بحران سے نکلنے کے دو راستے

پاکستان کے پاس موجودہ بحران سے نکلنے کے صرف دو ہی راستے ہیں۔ ایک   مکمل اور   قابل توجہ معاشی  احیا اور عوام کے زندگیوں میں محسوس کی جانے والی واضح تبدیلی۔ دوسرا راستہ مکمل سیاسی اعتماد کی بحالی اور مل جل کر ملکی مسائل حل کرنے پر اتفاق رائے  سے ہوکر گزرتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت یا اس کی سرپرستی کرنے والی اسٹبلشمنٹ ان دونوں میں سے کوئی ایک راستہ بھی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہی۔

ملک میں ہائیبرڈ نظام کا چرچا ہے۔ اس بارے میں نت نئی موشگافیاں سننے میں آتی رہتی ہیں لیکن  اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ شہباز شریف کی سربراہی میں قائم حکومت کو فوجی قیادت کا مکمل تعاون دستیاب ہے ۔  دونوں طرف سے اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ وزیر اعظم   توکوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے  نہیں دیتے جب وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے نہ ملائیں۔ انہوں نے ملکی سیاست میں طویل مدت گزارنے کے بعد یہی ایک ہنر سیکھا  ہے کہ خوشامد اور چاپلوسی سے فوجی قیادت  کو ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی معاملہ پر  کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا نہ کیا جائے۔ وہ سمجھتے رہے ہیں اور اب کرکے دکھا رہے ہیں کہ  عسکری لیڈروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کا  قومی  مقصد کے  لیے یا انفرادی طور سے  سود مندنہیں ہوسکتا۔ وہ  یہی نسخہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو بھی ازبر کرانے کی کوشش کرتے رہے تھے لیکن بڑے شریف نے جب بھی اقتدار سنبھالا، کسی نہ کسی سوال پر  فوجی لیڈروں سے بگاڑ پیدا کیا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت بار بار ختم ہوتی رہی۔ بالآخر اب اقتدار کا ہما شہباز شریف کے سر پر بیٹھا ہے تو وہ  اپنی اس صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں۔

یہ طریقہ  شہباز شریف کے اقتدار کی حفاظت کی حد تک  تو درست ثابت ہورہا ہے لیکن قومی مسائل کے حل میں اس رویہ سے کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ایک ممتاز صحافی نے گزشتہ دنوں موجودہ حکومت کے دن گن جانے کے بارے میں پیش گوئی پر مشتمل تجزیہ پیش کیا اور مؤقف اختیار کیاکہ جو حکومت معاشی مسائل حل نہ کرسکے اور سیاسی بحران سے ملک کو نہ نکال سکے، اس کا تادیر قائم رہنا ممکن نہیں ہوسکتا۔   بعد میں ملک کے متعدد تجزیہ نگاروں نے اس مؤقف کی تائید کی۔ تاہم حکومت  نے اس پر کوئی خاص ردعمل دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

البتہ ان عوامل کا احاطہ کرتے ہوئے جن کی وجہ سے موجودہ حکومت کو ختم ہوجانا چاہئے، یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ حکومت صرف شہباز شریف کا نام تو نہیں  ہے۔ اگر بعض سیاسی مجبوریوں یا اسٹبلشمنٹ کے دباؤ کی وجہ سے موجودہ حکومت تبدیل کرنے کی نوبت آجائے تو کیا ہوگا؟  تجزیوں میں حکومت تبدیلی کی نوید دینے والے بھی نئے انتخابات کی بات نہیں کرتے۔ اس طرح یہ اندازے صرف ایک فرد یاسیاسی پارٹی کے طرز عمل کے بارے میں گفتگو تک محدود ہوجاتے ہیں۔ فرض کرلیا جائے کہ  موجودہ سیٹ اپ میں  شہباز شریف کی بجائے کسی دوسرے کو وزیر اعظم بنانے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو وہ  یا تو مسلم لیگ (ن) کے اندر سے شہباز شریف کی بجائے  کسی دوسرے لیڈر کو وزارت عظمی کا منصب دینے کے لیے ہوگی یا پھر پیپلز پارٹی پر بھروسہ کرکے اس کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو یہ عہدہ  مل سکتا ہے۔  اول تو یہ دونوں تبدیلیاں کسی بھی طرح ممکن دکھائی نہیں دیتیں۔ لیکن اگر طاقت ور اسٹبلشمنٹ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے اس حد تک مایوس ہوجائے تو  کیسے یہ ہدف حاصل کیا جائے گا اور اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ کیا کوئی بھی نیا وزیر اعظم معاشی بحالی، سیاسی استحکام، مکالمہ کے آغاز اور میڈیا کو آزادی و احترام دینے کا  بہترراستہ اختیار کرسکے گا؟

