مرحلہ وار امن کی جانب پیش رفت
- تحریر ملیحہ لودھی
- سوموار 22 / جون / 2026
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دو مراحل پر مشتمل امن عمل کے پہلے مرحلے میں جنگ کو منجمد کرتے ہوئے جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے۔
اس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کا پابند ہے۔ اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاہم اصل مشکل مرحلہ ابھی باقی ہے، کیونکہ دوسرے مرحلے میں جوہری پروگرام اور دیگر پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر ابتدائی معاہدے تک پہنچنا اتنا دشوار ثابت ہوا تو ایک جامع تصفیہ طے کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوگا، خصوصاً جب پس منظر میں اسرائیل کا منفی کردار موجود ہو۔
چار ماہ کی جنگ کے بعد دونوں فریق لڑائی سے نکلنے کا راستہ چاہتے تھے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کے زیادہ خواہش مند دکھائی دیتے تھے۔ ان پر داخلی سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا تھا، خاص طور پر یہ خدشہ کہ تیل کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے سے امریکی صارفین متاثر ہوں گے اور امریکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا تھا جب کانگریس کے وسط مدتی انتخابات قریب تھے، جنگ غیر مقبول ہو چکی تھی اور ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات بڑھ رہے تھے۔ مزید یہ کہ جنگ جاری رکھنے سے ٹرمپ اپنے مسلسل بدلتے ہوئے اہداف کے قریب نہیں پہنچ رہے تھے۔ اگر حکومت کی تبدیلی ایک بنیادی مقصد تھا تو جنگ اس میں ناکام رہی۔ مزید بمباری بھی نہ تو یہ نتیجہ حاصل کر سکتی تھی اور نہ ہی ان کے دیگر اعلانیہ مقاصد۔ نوّے دنوں میں تقریباً چالیس مرتبہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’معاہدہ قریب ہے‘۔ یہ ان کی بے چینی کی عکاسی کرتی تھی اور ساتھ ہی منڈیوں کو پرسکون رکھنے اور تیل کی قیمتیں کم رکھنے کی کوشش بھی تھی۔ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے معاشی اثرات واشنگٹن پر بھاری پڑنے لگے تھے۔
ایران طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیار تھا، خاص طور پر اس لیے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اسے ایک اہم تزویراتی برتری تھا۔ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے جوابی حملوں نے امریکہ، اس کے علاقائی اتحادیوں اور عالمی معیشت کے لیے جنگ کی قیمت بڑھا دی۔ تہران نے معاشی ہتھیار کو پوری قوت سے استعمال کیا۔ تاہم اس حکمت عملی کی بھی حدود تھیں کیونکہ ایران خود بھی بھاری نقصانات اٹھا رہا تھا۔ اس کی کمزور معیشت، تیل کی منڈیوں تک محدود رسائی، جہاز رانی پر پابندیوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید دباؤ کا شکار تھی۔ جنگ کے ایک اور دور نے معاشی خطرات میں اضافہ کر دیا تھا۔ چونکہ ایران تنازع میں نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل کر چکا تھا، اس لیے اس کے لیے جلد معاہدہ کرنا زیادہ موزوں تھا جبکہ اس کی مذاکراتی حیثیت مضبوط تھی۔ ایران پہلے ہی مزاحمت کی علامت بن چکا تھا۔
چار ماہ کی جنگ کے خاتمے کا یہ معاہدہ فوجی طاقت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ ایران کو ہتھیار ڈالنے اور ان کی شرائط قبول کرنے پر مجبور نہ کر سکی۔ پابندیوں کا شکار ایک نسبتاً کمزور ملک اس لیے ڈٹا رہا کیونکہ امریکہ نے ایک چیز کو ہمیشہ کم تر سمجھا ہے: قوم پرستی کی طاقت۔ امریکہ نے غیر واضح مقاصد کے ساتھ اپنی پسند کی جنگ لڑی، جبکہ ایران کے لیے یہ بقا کا مسئلہ تھا۔ قومی جذبے سے تقویت پانے والی زندہ رہنے کی خواہش نے تہران کی مزاحمت کو ممکن بنایا۔ اس سے ایک وسیع تر سوال بھی جنم لیتا ہے کہ فوجی طاقت کی حدود کیا ہیں۔ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا نظریہ ایسے دور میں چیلنج ہو رہا ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتیں کیونکہ جدید جنگ نے بڑی اور چھوٹی ریاستوں کے درمیان فرق کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ فوجی برتری ہمیشہ غلبہ یا فتح کی ضمانت نہیں دیتی، جیسا کہ امریکہ کے آپریشن ’ایپک فیوری‘، روس کی یوکرین کے خلاف غیر فیصلہ کن جنگ اور گزشتہ سال پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت سے ظاہر ہوتا ہے۔
