پڑھے لکھے نوجوانوں کا سوچیں
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 22 / جون / 2026
ایک دور تھا جب والدین اس فکر میں مبتلا رہتے تھے بچہ پڑھ جائے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ اب یہ دور ہے کہ والدین کی فکر نہیں جاتی کہ اُن کا بیٹا یا بیٹی کسی روز گار پر لگ جائے، اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔جس سے پوچھو بچے کیا کر رہے ہیں، وہ یہی بتاتا ہے پڑھ گئے ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بس بیروزگار ہیں۔
یہ بیروزگاری گھر گھر کی کہانی بن گئی ہے،ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان ڈگریوں کے ساتھ نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایک ایک گھر میں دو سے تین بچے روزگار کے متلاشی ہیں۔ یہ خالی تعلیم تو ایک جنجال پورہ ہے، جس میں روزگار نہیں باقی سب کچھ ہے۔سوال یہ ہے جس نے اردو، معاشرتی علوم، سوشیالوجی، نفسیات، شماریات، فزکس،کیمسٹری، بائیولوجی، باٹنی اور ان جیسے دیگر مضامین میں بی ایس یا ایم فل کر رکھا ہے، وہ جاب کہاں تلاش کریں۔ سرکاری نوکریاں تو اب رہی نہیں۔ وہاں سر پلس کا بورڈ لگا ہے۔ باقی رہ جاتے ہیں نجی تعلیمی ادارے وہ ایسے ظالم شکاری ہیں کہ پندرہ بیس ہزار سے اوپر ٹیچر نہیں رکھتے۔انہی کی مثالیں دیتے ہوئے پنجاب کے وزیر تعلیم فخر سے کہتے ہیں کہ پندر ہ ہزار تنخواہ والے لاکھوں روپے تنخواہ لینے والوں سے اچھا پڑھاتے ہیں ۔
جو سائنس کے مضامین میں ایم ایس سی کر جاتے ہیں،اُن کے لئے بھی جاب کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں۔اُن سب سے اکثر یا تو میڈیکل ریپ بن جاتے ہیں یا پھر ادویہ ساز کمپنیوں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔ کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں جو کسی اچھے نجی تعلیمی ادارے میں لیکچرر بن جاتے ہیں وگر نہ ٹیچر بن کر استحصال کی نذر رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ مثال دی جاتی ہے کہ بیرون ملک جا کر یہ نوجوان پٹرول پمپوں، ریستورانوں، شاپنگ مالز اور دیگر جگہوں پر کام کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں ان کی خواہش ہوتی ہےکہ انہیں کوئی افسرا نہ نوکری ملے۔ پھر یہ دور کی کوڑی بھی لائی جاتی ہے کہ یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ہنر مند جا بس جن میں بڑھئی، الیکٹریشن، پلمبر، موٹر میکنک بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ معاوضہ بھی اُنہیں ملتا ہے۔
اب ایسے لوگ وہاں کی مثال دیتے ہوئے اُس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ وہاں ہنر مندی کے کاموں کو عزت ذلت سے نہیں جوڑا جاتا۔ مزدوری کرنے والوں سے نفرت نہیں کی جاتی۔ یہاں کوئی ایم ایس سی پاس الیکٹریشن بن جائے تو اسے کوئی رشتہ نہیں دیتا، ہر کوئی بابو مانگتا ہے۔ اس لئے پڑھے لکھے نوجوانوں کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ اگر ہنر مندی والا کام کریں گے تو اُن کی پڑھائی لکھائی کا کیا فائدہ۔یہ معاشرہ اور اُن کے عزیز و اقارب کیا سوچیں گے۔اب انہیں لاکھ سمجھائیں کہ کوئی کیا سوچتا ہے تم سے کیا لینا دینا، بس پیسے کماؤ اور زندگی گزارو مگر ایسی بات پردہ ہماری طرف حیرت سے دیکھتے ہیں۔ آج اگر کالجز اور یونیورسٹیاں دہائی دے رہی ہیں کہ نوجوان داخلے کے لئے نہیں آ رہے ہیں تو اس کی سمجھ آتی ہے جس گھر میں دو یا تین پہلے ہی اعلیٰ ڈگریاں لئے بیٹھے ہوں ،اُس گھر کا نوجوان تو یہ ضرور سمجھے گا میں بھی پڑھ لکھ کر انہی کی طرح بیٹھ جاؤں گا۔ پھر یہ وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
