بس ایک سوال

واہ جی واہ بہت اچھی اچھی خبریں آ رہی ہیں۔ ایران امریکہ میں معاہدے کے بعد اس کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایران کے کچھ اثاثے بحال کر دیئے گئے ہیں،کچھ پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں جن میں یہ بڑی پابندی بھی جزوی طور پر ختم کر دی گئی ہے کہ ایران اپنا تیل اب دس ممالک کو فروخت کر سکتا ہے۔

 میں نے جب یہ خبر دیکھی تو بڑے تجسس سے اُن ممالک کے نام جاننے کی کوشش کی جنہیں ایران اب تیل فروخت کر سکتا ہے۔ مجھے یقین تھا ان میں پاکستان نام ضرور ہو گا،کیونکہ ہم نے ایران امریکہ کے درمیان معاہدہ کرانے میں بھرپور ثالثی کی ہے اور اب تک اپنا کردار ادا کر  رہے ہیں۔ مگر مجھے مایوسی ہوئی کیونکہ اُن ممالک میں پاکستان شامل نہیں۔ ایسا کیوں ہوا،کیا ہم نے یہ رعایت نہیں مانگی، یا ایران نے یہ رعایت نہیں دی یا پھر امریکہ بہادر اور ڈونلڈ ٹرمپ آڑے آ گئے۔

ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ہمارا ہمسایہ ہے،جتنی بہتر تجارت ہماری ایران سے ہو سکتی ہے اور کسی سے نہیں ہو سکتی۔ پھر تیل کی فراہمی تو بغیر سمندر کو درمیان میں آئے ایران سے ممکن ہے۔ پائپ لائن بھی بچھ چکی ہے، بہت سستا تیل ہمیں مل سکتا ہے لیکن ہمیں اجازت نہیں۔اس میں شاید عرب ممالک کی طرف سے بھی کچھ رکاوٹ ہو، جن سے ہم تیل درآمد کرتے ہیں اور اُدھار پر لیتے ہیں اگر اُنہیں چھوڑ کر ہماری ضروریات ایران پوری کرنے لگتا ہے تو یہ اُن کیلئے بھی ایک بڑا نقصان ہو گا۔ کیونکہ پاکستان کا شمار تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس لئے شاید ہم اس معاہدے میں اتنا بڑا کردار ادا کرنے کے باوجود اس پابندی کی زد میں رہیں۔

 اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہماری ٹریڈ بھی آزاد نہیں اور ہم کئی اقسام کی پابندیوں کا شکار ہیں۔اب سوال یہی جنم لیتا ہے اور ہر پاکستانی پوچھ بھی رہا ہے کہ چالیس سال بعد اگر امریکہ ایران ایک معاہدے کے تحت اپنی سفارتی حیثیت کو بحال کرتے ہیں اور ایران پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے تو کیا ہمارے اُس کردار کا ہمیں بطور قوم کوئی فائدہ  ہو گا جو ہم نے اس سارے عرصے میں ادا کیا۔اپنی معیشت کو دباؤ میں رکھا اور خود ہمارے رہنما کہتے رہے کہ ہم ایران امریکہ تصادم کی وجہ سے کئی سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے ہم صرف تعریفوں کے لڈو کھا کے بیٹھ جائیں اور ہماری معیشت پھر ہچکولے کھاتی رہے۔ ہم پھر آئی ایم ایف کی غلامی کرتے رہیں اور وہ ہمارے آٹے دال کے بھاؤ بھی خود طے کرے۔

