قطر میں ایرانی فنڈز کے انتظام کا امریکی ادارہ قائم کیاجائے گا: وزیر خزانہ

  • بدھ 24 / جون / 2026

امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے گا جو ایران کے منجمد فنڈز کی نگرانی کرسکے گا۔

امریکی وزیر خزانہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کا ایک ’بڑا حصہ‘ خوراک اور ادویات کی(خصوصاً امریکہ سے) خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔سکاٹ بیسنٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان فنڈز کی نگرانی کے لیے امریکی محکمہ خزانہ دوحہ میں اپنا ایک آپریشنل سیل قائم کرے گا۔

دوسری جانب بی بی سی فارسی کے مطابق ایران نے امریکہ سے زرعی اور دواسازی کی مصنوعات خریدنے کے دعووں کی تردید کی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خود طے کریں گے کہ یہ فنڈز کہاں خرچ کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ فنڈز کو امریکہ کے کسانوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران میں خوراک کی شدید قلت ہے اور یہ اشیا امریکہ سے فراہم کی جائیں گی۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی ایران کے اپنے فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔ ٹروتھ سوشل پر لکھے گئے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، نہ انشورنس اخراجات لیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور فیس وصول کی جا رہی ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے کچھ فنڈز، جو اس کے کنٹرول میں ہیں، استعمال کرتے ہوئے اپنے کسانوں اور مویشی پالنے والوں سے مکئی، گندم، سویا بین اور دیگر زرعی اجناس خریدے گا۔ ایران میں خوراک کی شدید ضرورت ہے اور یہ اشیا خصوصی طور پر امریکہ سے خرید کر فراہم کی جائیں گی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان  طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکہ ایران مذاکرات کے لیے قائم کی گئی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور بطور ثالث آنے والے ہفتوں میں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتی رہیں گی۔

صحافیوں کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی نے بتایا کہ ’میرے خیال میں مذاکرات اگلے ہفتے شاید منگل کو دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔‘ انہوں نے بتایا کہ21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

دوسرے مرحلے کے لیے تین مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں، پہلا گروپ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق معاملات کو دیکھ رہا ہے، دوسرا گروپ پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے امورکا جائزہ لے رہا ہے جبکہ تیسرا گروپ لبنان کی صورتحال پر کام کررہا ہے۔ پاکستان اورقطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