برطانیہ کی چند خوشگوار یادیں

کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، اگرچہ اب یہ صورت حال تو نہیں تاہم رات کے دس بجے تک اسکاٹ لینڈ میں اسے روشن رہتے اور غروب ہوتے ہم نے بھی دیکھا ہے۔

برطانیہ میں قیام کے دوران بہت کچھ دیکھنے اور سیکھنے کو ملا۔ جب ہم اپنے ملک سے اس کا موازنہ کرتے ہیں تو یہی بات سمجھ آ تی ہے کہ قوانین پر عملدرآمد اور قانون کی پاسداری ہی ایک نظام کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔ برطانیہ کے مضبوط حکومتی اور سیاسی جمہوری نظام کی وجہ سے انسانی حقوق کا خیال رکھنے کے ساتھ عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی باعث اطمینان ہے۔

برطانیہ میں کاؤنٹی اور یونین کونسل سسٹم کی وجہ سے صفائی کا نظام بہتر ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ لوگوں کا رحجان صحت مند سرگرمیوں کی طرف زیادہ ہے اور اب حال ہی میں سولہ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کی پابندی کو بھی ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے تعلیمی نظام میں بھی بچوں پر بھاری بھر کم بستوں اور غیر ضروری نصاب کا بوجھ نہیں ہے۔ کالج میں بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ کافی شاپس یا دیگر جگہوں پر طلبہ کام کرتے نظر آ تے ہیں۔ ریلوے ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی بھی خوش آ ئیند ہے۔ اخبار اور کتاب میں دلچسپی آ ج بھی برطانیہ کے اکثر شہروں میں نظر آتی ہے۔ ٹریفک کا نظام بھی قابل داد اور قابل تقلید ہے۔ عدم برداشت اور خوش اخلاقی کا عنصر بھی اس میں نمایاں ہے۔

اسکاٹ لینڈ کا موسم بہت دلبرانہ اور برشانہ ہے۔ ایک ہی وقت میں بادل بارش دھوپ اور ہوا سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ انگلینڈ میں لیک ڈسٹرکٹ کی خوب صورت جھیلوں اور ساحلوں کے نظارے بھی خوب ہیں۔ لندن کی گہما گہمی اور سیاحوں کی دلچسپی بھی دیدنی ہوتی ہے۔ برطانیہ میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ قومی شاعر رابرٹ برنز کے مجسمے جا بجا ملتے ہیں۔

لیک ڈسٹرکٹ میں ڈیفوڈلز جیسی شہرہ آ فاق نظموں کے خالق شاعر ولیم ورڈزورتھ کا مدفن دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ برطانیہ کے خوبصورت ماحول سر سبز درخت اور خوبصورت وادیاں اور چھیلیں دیکھ کر خود بخود شاعری کرنے کو دل کرتا ہے۔ برطانیہ میں ادبی سرگرمیاں بھی خاصے زور شور سے جاری ہیں۔۔ گلاسکو اسکاٹ لینڈ میں ادبی محفلوں میں شرکت کا بھی موقع ملا۔ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی شاعر و ادیب بھی ان ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

محترمہ راحت زاہد بزم شعر وادب اور کشور ثبات صاحبہ خزینہ شعر وادب کے ذریعے ادبی محافل برپا کرتی ہیں۔ گلاسکو میں ہونے والی تقریب بھی بھرپور رہی۔ بزم شعر و نغمہ اور خزینہ ادب جیسی دونوں فعال تنظیموں کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب پذیرائی میں شاعروں اور ادیبوں سے ملاقات اور سننے اور سنانے کا موقع ملا کتابوں کا تبادلہ ہوا۔ محمد اظہر فرح ملک، ڈاکٹر اللہ نواز خان، عاصم منظور، ذولفقار علی، حامد زاہد، امتیاز علی گوہر، منیر شیخ، شکیل زاہد اور دیگر ادیبوں شاعروں سے ملاقات کا سلسلہ رہا۔

پاک اسکاٹٹش پریس کلب کی طرف سے خزینہ شعر وادب کی تقریب پذیرائی میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ کا ملنا بھی راقم کے لئے باعث اعزاز ہے۔ دیار غیر میں ایک پاکستانی ادیب کی بھرپور پذیرائی ہونا ایک خوشگوار احساس ہے۔ پاک اسکاٹٹش پریس کلب کے صدر خالد پرویز طاہر، انعام شیخ، میجر ماجد خالد وارثی، ماجد حسین فرید، احمد انصاری اور طاہر ڈار جیسے سینئر صحافی بھی اپنی صحافیانہ ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

انگینڈ میں فیضان عارف، ناصر کاظمی کے بیٹے باصر کاظمی، صابر رضا، افسانہ نگار محترمہ فرحت اور دیگر شاعر و ادیب بھی خاصے نمایاں ہیں۔ برطانیہ میں مساجد اور اسلامک کمیونٹی سنٹر میں صرف خطبہ دیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی فرقہ ورایت کو فروغ نہ ملے۔ برطانیہ سے پاکستان واپسی پر بھی امریکہ اور ایران کی جنگ کے بادل چھائے رہے۔ مگر خوش قسمتی سے جنگ بندی کے معاہدے کی پیش رفت کی وجہ سے فلائٹ شیڈول برقرار رہا اور پاکستان آ مد پر مہنگے پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہونے کی خوشخبری بھی ملی۔

انگلستان کے گہرے کالے بادلوں اور ٹھنڈے موسم سے پاکستان کے گرمستان میں قطر ایرویز کی لینڈنگ میں جہاں موسم کی گرمی اور پردیس سے اپنے دیس میں آ نے کی خوشی تھی، وہاں برطانیہ کے خوشگوار ٹھنڈے موسم کی خوشگوار اور خوبصورت یادیں بھی ہمراہ تھیں۔ اور دل میں مچلتی یہ معصوم خواہش بھی کہ کاش ایسا بھرپور اور مربوط حکومتی اور سیاسی نظام ہمارے ملک میں بھی رائج ہو ۔ کاش ہم بھی وہاں کے لوگوں کے رہن سہن اور اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں تو ہمارا ملک بھی جنت نظیر دکھائی دینے لگے اور جلد ترقی یافتہ ممالک میں بھی شامل ہو۔