منافقت کا صدر دفتر

لاس اینجلس امریکہ میں مقیم چھوٹے بھائیوں جیسے دوست اور ہمدمِ دیرینہ شفیق سے میری صرف امریکی سیاست پر گفتگو ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے حوالے سے مجھے اس کے نظریات سے اتفاق نہیں۔ تاہم اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کے بارے میں مجھ سے گفتگو ہی نہیں کرتا۔

میری اور اس کی ساری گفتگو صرف اور صرف امریکی سیاست پر ہوتی ہے۔ اس کی امریکی سیاست پر کافی گہری نظر ہے اور وہ ایک محقق اور سیاسی طالب علم کے طور پر اس کا بے لاگ تجزیہ کرتا ہے۔ امریکی سیاست کے حوالے سے عام طور پر اس کا تجزیہ سو فیصد درست نکلتا ہے۔ امریکی سیاست پر میں اسے اپنے جاننے والے امریکہ میں رہائش پذیر دوستوں میں سب سے زیادہ باعلم شخص تصور کرتا ہوں۔ وہ میرے دوستوں میں واحد شخص ہے جو امریکی سیاست کو جانچنے اور سمجھنے کی شعوری کوشش کرتا ہے، پڑھتا ہے اور غور کر کے نتائج اخذ کرتا ہے۔ باقی دوستوں کو لاحاصل پاکستانی سیاست سے ہی فرصت نہیں ملتی۔

ندیم سعید سے (جب وہ لندن میں تھا تب بھی اور اب جبکہ وہ امریکہ میں ہے) پاکستان کے عالمی منظرنامے میں مقام،اس میں بہتری یا تنزلی، برصغیر کی علاقائی صورتِ حال کے بین الاقوامی تناظر میں تجزیے اور عمومی بین الاقوامی سیاست پر بات ہوتی ہے۔ وہ ایک غیر جانبدار اور باخبر صحافی کے طور پر نہایت ایمانداری سے اپنا تجزیہ، اپنے اندازے اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ایک غیر جانبدار اور اس سے بڑھ کر اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں بیٹھے ہوئے شخص کے طور جسے بہت سے ممالک کے نمائندوں کے خیالات سے آگاہی جیسی سہولت میسر ہو، حالیہ ایران امریکہ تنازعے سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں پاکستان کی امن کوششوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے وہ مناسب ترین شخص تھا۔ کسی درست اور مناسب جواب کے حصول کے لیے یہ سوال بہرحال پاکستان میں بہت سے دوستوں سے نہیں کیا جا سکتا۔

 جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں سیاسی تجزیہ غیر جانبدار نہیں رہا۔ ہر شخص کا اپنا اپنا سچ ہے۔ اس سچ کے پیچھے اس کی اپنی پسند وناپسند اور سیاسی وابستگی کارفرما ہوتی ہے۔ ابھی میں اس میں مفاداتی معاملات شامل نہیں کر رہا کیونکہ اس سے بات کہیں کی کہیں چلی جاتی ہے لیکن بہرحال یہ بھی ایک مضبوط عامل ہے۔ تاہم میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان میں بہت سے صحافی اب کسی نہ کسی کیمپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ بہت سے لوگ غیر جانبدار صحافت کے بجائے لابیسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے والے لوگ خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ پاکستان میں کسی سے یہ سوال کریں کہ حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازعے کے بعد علاقائی صورتحال میں جو ابتری پیدا ہوئی تھی ،اسے بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششیں کیا رنگ لائیں، ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور اس کے پاکستان کے عالمی امیج پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔تو آپ کو اس سوال کا جواب دو انتہائی صورتوں میں ملے گا اور یہ جواب دو سو فیصد مثبت یا اڑھائی سو فیصد منفی نتائج پر مشتمل ہو گا۔

 ندیم سعید سے پوچھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ، بعد از جنگ کشیدگی اور انتہائی بگڑے ہوئے تعلقات کو صلح کی جانب لانے اور پورے خطے کی صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان نے جو کردار انجام دیا ہے  اور جس طرح امریکہ اور ایران کے باہمی تعلقات جو انتہائی کشیدگی کا شکار تھے، اس میں سہولت کار کا فریضہ سرانجام دیا ہے جو کامیابی کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اس ساری پیش رفت میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار کے بارے میں کیا عمومی رائے ہے اور کیا اس ساری بھاگ دوڑ سے پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے یا یہ ساری کوشش محض کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مترادف ثابت ہوئی ہے؟وہ بتانے لگا کہ اس ساری بھاگ دوڑ کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ عالمی سطح پر سکون کا باعث بنی ہے۔ خاص طور پر تیل کی سپلائی کی بحالی کے جو امکانات پیدا ہوئے ہیں،  ان سے بہت سے ممالک مستفید ہوں گے۔ اس حوالے سے مذاکرات میں سہولت کار کے طور پر مؤثر کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔

