سیاست اور صحافت
- تحریر خورشید ندیم
- سوموار 22 / جون / 2026
برادرم رؤف کلاسرا کو داد دیجیے کہ انہوں نے عوامی نمائندوں کے احوال ہمارے سامنے کھول دیے۔ اقبال نے اپنے بارے میں فرمایا تھا کہ’ میں ہوں محرمِ رازِ دورنِ میخانہ‘۔ ایک صحافی کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ سیاست کے رازوں کو جانتا ہے۔
رؤف کلاسرا صاحب نے ایسا ہی ایک راز طشت از بام کر دیا۔ اچھا ہوا کہ ان کی سنی گئی اور وزیراعظم نے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی۔کمیٹی سے ہمیں خیر کی امید ہے مگر معاملہ یہاں تک پہنچا کیسے؟ یہ سوال باعثِ تشویش ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی جس مقصد کے لیے اصلاً قائم ہوتی ہے، اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ یہ مقصد قانون سازی ہے۔ یہ خبر بتاتی ہے کہ قانون سازی انتہائی سہل انگاری کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمارے معزز اراکینِ اسمبلی قانون کا مسودہ نہیں پڑھتے۔ بحث تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ یہ رویہ اس تنقید کا دروازہ کھول دیتا ہے جو سیاستدانوں کی عمومی ساکھ کے لیے انتہائی مضر ہے۔ اسی سے غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کے لیے جواز پیدا ہوتا ہے اور خود جمہوریت تنقید کی زد میں رہتی ہے۔
پارلیمنٹ کی ساکھ کا تمام تر انحصار سیاسی جماعتوں کی قیادت پر ہے۔ یہ قیادت ہے جو انتخاب کرتی ہے کہ اس نے کن افراد کو اپنی اور عوام کی نمائندگی کے لیے اسمبلی اور سینیٹ میں بھیجنا ہے۔ اگر سیاسی قیادت سنجیدہ ہو تو وہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرے گی جو اسمبلی کے وقار میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا تو وہی کچھ ہو گا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ نظام کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ جب ایک مسودۂ قانون اسمبلی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو وہ کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ماہرین کی مدد سے اس کا ابتدائی ڈرافٹ تیار ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک کمیٹی کے پاس جاتا ہے۔ اس کے بعد اسمبلی کے فلور تک پہنچتا ہے تاکہ اس پر بحث ہو۔ پارلیمانی جمہوریت میں یہی ہوتا ہے۔ یہ ایک اچھا نظام ہے۔ اس میں خرابی اس وقت در آتی ہے جب ان آداب کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
صحافت کو سیاست کی دائی کہا جاتا ہے۔ اچھاصحافی جانتا ہے کہ درونِ خانہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ وہ بروقت خبردار کرے تاکہ کوئی ایسا قانون نہ بن سکے جو عوامی مفادات کے خلاف ہو۔ اسے یہ ستحقاق حاصل ہے کہ وہ خصوصی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہو سکتا ہے۔ رؤف کلاسرا صاحب جیسے صحافی انہی کمیٹیوں سے خبریں لاتے ہیں۔ خبر باہر آتی ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہےجیسے اب ہوا۔ حکومت کو ایک کمیٹی بنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ بصورتِ دیگر ممکن تھا کہ سینیٹ سے بھی یہ قانون اسی طرح منظور ہو جاتا جیسے قومی اسمبلی سے ہوا۔ پلوشہ خان، افنان اللہ خان اور سعدیہ عباسی صاحبہ جیسے سینیٹر بھی تعریف کے حقدار ہیں جنہوں نے مسودہ قانون میں کمزوریوں کی نشا ند ہی کی۔ یقیناً انہوں نے ایوانِ بالا کے وقار میں اضافہ کیا۔
