ایک وزیراعظم کی ضرورت!

برطانیہ ایک بار پھر سیاسی تبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ وزیر اعظم اور لیبر پارٹی کے رہنما سر کیئر سٹارمر نے تقریباً دو سال اقتدار میں رہنے کے بعد استعفے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد برطانیہ سات برسوں میں اپنا چھٹا وزیر اعظم دیکھنے جا رہا ہے۔

کئیر ا سٹارمر کا نام اب ان رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن میں رشی سوناک، لز ٹرس، بورس جانسن اور تھریسا مے شامل ہیں، جو مختلف سیاسی اور معاشی دباؤ کے باعث زیادہ عرصہ اقتدار میں نہ رہ سکے۔برطانیہ کو دنیا کی قدیم اور مستحکم جمہوریتوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہاں سیاسی قیادت کے حوالے سے جو غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس نے اس تاثر کو کسی حد تک دھندلا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کو وزیراعظم تو مل جاتے ہیں، مگر ایک ایسا وزیراعظم نہیں مل پاتا جو پائیداری، تسلسل اور واضح قیادت کی علامت بن سکے۔چند ہی سالوں کے دوران برطانیہ نے متعدد وزرائے اعظم کو آتے اور جاتے دیکھا۔ بریگزٹ کے سیاسی طوفان کے بعد قیادت کے بحران نے ایسی شکل اختیار کی کہ حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے کے بجائے اندرونی اختلافات، عوامی دباؤ اور معاشی چیلنجز کے بوجھ تلے تبدیل ہوتی رہیں۔ نتیجتاً عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرنے لگا کہ آیا مسئلہ افراد کا ہے یا سیاسی نظام کی اس کمزوری کا جس نے قیادت کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔

ایک ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہوتا ہے۔ جب قیادت بار بار تبدیل ہو تو ہر نیا وزیراعظم اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کے ساتھ آتا ہے، جس سے نہ صرف حکومتی سمت متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ معاشی مشکلات، مہنگائی، صحت اور سماجی خدمات کے مسائل ایسے شعبے ہیں جنہیں وقتی نہیں بلکہ مستقل اور مضبوط قیادت درکار ہوتی ہے۔برطانیہ کی حالیہ سیاسی تاریخ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف وزیراعظم کی کرسی کو پُر کرنا کافی نہیں، بلکہ ضرورت ایک ایسے وزیراعظم کی ہے جو اپنی جماعت کو متحد رکھ سکے، عوام کا اعتماد حاصل کر سکے اور قومی مفاد کو سیاسی مصلحتوں پر ترجیح دے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اداروں کے ساتھ ساتھ مضبوط اور ذمہ دار قیادت میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔آج جب دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی حالات کا سامنا کر رہی ہے، برطانیہ کو بھی شاید سب سے زیادہ ضرورت کسی نئے وزیراعظم کی نہیں، بلکہ ایک ایسے وزیراعظم کی ہے جو تبدیلیوں کے اس سلسلے کو روک کر استحکام، اعتماد اور مستقل مزاجی کی بنیاد رکھ سکے۔یہی وہ ضرورت ہے جسے برطانیہ کے عوام گزشتہ چند برسوں سے شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔

میری نظر میں برطانیہ کے سیاسی عدم استحکام کی اصل جڑ معیشت ہے۔ عام لوگوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ زندگی مسلسل مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکا، جس کے باعث بیشتر شہری اپنے معیارِ زندگی میں کوئی واضح بہتری محسوس نہیں کر رہے۔ دوسری طرف ٹیکسوں کا بوجھ بھی کئی خاندانوں کے لیے ایک مستقل پریشانی بن چکا ہے۔2024 کے عام انتخابات میں عوام نے تبدیلی کی امید پر لیبر پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دیا تھا۔ چودہ سالہ کنزرویٹو حکومت کے بعد لوگوں کو یقین تھا کہ شاید اب ان کے معاشی مسائل میں کمی آئے گی اور روزمرہ زندگی آسان ہو گی۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد لیبر حکومت وہ رفتار دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکی جس کی عوام کو توقع تھی۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سٹارمر کو ایک کمزور معیشت ورثے میں ملی تھی۔ بریکسٹ کے اثرات، وبا کے بعد کی مشکلات، یوکرین جنگ کے معاشی نتائج اور برسوں کی کفایت شعاری کی پالیسیوں نے برطانوی معیشت کو پہلے ہی کمزور کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود عوام نتائج دیکھنا چاہتے تھے، عذر نہیں سننا چاہتے تھے۔ جب لوگوں کی زندگیوں میں بہتری محسوس نہ ہوئی تو مایوسی بڑھتی گئی۔بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی اسی مایوسی کا اظہار تھی۔ عوام نے واضح پیغام دیا کہ وعدے کافی نہیں، نتائج درکار ہیں۔ سٹارمر کی حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے اور رہائشی منصوبوں کو تیز کرنے جیسے بعض مثبت اقدامات کی بات ضرور کی، لیکن ان کے اثرات عوام تک پہنچتے دکھائی نہیں دیے۔