جن حلقوں میں پاکستان کے بارے میں کوئی خاص تاثر موجود نہیں تھا یا منفی تاثر پایا جاتا تھا وہاں یہ تاثر کافی بہتر ہوا ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی کامیابی کے بعد پاکستان کا امیج عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مختلف اطراف سے ملنے والی داد و تحسین بھی اس مثبت تاثر کی گواہی دیتی ہے۔ ندیم سعید کے مطابق حالیہ ایران، امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریق ایک باعزت راستہ تلاش کر رہے تھے جس کے ذریعے وہ اس صورتحال سے نکل سکیں۔ اس خواہش میں ایران کی نسبت امریکہ زیادہ دلچسپی رکھتا تھا۔ تاہم جو فریق خود کو دنیا کا بلاشرکت غیرے  چودھری سمجھتا ہو اس کے لیے شکست تسلیم کرنا، اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا اور مصالحت کی طرف آنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے مطابق غالب گمان یہ ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں امریکی خواہش کے پیشِ نظر مصالحتی کردار ادا کرنے کے لیے آگے لایا گیا۔ پاکستان نے اس دوران خاصا فعال کردار ادا کیا اور ان فریقین کو جو شدید اختلافات اور تنازعات میں الجھے ہوئے تھے بالآخر کسی نہ کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی طرف لانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان تمام تفصیلات سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ ان کاوشوں کے نتیجے میں عالمی برادری میں پاکستان کی اہمیت، وقار اور سفارتی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ندیم سعید کا ایک غیر جانبدارانہ تبصرہ تھا۔

میں نے نیویارک کے علاقے مین ہیٹن سے گزرتے ہوئے متعدد بار اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر کی عمارت کو دیکھا ہے۔ ایسٹ ریور کے کنارے واقع تقریباً سترہ سے اٹھارہ ایکڑ پر مشتمل صدر دفتر کا یہ کمپلیکس اپنے سیکرٹریٹ کی 39منزلہ منفرد اور شاندار عمارت کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پانچ سو فٹ سے زیادہ بلند سبزی مائل نیلگوں شیشوں والی یہ عمارت کافی فاصلے سے نظر آ جاتی ہے۔اس عمارت کی سینکڑوں تصاویر دیکھنے کے بعد برسوں قبل جب پہلی مرتبہ اسے نیویارک کی فلک بوس عمارتوں کے درمیان دیکھا تو اسے پہچاننے میں لمحہ بھر کی بھی دقت نہ ہوئی۔ اس کمپلیکس کے مشرق میں ایسٹ ریور،مغرب میں فرسٹ ایونیو، شمال میں پینتالیسویں سٹریٹ اور جنوب میں اڑتالیسویں سٹریٹ واقع ہے۔ اس عمارت کے پاس سے بارہا گزرتے ہوئے اسے اندر سے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ مگر یہ خواہش بس خواہش ہی رہی۔ تاہم اب ندیم سعید کے توسط سے اس عمارت تک رسائی صرف ممکن ہی نہیں، آسان بھی تھی۔ اس نے کہا کہ صبح ہم یو این ہیڈکوارٹر چلیں گے تو ایک بار پرانی دلی تمنا نے تھوڑا سرخوشی کا اظہار کیا مگر میں نے انکار کر دیا۔ میں نے ندیم سعید کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کو پڑھ لیا۔ میں نے کہا: دل اب منافقت بھرے سمندر میں تیرنے سے انکاری ہو گیا ہے۔ دل اب اس بلند وبالا عمارت کی عملی بے وقعتی، منافقت، فریب اور طبقاتی انصاف سے اُوب گیا ہے۔

طاقتوروں کی غلام اور کمزوروں پر اپنے احکامات مسلط کرنے والی اس تنظیم کے صدر دفتر کو دیکھنے کی خواہش پہلے غزہ اور اب ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت پر سوئے رہنے کے بعد مر چکی ہے۔ اس عمارت کے اندر جانا تو کجا، اب تو باہر سے بھی دیکھنے کو دل نہیں کرتا۔ یہ اقوام عالم کا نہیں، منافقت کا صدر دفتر ہے۔ چلو کسی بینچ پر بیٹھ کر کافی پیتے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)