ہماری پارلیمنٹ میں ایسے شاندار لوگ رہے ہیں جو ہمیشہ تیاری کے ساتھ آتے تھے۔ گمان ہے کہ کچھ اب بھی ہوں گے۔ میں نے جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد مرحوم کو سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے سنا ہے۔ سینیٹ میں ان کی تقاریر کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ میں نے اجلاس کے دوران میں ان کے معاونین کو کام کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ان تقاریر کو پڑھ کر خیال ہوتا ہے کہ اگر اراکینِ پارلیمان اس دیانت ا ور سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں تو کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ پارلیمان کی صف کو لپیٹے یا اراکینِ پارلیمان کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرے۔ اگر معاملہ یہ ہو کہ ایک بل کسی توجہ کے بغیر تمام مراحل طے کر جائے اور وہ صریحاً عوامی مفاد کے خلاف ہو تو پھر یہ ایوان تنقید کی زد میں آتے ہیں اور ان کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ صحافت اگر یہاں محاسبہ کرنے کے لیے موجود ہو تو وہ رکاوٹ بن سکتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی یہ مجبوری قابلِ فہم ہے کہ ٹکٹ جاری کرتے وقت وہ جیتنے کی استعداد کو پیشِ نظر رکھتی ہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم ووٹ دیتے وقت قبیلے برادری کو ترجیح دیتے ہیں، صلاحیت اور اہلیت کو نہیں۔ اگر صحافت ذمہ دار ہو تو وہ سیاسی جماعتوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے باصلاحیت اور اہل لوگوں کا انتخاب کریں۔ سیاسی جماعتوں کے پاس توازن پیدا کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے جب انہیں ٹیکنو کریٹس کے لیے انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کا انحصار عوامی ووٹوں پر نہیں ہوتا۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سیٹیں بھی شخصی اور گروہی مفادات کے زیرِ اثر تقسیم ہوتی ہیں۔ اب ماہرین اور ٹیکنو کریٹس کے نام پر وہ لوگ پارلیمان میں بھیج دیے جاتے ہیں جن کا کوئی تخصص نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔
ہمارے ہاں ایک ادارہ ’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری افیئرز‘ موجود ہے۔ یہ اراکینِ پارلیمان کی تربیت کے لیے قائم ہوا ہے۔ اس وقت ٹیلی کام کمپنیوں کو عوامی جائیداد پر جو حق دیا جا رہا ہے، اس کا مجوزہ قانون زیرِ بحث ہے۔ اس کا تعلق اہلیت کے ساتھ اخلاقیات سے بھی ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس کا تمام تر فائدہ ان کمپنیوں کو ملے گا جو پہلے سے عوام سے ان گنت سکیموں کے نام پر پیسے بٹور رہی ہیں اور دکھائی یہ دیتا ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اس قانون سے انہیں یہ حق بھی مل جائے گا کہ وہ عوامی جائیداد پر قبضہ کر لیں۔ جو لوگ عوام کے ووٹوں سے اسمبلی تک پہنچتے ہیں، یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مفادات کو ترجیح دیں اور اس کے لیے وہ اپنے رب کے حضور میں بھی جواب دہ ہوں گے۔ لازم ہے کہ اس حوالے سے بھی اراکینِ اسمبلی کو متوجہ کیا جائے اور ان کے تربیتی پروگرام میں اخلاقیات کو بھی شامل کیا جائے۔
سیاست ا ور صحافت کا اگر یہ رشتہ قائم رہے تو اس میں خیر ہے۔ اگر صحافت سیاست کو عوام دوست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تو اس سے صحافت کے وقار میں اضافہ ہو گا جو سیاست کی طرح سوالات کی زد میں رہتی ہے۔ زیرِ بحث مسودہ قانون پر بحث اور پھر وزیراعظم کا نوٹس لینا‘ ہمیں امید دلاتا ہے کہ صحافت اور سیاست سے وابستہ چند افراد بھی یہ ٹھان لیں کہ انہوں نے اس نظام کی اصلاح کو اپنا ہدف بنانا ہے تو یہ کوشش، ان شا اللہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ لازم نہیں کہ ہر کوشش ثمربار ہو۔ جیسے کلاسرا صاحب نے چینی سکینڈل کو افشا کیا مگر ان کی خبر کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ جب مفادات کی بنیاد پر لوگ ماورائے جماعت جتھا بنا لیں تو اس کو شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا یہ فائدہ بہرحال ہوتا ہے کہ عوام ان کرداروں سے واقف ہو جاتے ہیں جو ووٹ عوام کے نام پر لیتے ہیں مگر اسمبلی میں جا کر اپنے کاروبار کی رکھوالی کرتے ہیں۔
اس سے ایسے اراکینِ پارلیمنٹ بھی سامنے آتے ہیں جو پارلیمان کی آبرو ہوتے ہیں اور جن کے دم سے سیاست کا بھرم قائم رہتا ہے۔ خیر کی بنیاد پر صحافت اور سیاست کا رشتہ جمہوریت اور ملک کے لیے نیک شگون ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)