چچا ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں

پہلی جنگ عظیم کے بعد فاتح ممالک نے لیگ آف نیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کا مقصد ما بعد از جنگ کمزور ممالک کو جنگ سے ماورا حربوں کی مدد سے اپنے پنجۂ استبداد تلے رکھنا تھا ۔تاہم یہ لیگ آف نیشنز ناکام ہو گئی۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر امن کے نام پر وہی پرانا چورن نئے نام اور آب و تاب کے ساتھ بیچنے کا خیال آیا توطاقتور ممالک یعنی دوسری جنگ عظیم کے فاتح ممالک نے یونائیٹڈ نیشنز (اقوام متحدہ) کے نام سے 24 اکتوبر 1945 کو اس کی بنیاد رکھی۔ کیونکہ نوآبادیاتی دور پچھلی صدی کے وسط میں آخری سانسیں لے رہا تھا، بہت سے ممالک میں آزادی کی آوازیں یا تحریکیں اُٹھ رہی تھیں۔ دوسری جنگ عظیم میں روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس اتحادی کی حیثیت سے فاتح کے طور پہ ابھرے تھے۔ انہوں نے مستقبل میں جنگ لڑے بغیر اپنے استعماری معاملات کو چلانے کیلئے اقوام متحدہ کے نام سے ایک فورم بنا لیا۔

 ان کو اسی وقت یہ اندازہ تھا کہ کل کلاں اس فورم میں شامل ممالک ہماری استحصالی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے اگر عددی بنیادوں پر فیصلہ کرنے پر آ گئے تو پھر ہم کہاں جائیں گے؟ اس مسئلے کے حل کیلئے ویٹو کا پخ درمیان میں ڈالتے ہوئے امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس نے کسی بھی ناپسندیدہ قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار خود کو سونپ دیا تاکہ کسی بھی ایسے مسئلے پر جہاں ان کے مفادات کو زک پہنچانے پر مبنی کوئی قرارداد آتی ہے تو وہ ویٹو کے ذریعے اس کا شروع ہی سے دھڑن تختہ کر دیں۔ دنیا میں تمام وہ مسائل جن کی جڑیں یا شروعات ان طاقتور ممالک سے جڑی ہوتی ہیں ،ان کے خلاف کبھی کوئی قرارداد اسی لیے پاس نہیں ہو سکی کہ وہ اس کو ویٹو کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اس فورم یعنی اقوام متحدہ کے نیچے جو دیگر ادارے بنائے گئے ان میں بھی تقریباً اسی قسم کا ماحول رکھا گیا کہ وہ ان بڑے ممالک کے مفادات،خیالات اور کارروائیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے رہیں۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ سارے ادارے بنیادی طور پر ایک استحصالی ضابطے کے زیر انتظام اقوام عالم کو کنٹرول کرنے اور ان کو اپنے پنجۂ استبداد میں رکھنے کیلئے ہی بنائے گئے تھے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں قتلِ عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیس دائر کیا۔ عالمی عدالت انصاف نے اس سلسلے میں اسرائیلی وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے کا عبوری حکم جاری کیا مگر اسرائیل نے اسے رتی برابر اہمیت نہ دی اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اسی طرح عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابقہ وزیر دفاع یوآوگیلنٹ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے جو حکم نامہ جاری کیا اس کو نہ صرف یہ کہ امریکہ اور اسرائیل نے جوتے کے نوک پر رکھا بلکہ امریکہ نے تو فروری 2025 میں اس فیصلہ دینے والی عالمی فوجداری عدالت کی دو خواتین ججوں اور پراسیکیوٹر کریم خان پر پابندیاں لگا دیں۔ یعنی بجائے ان کی سزا پر عمل درآمد کرنے کے الٹا انہیں سزا سنا دی گئی۔

اسی طرح امریکہ نے جون 2024 میں آئی سی سی کی جانب سے افغانستان میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی اجازت دینے کے جرم میں عالمی فوجداری عدالت کی مزید دو خواتین ججوں پر بھی امریکی پابندیاں جو حقیقت میں عالمی پابندیاں ہیں، عائد کر دیں۔ ہوا یہ کہ جب عالمی عدالتوں سے اس قسم کے فیصلے جو عملی طور پر صفر جمع صفر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے تاہم بڑی طاقتوں کی اَنا پر ضرب لگاتے ہیں، آنا شروع ہوئے تو بڑی طاقتوں کو احساس ہوا کہ یہ معاملہ تو الٹ ہو گیا ہے۔ہم نے تو اپنے مخالفوں کو رگڑا لگانے، اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سبق سکھانے، اپنے فیصلوں پر چون و چرا کرنے والوں کی گُدی ناپنے، ان کا دوسرے طریقوں اور قانونی ذرائع سے استحصال کرنے کیلئے یہ ادارے بنائے تھے جو اَب ہمارے ہی خلاف فیصلے دینے لگ گئے ہیں یعنی ہماری بلی ہم کو میاؤں۔ جب تک دنیا میں طاقت کے مراکز کسی حد تک تقسیم تھے معاملات بھی کسی حد تک قابلِ قبول تھے۔ مگر جیسے ہی طاقت کا سارا وزن امریکہ بہادر کے پلڑے میں پڑا معاملات خرابی کی آخری نہج پر پہنچ گئے ہیں۔ عالمی چودھری اور داداگیرکیلئے یہ سب کچھ ناقابلِ قبول تھا۔ جب تک یہ قوانین اور پابندیاں کمزور ممالک پرلگتی رہیں تب تک تو سارا معاملہ ٹھیک تھا مگر جب ان کا رخ امریکہ کی جانب مڑا تو اسے احساس ہوا کہ یہ ہم نے کیا کر دیا؟