اب برطانیہ ایک نئے وزیر اعظم کی طرف دیکھ رہا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ صرف قیادت کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اصل ضرورت معاشی استحکام، واضح حکمتِ عملی اور ایسے فیصلوں کی ہے جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لا سکیں۔ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا آنے والی حکومت کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔برطانیہ کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا وزیر اعظم کون ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا نئی قیادت عوام کو یہ یقین دلا سکے گی کہ ملک درست سمت میں جارہا ہے۔ اگر عوام کی معاشی مشکلات کم نہ ہوئیں تو صرف چہروں کی تبدیلی سیاسی استحکام نہیں لا سکے گی، اور برطانیہ بدستور قیادت کے بحران اور عوامی بے چینی کے اسی دائرے میں گھومتا رہے گا۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے موجودہ مکین کیئرا سٹارمر کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد برطانیہ ایک بار پھر سیاسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اگر یہ تبدیلی طے شدہ انداز میں مکمل ہوتی ہے تو ملک چار برسوں میں اپنا پانچواں وزیر اعظم دیکھے گا، جو خود برطانوی سیاست میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔کئیر اسٹارمر کا استعفیٰ اگرچہ اچانک نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود ایک اہم سیاسی واقعہ ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت دلانے والے رہنما گزشتہ کئی ماہ سے اپنی ہی جماعت کے اراکینِ پارلیمنٹ کے دباؤ کا سامنا کر رہے تھے۔ پارٹی کے اندر یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ عوام کو جس تبدیلی کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ مطلوبہ رفتار سے سامنے نہیں آ رہی۔تاہم اب تمام نظریں اینڈی برنہم پر مرکوز ہیں، جو گورڈن براؤن کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں اور حال ہی میں گریٹر مانچسٹر کے میئر کے عہدے سے الگ ہوئے ہیں۔ لیبر پارٹی کے اندر ایک بڑی تعداد انہیں وہ شخصیت سمجھتی ہے جو نائیجل فاریج اور ان کی ریفارم پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مؤثر مقابلہ کر سکتی ہے۔

کیئرا سٹارمر نے سیاست میں ایک سنجیدہ، محتاط اور عملی رہنما کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر ان کا پس منظر اور ان کا نسبتاً نرم مزاج انداز بہت سے لوگوں کے نزدیک اس امید کی علامت تھا کہ وہ برسوں کے سیاسی انتشار کے بعد برطانیہ کو استحکام فراہم کر سکیں گے۔ لیکن ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ وہ عوام کو متاثر کرنے والے سیاسی جذبے اور واضح نظریاتی سمت کا مظاہرہ نہیں کر سکے، حالانکہ انہیں ایک صدی کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت حاصل تھی۔اگر اینڈی برنہم کی قیادت کو کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش نہ ہوا تو توقع ہے کہ وہ جولائی کے وسط تک لیبر پارٹی کے نئے رہنما منتخب ہو جائیں گے۔ اس کے بعد روایتی آئینی طریقہ کار کے تحت بادشاہ انہیں حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ تاہم اصل امتحان قیادت حاصل کرنے کا نہیں بلکہ اس اعتماد کو بحال کرنے کا ہوگا جو برطانوی عوام تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ آج برطانیہ کا مسئلہ صرف وزیر اعظم کی تبدیلی نہیں بلکہ ایسی قیادت کی تلاش ہے جو عوام کو یہ یقین دلا سکے کہ ملک واقعی بہتر سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ درحقیقت کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ وہ دن بدن عوام میں غیر مقبول ہوتے جا رہے تھے، اپنی جماعت کے اندر بھی تنقید کا سامنا کر رہے تھے اور ان پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی چھوڑ دیں۔ بالآخر انہوں نے وہی کیا جو جمہوری معاشروں میں کبھی کبھار سیاست دانوں کو کرنا پڑتا ہے: یہ تسلیم کرنا کہ اقتدار عوام کے اعتماد سے قائم رہتا ہے، محض خواہش سے نہیں۔ ہمارے خطے میں یہ منظر کچھ اجنبی سا لگتا ہے، جہاں مقبولیت گرتی رہے، احتجاج بڑھتے رہیں اور ساتھی بھی ساتھ چھوڑتے جائیں، پھر بھی حکمران خود کو قوم کی آخری امید قرار دیتے رہتے ہیں۔ کئیراسٹارمر کے استعفے نے کم از کم یہ یاد دلایا ہے کہ ایک وزیراعظم کی ضرورت صرف اقتدار سنبھالنے کے لیے نہیں بلکہ وقت آنے پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے چھوڑنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