامی متبادل ٹیکنالوجی روایتی عسکری برتری کو محدود کر سکتے ہیں۔
ایسا ہی منظر روس یوکرین جنگ میں بھی نمایاں ہے۔ 2022 میں روس نے حملہ کیا تو بیشتر ماہرین کا خیال تھا کہ کیف چند ہفتوں میں گر جائے گا لیکن تین برس گزرنے کے باوجود یوکرین نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کی مزاحمت نے عالمی سیاست، یورپی سلامتی اور عسکری نظریات کو نئی جہت دی ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر اور انفارمیشن وار نے پہلی مرتبہ روایتی عسکری طاقت کے تصور کو چیلنج کیا ہے۔ ایران اور یوکرین بظاہر مختلف کہانیاں ہیں لیکن دونوں کا ایک مشترکہ سبق ہے: طاقتور ممالک اکثر اپنے مخالفین کی صلاحیت اور عزم کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔
تاریخ میں ایسی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ نپولین نے روس کو کمزور سمجھا، ہٹلر نے سوویت یونین کی برداشت کو غلط جانا، امریکا نے ویتنام میں قوم پرستی کی قوت کا اندازہ نہیں لگایا، سوویت یونین افغانستان میں مقامی مزاحمت کو سمجھنے میں ناکام رہا اور بعدازاں امریکا بھی افغانستان اور عراق میں اسی غلط فہمی کا شکار ہوا۔ عسکری قوت میدان جنگ جیت سکتی ہے لیکن سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے معاشرے، تاریخ، شناخت اور قومی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
رابرٹ کپلان کی مشہور کتاب ’دی ریونج آف جیوگرافی‘ تفصیل سے اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے۔ کپلان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ جغرافیہ اور تاریخ کو نظرانداز کرنے والی طاقتیں بالآخر ان ہی عوامل کے ہاتھوں محدود ہو جاتی ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کو لگا تھا کہ عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن نے جغرافیے کی اہمیت کم کر دی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی نے سرحدوں کو بے معنی بنا دیا ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے واقعات نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ نائن الیون کے بعد امریکا، افغانستان اور عراق میں الجھا رہا جب کہ چین خاموشی سے معاشی اور تکنیکی طاقت حاصل کرتا گیا۔ عرب بہار نے کئی حکومتوں کو گرا دیا لیکن خطے میں استحکام پیدا نہ کر سکی۔ روس یوکرین جنگ نے یورپ کو دوبارہ عسکریت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ پر مسلط جنگ لبنان تک پھیلا کر خطے کو بارود سے بھر دیا ہے اور اب ایران کے ساتھ تصادم نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئی غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ان تمام واقعات کو الگ الگ دیکھنے کے ساتھ ساتھ اگر انہیں ایک بڑی تاریخی تصویر میں رکھ کر جانچیں تو ایک نیا جہان بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد جو یک قطبی دنیا وجود میں آئی تھی، وہ اب بتدریج ختم ہو رہی ہے۔ امریکا بدستور سب سے بڑی فوجی طاقت ضرور ہے لیکن اب وہ اکیلا فیصلہ ساز نہیں رہا۔ چین معاشی اور تکنیکی چیلنج بن چکا ہے۔ روس اپنی تمام مشکلات کے باوجود عالمی سیاست میں اثرانداز ہے۔ علاقائی طاقتیں پہلے سے زیادہ خودمختار کردار ادا کر رہی ہیں اور غیرریاستی عناصر بھی کئی ریاستوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہیں۔
اس نئی تصویر کا سب سے نمایاں پہلو جنگ کے بدلتے ہوئے طریقہ کار ہیں۔ گزشتہ چند برسوں نے روایتی عسکری نظریات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک سستا ڈرون لاکھوں ڈالرز کے ٹینک کو تباہ کر سکتا ہے۔ میزائل دفاعی نظاموں کو مسلسل آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔ سائبر حملے، بجلی، بینکاری اور مواصلاتی نظاموں کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت جنگی منصوبہ بندی، عملی جنگ اور نگرانی کا حصہ بن چکی ہے۔ انفارمیشن وار اب توپ اور ٹینک کے برابر اہم ہے۔ مختصراً، اس تصویر کے مطابق مستقبل کی جنگیں زیادہ سستی، زیادہ پھیلاؤ، زیادہ طویل، زیادہ تباہ کن اور زیادہ غیرمتوقع ہوں گی۔ عسکری طاقت اب صرف لڑاکا طیاروں، بحری بیڑوں اور ٹینکوں سے نہیں ناپی جائے گی۔ صنعتی صلاحیت، تکنیکی جدت، قومی یکجہتی، سپلائی چینز اور ریاستی برداشت بھی اتنے ہی اہم عوامل ہوں گے۔
پاکستان کے لیے اس ابھرتی ہوئی تصویر میں کئی اسباق ہیں۔ قومی سلامتی کا تعلق صرف دفاعی بجٹ سے نہیں بلکہ معیشت سے بھی ہے۔ کمزور معیشت کے ساتھ مضبوط خارجہ پالیسی اور پائیدار دفاعی حکمت عملی قائم نہیں رہ سکتی۔ جیوپولیٹیکل لوکیشن پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ چین، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان اگر دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرے تو علاقائی رابطوں، تجارت اور توانائی کے نئے نظام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ قومی وسیاسی استحکام اور تمام کلیدی ریاستی اداروں کی مضبوطی کسی بھی جدید ہتھیار سے کم اہم نہیں۔
امریکا اور ایران مذاکرات باہمی نفرت، سیاسی زعم اور بے اعتمادی کی بارودی سرنگیں عبور کرکے ایک نئی تاریخ رقم کر سکیں گے یا نہیں، اگلے چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا تاہم اس دوران تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس طرح سوویت یونین کا انہدام ایک نئی دنیا کی ابتدا ثابت ہوا، 9/11 نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا، اسی طرح یوکرائن، غزہ اور ایران کے جنگی تصادم بھی ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اس نئے باب یا نئے ورلڈ آرڈر کی دنیا زیادہ پیچیدہ، زیادہ انتشاری اور زیادہ غیریقینی دکھائی دے رہی ہے۔
تاریخ ختم نہیں ہوئی، جغرافیہ اپنی جگہ موجود ہے۔ طاقت کی سیاست بھی زندہ ہے بلکہ مہلک تر ہے البتہ ان سب کے اظہار کے طریقے بدل رہے ہیں۔ شاید یہی اکیسویں صدی کا سب سے اہم سبق ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)