آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کی ملکیت تسلیم نہیں کی جائے گی: مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یہ قبول نہیں کریں گے آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، کوئی بھی ملک آبی گزرگاہ سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا۔
بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزر لینڈ جائیں گی جہاں ایران سے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق بات کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسا پائیدار امن چاہتے ہیں جو حقیقی ہو اور ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی سکیورٹی اور خوشحالی کو نقصان نہ پہنچاتا ہو۔ہم یقینی بنائیں گے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جو ہمارے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہمارے اتحادیوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کو کامیاب کرنا چاہتا ہے اور اس کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران مفاہمت کی یادداشت کی پاسداری کرے۔ ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو مختلف آپشنز موجود ہیں، ایران ہمارے ساتھ اچھی ڈیل چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ معاہدے کے مطابق تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے گر رہی ہیں۔
دریں اثنا ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ’آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کے لیے ایک نیا راستہ مقرر‘ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستہ استعمال کرنے کی اجازت ہے جس کا اعلان ایران نے کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازوں پر لازم ہے کہ وہ ’چینل 16 کے ذریعے‘ اور ایرانی فورسز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہی سفر کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عمان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے عمل کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک نیا سمندری راستہ کھول دیا ہے۔ تاہم پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں واضح نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ یہی وہ نیا راستہ ہے یا نہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، نہ انشورنس اخراجات لیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور فیس وصول کی جا رہی ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