کل میں نے ایک جگہ جانے کے لئے ان ڈرائیور کرائی،گاڑی آئی تو میں نے دیکھا ایک نوجوان اچھے کپڑوں میں بیٹھا ہے۔ راستے میں،میں نے کچھ پوچھا تو اُس نے بڑے سلجھے ہوئے انداز میں جواب دیا۔اُس نے کہا ہم چار بھائی ہیں،تین مجھ سے بڑے ہیں انہوں نے ایم فل کر رکھے ہیں۔ دو ابھی بے روزگار ہیں،کیونکہ انہیں تعلیم کے مطابق نوکری نہیں مل رہی۔ ایک کسی پرائیویٹ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے وہ بھی وزیٹنگ فیکلٹی ہیں۔ایک سمسٹر کی تکمیل کے بعد ساٹھ ستر ہزار روپے ملتے ہیں۔میں نے انہیں دیکھ کر تعلیم، ادھوری چھوڑ دی اور پہلے اوبر چلاتا تھا اب ان ڈرائیور چلاتا ہوں۔ دن کا چار ہزار روپے کماتا ہوں اور اپنی ماں کو د یتا ہوں، جس سے گھر چل رہا ہے۔ یعنی ایک کم تعلیم یافتہ پڑھے لکھے گھرانے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا تم نے لباس تو پڑھے لکھے نوجوانوں والا پہنا ہوا ہے،جیسے کسی دفتر میں کام کرتے ہو۔اُس نے کہا یہ ڈرائیونگ کرنا کون سا بُرا کام ہے۔صاف ستھرا ہے اور خود کو پینٹ شرٹ کوٹ میں دیکھ کر دوسروں کو اور مجھے بھی اچھا لگتا ہے،پھر اُس نے کہا سر پاکستان کا ماحول بھی بدل رہا ہے۔اب خالی شو شا سے گزارا نہیں ہوتا، جس کے پاس پیسے ہیں وہ اپنے لائف سٹائل کو اچھا بنا لیتا ہے۔
اُس نے ایک اور بات بتائی، کہنے لگا میرا ایک دوست ہے۔اُس نے فزکس میں ایم فل کیا ہوا ہے۔ نوکری نہیں ملی جو ملتی تھی،تنخواہ بہت کم ہوتی تھی۔اُس نے الیکٹریشن کی ایک دکان کھول لی، دو کاریگر رکھ لئے۔آج اُس کے پاس دو گاڑیاں ہیں۔ سارا دن اُس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے لوگ میں نے اُس کے سامنے وقت دینے کے لئے منت کرتے دیکھے ہیں۔ مجھے اُس کی باتیں اچھی لگیں۔ نوجوانوں میں یہ سوچ پروان چڑھنا چاہئے۔ یہ دفتری بابو کی مصنوعی چکا چوند انسان کو بھوکا مارتی ہے یا کرپشن پر اُکساتی ہے۔
کئی بار خیال آتا ہے کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو جھنجھوڑ کر جگایا جائے۔ وہ صرف مکھی پر مکھی نہ ماریں بلکہ نصاب کو جدید تقاضوں اور ضرورتوں سے ہم آہنگ کریں۔ مضمون کوئی بھی اُس کے ساتھ انفرمیشن ٹیکنالوجی، آرٹی فیشل انٹیلی جنس، ہنر مندی کے کورسز بھی پڑھائے جائیں تاکہ طالب علموں کی ڈگری صرف کاغذ کا پرزہ نہ رہ جائے بلکہ زندگی کے شعبوں میں کام آئے۔ جب کسی ایم فل اردو یا بی ایس کی ڈگری رکھنے والے کے پاس الیکٹریشن کا ہنر بھی ہو گا تو وہ بے روزگاری کے اُس عذاب سے نہیں گزرے گا،جس سے آج لاکھوں نوجوان گزر رہے ہیں۔ وہ اپنا کام شروع کر دے گا اور اُس وقت کرتا رہے گا جب تک ڈگری کے مطابق جاب نہیں مل جاتی۔
شاید بہت سے دانشوروں کو میری یہ تجویز عجیب لگے مگر صاحب زمینی حقائق کو دیکھیں تو خوف آتا ہے کہ ہم نے پڑھے لکھوں کی فوج ظفر موج کے سامنے بند باندھنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا۔ یہ طوفان کہیں صبر کے کناروں سے باہر نہ نکل آئے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)