اب بھلے قرارداد پاس نہ بھی ہو اور ویٹو ہو جائے لیکن اس پر شور و غل اور ہاہاکار تو مچتی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر کچھ آوازیں بھی اٹھتی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں ساؤتھ افریقہ کیس لے کر گیا تھا۔ پہلے دو چار بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتی تھیں لیکن کچھ عرصے سے یہ ہوا کہ اقوام متحدہ پس پشت چلا گیا ہے اور امریکہ فرنٹ لائن پر آ گیا ہے۔ اب اقوام متحدہ کی پابندیاں تو عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اصل پابندیاں امریکی پابندیاں ہیں مثلا ًامریکہ نے پابندی لگا دی کہ ہم ایران کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ گیس پائپ لائن منصوبے کی تاخیر کے باعث اربوں ڈالر کا جرمانہ ہمارے سر پر لٹک رہا ہے لیکن ہم یہ معاہدہ شدہ پائپ لائن نہیں بچھا سکتے کیونکہ امریکی پابندیاں ہیں۔ ایران پر یہ اقوام متحدہ کی نہیں امریکی پابندیاں ہیں۔ اب امریکی پابندیاں ہی دراصل عالمی پابندیاں ہیں۔

جب امریکہ نے یہ دیکھا کہ وہ اتنا طاقتور ہے کہ اقوام متحدہ کا سہارا لیے بغیر ہی اپنا ہر حکم منوا سکتا ہے، اپنی جگا گیری چلا سکتا ہے، اپنا رعب داب مسلط کر سکتا ہے تو اس کیلئے اقوام متحدہ اب بوجھ سا بن گیا ہے۔ امریکہ جو کبھی اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ڈونر تھا،نے اب اپنے حصے کی رقم کٹ لگا کر کافی کم کر دی ہے۔ بہت سے ناپسندیدہ ممالک کے سربراہان، نمائندوں اور مندوبین پر امریکی ویزوں کی پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث یہ بھی زیربحث ہے کہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو نیو یارک یعنی امریکہ سے کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔ اقوام متحدہ کے اخراجات کا دوسرا بڑا سپانسر چین ہے جو اس کی فنڈنگ کرتا ہے۔ چین کو کئی بار یہ پیغام مختلف ذرائع سے بھیجا گیا کہ اگر وہ راضی ہو تو اقوام متحدہ کے دفتر کو امریکہ سے چین منتقل کرنے کی بات چلائی جا سکتی ہے لیکن چین اس سلسلے میں بالکل بھی اپنا ہاتھ نہیں پکڑا رہا۔ اس کے بارے میں کچھ معاملات ہیں کہ چین بھی نہیں چاہتا کہ اقوام متحدہ جو ایک اوپن عالمی فورم ہے،میں لوگوں کے آنے جانے کے سبب وہ عالمی سطح پر نمایاں ہو اور چین کے معاملات ظاہر ہوں۔ جیسی جمہوریت مغرب چاہتا ہے، ویسی جمہوریت چین میں نہیں ہے تو ان معاملات کو چین بھی دنیا کے سامنے نہیں لانا چاہتا۔ چین کے اپنے مسائل ہیں، اس لیے چین بھی اس پہ راضی نہیں ہے تو صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا جو صدر دفتر ہے، وہ بہت سوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی نیو یارک مین ہیٹن میں موجود ہے۔

دیکھنے کی حد تک اقوام متحدہ کا دفتر اپنی تمام تر شان و شوکت اور ناموری کے ساتھ ایسٹ ریور کے کنارے ایستادہ ہے لیکن عملی طور پر طاقت کا مرکز واشنگٹن میں اس عمارت سے کہیں چھوٹی عمارت وائٹ ہاؤس میں منتقل ہو چکا ہے۔ ایران پر سے وقتی طور پر ہی سہی مگر فی الحال امریکی پابندیاں کافی حد تک اٹھا لی گئی ہیں۔ اس وقفے کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان کو فوری طور پر اپنے حصے کی گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کر دینی چاہیے۔ کیا خبر چچا ٹرمپ پھر کس وقت یو ٹرن لے لیں۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)