مشرق وسطیٰ میں اُبھرتے ہوئے نئے امکانات
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 24 / جون / 2026
ایران امریکہ جنگ، پاکستان کی اَن تھک ثالثی دوڑ دھوپ اور دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک کے ظاہری و خفیہ تعاون کے باعث بند ہو چکی ہے فتح یا شکست کا تعین کرنا سردست مشکل ہے لیکن ایران جو ایک عرصے سے عالمی امریکی پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا، اب ان پابندیوں سے آزاد ہونے لگا ہے۔
اسے اپنا تیل اپنی مرضی سے بیچنے کی اجازت بھی ہو گی ،اس کے منجمد اثاثے تحلیل ہوں گے، ایران کو اپنی دولت خود استعمال کرنے کی اجازت بھی ہو گی،ایران اپنی بدحال معیشت کو درست کرنے اور اس کی تعمیر نو کے ذریعے تعمیر و ترقی کے سفر کا آغاز کر سکے گا ۔یہ سب کچھ ایرانی فتح نہیں تو اور کیا ہے۔ایران کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے اسے مالی تعاون بھی میسر ہو گا۔ ایران دیگر ممالک کے ساتھ تعاون و اشتراک کے ذریعے اپنی خوشحالی کا بندوبست کرنے میں آزاد ہو گا۔ یہ فتح و نصرت نہیں تو اور کیا ہے؟ ہاں امریکہ یہ کہہ کر کہ ایران کو ہر گز ہر گز ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دی جائے گی اپنی فتح کا اظہار کر رہا ہے، کرنے دیجئے۔
ایران تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ہم ایٹم بم بنانا نہیں چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے بڑے امام کا فتویٰ بھی موجود ہے اور یہ ایران کی ریاستی پالیسی بھی ہے کہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے جائیں گے۔ ویسے ایران نے تو این پی ٹی پر دستخطوں کے ذریعے اس بات کا عملی ثبوت بھی دے دیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر یقین نہیں رکھا۔ ایران نے تو ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے اہلکاروں، معائنہ کاروں کو بھی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ جب چاہیں ایران آئیں، ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کریں اور دیکھیں کہ ایران اپنے عہد و پیمان پر قائم ہے اور وہ ایٹم بم بنانے کی تیار نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ وہ صرف توانائی کے حصول کیلئے کوشاں ہے ۔ایٹمی صلاحیت سول مقاصد کیلئے حاصل کی جا رہی ہے ،ملٹری مقاصد کیلئے نہیں۔
ایران ایک عرصے تک اپنے اس عزم پر قائم رہا، پھر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے باراک اوباما کے ساتھ کئے گئے ایرانی معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تو ایران کے پاس کچھ بھی کرنے کا جواز ہاتھ آ گیا اور اس نے ایٹمی افزودگی کی سطح بلند کر دی اس طرح ایران نے 450 کلو گرام تک افزودہ یورینیم حاصل کر لیا جس کی افزودگی کی شرط 60فیصد یا اس سے زیادہ تھی جو سول معاملات کیلئے نہیں، بلکہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ اب اسی یورینیم کے اتلاف کیلئے چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت میں ذکر کیا گیا ہے کہ اسے کس طرح ایران کی دسترس سے باہر نکالا جائے گا کیونکہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر قائم نظر آتا ہے۔ اور اتنی بلند شرح افزودگی والا یورینیم اس کے کسی کام کا نہیں ہے ۔امریکہ اسی حوالے سے باتیں کر کے اسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔
بات اب فتح یا شکست کی نہیں رہی بلکہ جنگ بندی کے بعد مستقل امن قائم کرنے کے معاملات طے کئے جانے ہیں۔ایران،عرب اور اسرائیل اس معاملے میں فریق ہیں امریکہ اسرائیل کے سرپرست کے طور پر اس معاملے میں اہم فریق ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے امریکہ ایک بڑی معاشی، عسکری اور تہذیبی طاقت ہے۔مشرق وسطیٰ میں ہی نہیں یورپ و مشرق بعید میں بھی اس کی نفوذ پذیری ہے گو چین ایک عظیم الجثہ معاشی و عسکری طاقت بن چکا ہے اور اس کی عالمی سطح پر نفوذ پذیری بھی اظہر من الشمس ہے۔ لیکن اس کے پاس ابھی تک اس طرح کی قوت نافذہ موجود نہیں ہے جس طرح کی امریکہ کے پاس ہے۔ امریکہ اب بھی اپنی شرائط پر اصرار بھی کرتا ہے اور منوا بھی لیتا ہے۔ حالیہ جنگ میں امریکی طاقت اور قوتِ نافذہ کو زک پہنچی ہے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے امریکی اہداف اور اسرائیل پر قہر و غضب نازل کر دکھایا ہے۔ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایران نے اپنی جغرافیائی قوت و طاقت کا عملی مظاہرہ بھی کر دکھایا ہے۔اسرائیل کی کمزوری بھی عربوں پر ہی نہیں دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔
اسرائیل کو تباہ و برباد کرنا ممکن نظر آنے لگا ہے۔امریکی و مغربی اقوام کی عملی امداد کے بغیر اسرائیل کو کسی مکھی مچھر کی طرح مسلا اور کچلا بھی جا سکتا ہے ۔شرط عزم صمیم کی ہے جو ابھی تک عربوں کے پاس نہیں ہے، مسلمانوں کے پاس نہیں ہے،کسی بھی قوم کے پاس نہیں ہے۔ بہرحال اس جنگ نے خطے کی ترتیب نو کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔ اب نئے اتحاد بنیں گے، معاشی اتحاد بھی اور عسکری اتحاد بھی۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے ساتھ بھی اس کی ابتدا ہو گئی ہے۔چین کا اثر و نفوذ خطے میں بڑھے گا، جنگی تباہ کاریوں کے بعد تعمیر نو کے عمل میں چین کلیدی کردار ادا کرے گا۔ متحدہ عرب امارات میں تعمیر نو کا عمل ہو یا ایرانی تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نیوم سٹی کا قیام چین ایک اہم عامل کی حیثیت میں نمایاں ہو گا۔ امریکی فوجی اڈوں کا حال تو پہلے ہی مخدوش ہو چکا ہے ان کے مستقبل پر بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ عربوں نے امریکہ کو کھربوں ڈالر اس لئے دیئے کہ وہ ان کی حفاظت کریے گا لیکن حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ صرف اور صرف اسرائیل کیلئے ہے ۔سارے اڈے صرف اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آئے۔ عرب نہتے اور بے یارو مددگار رہے۔
یہی تحریر اور سوچ اب خطے کی تشکیل نو کرے گی۔ امریکی اثرات کم ہوں گے۔پاکستان اور چین کے ساتھ ترکی، قطر اور سعودی عرب بڑے کھلاڑیوں کے طور پر خطے کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔مشرق وسطیٰ میں ایران ایک اہم اور فیصلہ کن عامل کے طور پر اُبھرے گا۔ ایران کے حلیفوں بشمول حزب اللہ، خوثیوں و دیگر جنگجو گروہوں کے بارے میں سرد ست کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن خطے کی تشکیل نو ایک طرف خطے میں اَمن و خوشحالی کا پیام لائے گی تو دوسری طرف عالمی معیشت میں بھی بہتری اور بڑھوتی ہو گی۔ روس یوکرائن جنگ کے منفی اثرات نے یورپ اور اقوام مغرب کے طرز معاشرت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی اور دہشت گردی کو کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ اس جنگ میں امریکی اتحادیوں اور ناٹو ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔سفارتی سطح پر بھی انہوں نے نہ صرف امریکی جنگ کی مخالفت کی بلکہ اسرائیل کے مذموم رویوں کی بھی مذمت کی۔ اس جنگ میں عالمی رائے عامہ امریکہ کے ساتھ نہیں تھی۔ اسرائیل کی عالمی حمایت میں بھی کمی دیکھی گئی۔
اسرائیل کے خلاف جس مزاحمت کا آغاز حماس نے کیا ایران نے اسے مکمل کیا۔ امریکہ و اسرائیل سرخرو نہیں ہوئے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عرب و مسلم ممالک بدلتے ہوئے حالات کو فہم و فراست کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)