 آئی ایم ایف کیا ہے، سب جانتے ہیں امریکہ ہے، امریکہ سے اتنے اچھے روابط کے باوجود اگر آئی ایم ایف ہمارے ساتھ ظالم بنئے جیسا سلوک کرتا ہے تو پھر ہم کس لئے مفت کی سردردی پالے ہوئے ہیں۔آج کی دنیا میں ہر ملک اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ذاتی نہیں ملک کا مفاد سب سے بڑی حقیقت مانا جاتا  ہے۔ اس ڈیڑھ دو ماہ کے عرصے میں جو کچھ بھی ہوا، دنیا کے ہر ملک نے کوشش کی کہ اُس کے مفاد پر زد نہ پڑے۔ وہ چاہے یورپ ہو یا لاطینی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ ہو یا سنٹرل ایشیا سب اِس کوشش میں رہے کہ اپنا دامن محفوظ رکھیں۔کئی ایک نے تو امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ مقصد یہی تھا کہ اپنے قومی مفاد کو بچایا جائے۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ پیچ و تاب بھی کھاتے رہے اور انہوں نے اپنے ہی دوستوں کو دھمکیاں بھی دیں لیکن بات نہیں بنی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ امریکی صدر ایران کے معاملے میں تنہاہو گئے تھے۔ یہی تنہائی انہیں شکست کی طرف لے آئی اور وہ ایران کےساتھ جنگ بندی اور بعدازاں ایک معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔

 آج دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ فتح ایران کی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت بھی اس جنگ بندی کے معاہدے کو ایران کی برتری قرار دے رہی ہے۔یہ سب کچھ سامنے کی حقیقت ہے اور یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی ڈھپی نہیں کہ امریکہ کو اس سارے عرصے میں جس ملک کا سہارا ملا،وہ پاکستان ہے، کیونکہ ایک وقت ایسا آ گیا تھا کہ دنیا کا کوئی ملک بھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا آغاز ہی کرا سکے۔  ہر ملک کی اپنی مجبوریاں اور اپنی سفارتی حدود تھیں۔ یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے صدقے واری جا رہے ہیں تو اس کا سبب بھی یہی ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق اپنی شکست کے لمحات میں امریکی صدر کو پاکستان کے سوا کوئی ایسا کندھا نہیں مل رہا تھا جس پر اپنا سر رکھ کر رو سکیں۔ یہ پاکستان کا شاندار سفارتی کردار بھی تھا جو اُس نے اِس جنگ کے دوران ادا کیا، نازک حالات کے باوجود ایسی سفارت کاری کی کہ امریکہ اور ایران دونوں کیلئے ایک قابل قبول ثالث کی حیثیت برقرا رکھی، جہاں بڑے بڑے ممالک، یعنی چین،روس،برطانیہ، جرمنی کسی بھی کردار کیلئے تکنیکی طور پر مس فٹ ہو گئے، وہاں پاکستان نے اپنے کردار کی مصنوعی اور غیر جانبداری کو  متنازعہ نہیں ہونے دیا۔

اب سوال پھر وہی ہے کہ جب اتنا کچھ ہو رہا تھا تو پاکستان کے مفادات کی بات کیوں نہ ہوئی ۔اگر ایران کے ذریعے ہی یہ شق معاہدے میں شامل کروا لی جاتی کہ جن ممالک کو تیل فراہم کرنے کی اجازت ہو گی اُن میں پاکستان بھی شامل ہو، تو ایسا عین ممکن تھا اگر یہ پابندی ہٹ جاتی تو ضروری نہیں تھا کہ ہم فوری ایران سے تیل درآمد کرتے۔ البتہ اس پابندی کے ہٹ جانے سے اُن عرب ممالک پر ایک دباؤ ضرور پڑتا جن سے ہم تیل لیتے ہیں اور وہ قیمت کے تعین میں لچک دکھانے پر مجبور ہو جاتے۔صرف  تیل ہی نہیں ایران سے ہمارے تجارتی روابط بھی بحال  ہونے چاہئیں۔ ہماری برآمدات کا ایک بڑا مرکز ایران بن سکتا ہے۔ اسی طرح ایران سے ہماری سستی تجارت کے دونوں ممالک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہم نے دنیا میں یقینا ً اپنے سفارتی کردار کو منوا لیا ہے مگر سوال پھر وہی ہے اس کامیابی کے بعد ہم معاشی استحکام کی طرف بڑھے ہیں یا نہیں؟

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)