یہ عبوری امریکی-ایرانی جنگ بندی پائیدار امن میں تبدیل ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اگلے مرحلے کے لیے مؤخر کیے گئے مسائل کو کیسے حل کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے 60 دن کی ایک قابلِ توسیع مدت رکھی گئی ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کے لیے پابندیوں میں نرمی پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ لیکن اس سے پہلے لبنان ایک رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر اگر اسرائیل، جو اس معاہدے کا مخالف ہے، وہاں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے۔ اگرچہ مفاہمتی یادداشت میں لبنان کو ’تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے لیکن اسرائیل بظاہر اس عمل کو ناکام بنانے پر تلا ہوا ہے۔
یقیناً جوہری مذاکرات ہی مستقل تصفیے کی کنجی ہوں گے۔ ایران پہلے ہی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں اس بات کی توثیق کر چکا ہے کہ وہ ’جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا‘۔ دستاویز میں ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کے مسئلے کے حل کا بھی ذکر ہے۔ اس میں یہ امکان موجود ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں اسی مقام پر مواد کو کم افزودہ کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ ایران ابتدا ہی سے یہی تجویز دیتا آیا تھا، باوجود اس کے کہ ٹرمپ بار بار اعلان کرتے رہے کہ ایران سے ’جوہری گرد و غبار‘ مکمل طور پر صاف کر دیا جائے گا۔ مذاکرات میں جوہری ایندھن کی افزودگی پر پابندی کی مدت کے حوالے سے بھی مشترکہ مؤقف تلاش کرنا ہوگا۔ پابندیوں میں نرمی کا انحصار انہی امور پر اتفاقِ رائے سے ہوگا۔
یہ مفاہمتی یادداشت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ میدانِ جنگ اور مذاکراتی میز دونوں جگہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس میں متعدد ایسی رعایتیں شامل ہیں جو ایران نے حاصل کیں، جبکہ واشنگٹن نے اپنی کئی سرخ لکیریں ترک کر دیں۔ اس کی جھلک جی-7 اجلاس میں ٹرمپ کی دفاعی نوعیت کی پریس کانفرنس سے بھی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کچھ بیلسٹک میزائل رکھ سکتا ہے (حالانکہ وہ پہلے انہیں تباہ کرنے کا عزم ظاہر کر چکے تھے) کیونکہ خطے کے دوسرے ممالک کے پاس بھی ایسے میزائل موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام برقرار رکھ سکتا ہے کیونکہ ’پڑوسی ممالک کے پاس بھی ایسا پروگرام ہے‘۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اور جوہری مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ایران کو تیل کی برآمدات کے لیے چھوٹ دی جائے گی۔ ایران کے منجمد اربوں ڈالر کی واپسی کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: ’ہم نے ان کا بہت سا پیسہ لے رکھا ہے، یہ ہمارا پیسہ نہیں، اسے واپس کرنا ہوگا۔‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ فنڈز ایران کے ’اچھے رویے‘ اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے بدلے جاری کیے جائیں گے۔ دستاویز میں ایران کی تعمیرِ نو کے لیے خاطر خواہ مالی معاونت کا راستہ بھی متعین کیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایران کی اپنے علاقائی اتحادیوں کی حمایت کا ذکر اس معاہدے میں موجود نہیں۔
اس معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر فوری پزیرائی ملی لیکن اس کا مستقبل ابھی غیر یقینی ہے۔ سب سے پہلے عمل درآمد کا امتحان ہوگا۔ کیا دونوں فریق مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں گے؟ اس کے بعد مستقل تصفیے کے لیے تکنیکی مذاکرات ہوں گے۔ چونکہ دونوں جانب اب بھی بڑا اختلاف موجود ہے، اس لیے مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں۔ فی الحال اس معاہدے نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی قیادت نے معاہدے پر اسرائیلی تنقید کو رد کیا ہے اور ٹرمپ نے تو کھلے عام بنجمن نیتن یاہو پر تنقید بھی کی۔ اسرائیل پہلے ہی لبنان میں تازہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم غالب امکان یہی ہے کہ عبوری معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
(بشکریہ: روزنامہ ڈان)