ایران امریکہ مذاکرات میں پیش رفت، تکنیکی بات چیت جاری ہے: امریکہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اتوار کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کہ پچھلے 24 گھنٹے بہت اچھے رہے ہیں، لبنان میں امن رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز بھی کھلی رہی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے واک آوٹ کی دھمکی دی تھی یا سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن اس کے بعد رات ایک بجے تک بات چیت جاری رہی۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز ایران جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کریں گے کہ آیا ایران ابتدائی معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم حتمی معاہدے تک پہنچیں اور اس معاملے کا مستقل حل ہو لیکن اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بڑی پیش رفت کی ہے۔
لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے سوال پر امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ لبنان کی خودمختاری کا تحفظ ہو۔ امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں جانے سے قبل امریکی وفد نے چار اہداف طے کیے تھے اور چاروں حاصل کر لیے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پہلا ہدف یہ تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور سٹریٹجک آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع کو وسیع تر تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا جائے۔ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور مذاکرات کاروں نے مستقبل میں اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی تنازع سے بچاؤ کے لیے ایک فریم ورک بنایا ہے۔ دوسرا ہدف علاقائی جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایسے مواصلاتی چینلز قائم کرنے کے لیے کام کیا جو تشدد بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور اس کے لیے علاقائی سٹیک ہولڈرز کو استعمال کیا جا سکے۔ اور ’اگر لڑائی شروع ہو تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسے کیسے روکنا ہے۔‘
امریکی نائب صدر کے بقول تیسرا ہدف یہ تھا کہ ایران عالمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران آنے کی اجازت دے۔ اُن کے بقول اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ایران ان انسپکٹرز کو واپس بلائے گا۔ یہ امریکی عوام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور 12 روزہ جنگ کے بعد عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے تعاون معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے پہلے توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت تھی۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ چوتھا مقصد یہ تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو آنے والے ہفتوں میں جاری رکھا جائے۔ وینس نے کہا کہ امریکی، ایرانی، قطری اور پاکستانی حکام نے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار عمل اور نگرانی کے ڈھانچے کو قائم کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے وینس نے زور دیا کہ مذاکرات کار ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’حتمی معاہدہ ایک گھر ہے اور ہم نے اس گھر کی کامیاب بنیاد رکھ دی ہے۔‘
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے لیے پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ایک ٹیم سوئٹزرلینڈ میں موجود رہے گی۔ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے مقصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں اسلام آباد ایم او یو پر عمل درآمد کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کی طرف سے دکھائے جانے والے تعمیری جذبے کی بھی تعریف کرتا ہوں۔ پاکستان کے ساتھ ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے پر میں قطر کی ریاست کا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو امریکہ، ایران مذاکرات کے بعد پیر کو تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ تکنیکی مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہوں گے۔ ایرانی وفد کی سربراہی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کریں گے۔