ملکی سیاست سے واقف کوئی بھی شخص اس سوال کا جواب  دے سکتا ہے کہ ایسا معجزہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔  سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) پر شریف خاندان کا کنٹرول ہے، وہ خاندان سے باہر کسی شخص کو ملک کے سب سے بڑے عہدے تک  پہنچنے نہیں دے گا۔  شریف خاندان میں شہباز شریف کے علاوہ نواز شریف  یااسحاق ڈار ہی باقی بچتے ہیں۔ نواز شریف کے لیے تو ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کا کوئی  امکان نہیں ۔ اگر  اسحاق ڈار کو متبادل کے  طور پر سامنے لایا جاتا ہے تو  وہ سیاسی طور سے شاید شہباز شریف جتنا وقت بھی نہ بتا سکیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری اس وقت تک وزیر اعظم نہیں بن سکتے جب تک پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) کو اقتدار میں قابل ذکر حصہ نہیں  دیتی۔ اس طرح سوائے چہرے تبدیل ہونے کے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ ایک تیسرا آپشن مریم نواز کو وزیر اعظم بنانے سے متعلق موجود ہے۔  تاہم ایسی صورت میں ایک تو مسائل حل کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ سامنے نہیں آسکے گا ۔دوسرے مریم کے مزاج کی روشنی  میں کہا جاسکتا ہے کہ  ہم آہنگی سے زیادہ  افتراق اور تصادم کے امکانات  میں اضافہ ہوگا۔  ملکی اسٹبلشمنٹ اسی لیے موجودہ حالات میں ایسے انقلابی اقدام کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہائیبرڈ نظام یا فوج کی سرپرستی سے قائم ہونے والی  کوئی نئی حکومت کیوں کر شہباز حکومت سے مختلف اور بہتر  کارکردگی دکھا سکے گی۔ اس بارے میں یہ کلیدی سوال بھی توجہ طلب ہوگا کہ اگر فیصلہ ساز قوت اسٹبلشمنٹ ہے تو صرف ایک ’کٹھ پتلی وزیر اعظم‘ کی تبدیلی سے کیا حاصل ہوگا۔ اس لیے وزیر اعظم تبدیل کرنے کی  بجائے مناسب ہوگا کہ اسٹبلشمنٹ سے معاملات کے بارے میں سنجیدگی دکھانے  مطالبہ کیا جائے۔ البتہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اس وقت حکمران طبقہ خود کو محفوظ اور طاقت ور سمجھ رہا ہے۔ اسے عالمی  رسائی حاصل ہے اور اہم ممالک فوجی سربراہ کی خدمات کا اعتراف کررہے ہیں۔ ایسے میں ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال اور میڈیا کی آزادی کے سوال  پر کسی قسم کا کوئی دباؤموجود نہیں ہے۔  اس لیے شہباز شریف  ہوں یا ان کے پشت پناہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، انہیں یہ احساس دلانا ممکن نہیں ہے  کہ ملکی معاملات فوری درستی کا تقاضہ کررہے ہیں۔

اگر سیاسی بداعتمادی کی فضا ختم نہیں ہوسکتی  اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے  عوام کی چنی ہوئی  کسی  حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا  تو موجودہ حکومت کو معاشی میدان میں بہتر پرفارمنس دکھانے پر مجبور کیا جائے۔ دکھاوے  کے لیے ہی سہی، پارلیمنٹ کا اعتماد بحال کیا جائے اور اہم معاملات  زیر بحث لانے کی روایت زندہ کی جائے۔ اسی طرح میڈیا کو آن بورڈ لینے اور گھٹن کے ماحول میں کمی کے لیے کچھ ضروری  اقدام کیے جائیں تاکہ کسی طرف سے روشنی کی  کو ئی کرن تو نمودار ہو۔

دریں حالات موجودہ سیٹ اپ میں سیاسی تبدیلی کا نہ تو امکان ہے اور نہ ہی اس  کا کوئی فائدہ ہوگا۔  فوج کو   اگر موجودہ نظام کا محافظ مان لیا جائے تو وہ بھی اسے تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ کیوں کہ طاقت ور حلقوں میں یہ احساس مستحکم ہوچکا ہے کہ اب بحرانوں پر قابو پالیا گیا ہے اور   ملک کے آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔  نئے انتخابات  یا کسی نئی پارٹی کی کامیابی کی شکل میں  یہ  ’استحکام‘  ضائع ہوسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں اس  ’موقع‘ کو ضائع کرنے کا رویہ دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ کوئی حکومت یا نظام خواہ کتنا ہی مستحکم ہو، جب تک عام شہری کو اطمینان اور سہولت میسر نہیں ہوگی، بے چینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

 بدگمانی، بے چارگی اور مایوسی کا یہ  عنصر کسی بھی نظام کو اندر سے کمزور   یا تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اپنے اختیار اور معاملات پر مکمل دسترس کا گمان کرتے ہوئے ارباب اختیار کو اس پہلو پر بھی غور  کرلینا چاہئے۔