فلسطینیوں کا وارث کون؟

کیا کسی کو یاد ہے کہ ایران امریکہ جنگ کا سبب ایران اسرائیل لڑائی تھی اور اس کی وجہ مسئلہ فلسطین بتائی گئی تھی؟امریکہ اور ایران کے مابین امن کا معاہدہ ہو گیا۔ الحمدللہ! دنیا تیسری عالمی جنگ کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ پاکستان کی قیادت نے تاریخ ساز کردار ادا کیا اور جنگ وہیں سے الٹے پاؤں لوٹ گئی۔ ثم الحمدللہ!

 سب کہہ رہے ہیں کہ اس معرکے میں ایران فاتح رہا۔ امریکہ کے سیاسی زوال کا عمل تیز تر ہو گیا۔ آج کہیں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں اور کہیں کامیاب ثالثی کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ سب کا جواز موجود ہے اور اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ فلسطین کا عَلم کس کے پاس ہے؟ اگر اس جنگ کا سبب مسئلہ فلسطین تھا تو ایران امریکہ معاہدے میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟ کیا یہ مسئلہ حل ہو گیا؟

یہ کل کی خبر ہے کہ سترہ برس کی فلسطینی بچی گھر سے امتحان دینے کیلئے نکلی اور اسرائیلی حملے کا نشانہ بن گئی۔ ایک راہگیر بھی جان سے گیا۔ چار زخمی ہو گئے۔ غزہ آج بھی مقتل ہے۔ جہاں فتح کے شادیانے بج رہے ہیں،قصیدے پڑھے جا رہے ہیں، وہاں اس بچی کے قتل کی خبر نہیں پہنچ سکی۔ طرب انگیز فضا میں کہیں دب گئی۔ اہلِ فلسطین آج بھی اتنے ہی بے بس اور لاچار ہیں جتنے اس جنگ سے پہلے تھے بلکہ اس سے بھی بدتر۔ ان کا مقدمہ کوئی نہیں لڑ رہا۔ وہ کسی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ عقل و انصاف تو یہی کہتے ہیں کہ اگر جنگ فلسطین کیلئے تھی تو امن معاہدے میں اس کے حل کی بات ہونی چاہیے تھی۔ اسرائیل سے فلسطینیوں کے جان و مال کی ضمانت لی جانی چاہیے تھی۔ اسرائیل اس جنگ کا حصہ تھا۔ اب تو سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بھی بتا دیا ہے کہ ایران میں سٹارلنک کے انٹر نیٹ آلات سمگل کیے گئے تھے تاکہ حکومت مخالف گروہوں کو متحد کیا جا سکے۔ اس کے باوصف اسرائیلی جرائم کا کوئی ذکر نہیں۔

یہ جرائم اب سنگین تر ہو گئے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام بھی اب ثابت ہو گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جو 23جون کو جاری ہوئی،شواہد کی بنیاد پر یہ کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نئی نسل کو دانستہ نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اس قوم کا مستقبل مخدوش ہو جائے۔ یہ اس نوعیت کی پہلی رپورٹ نہیں ہے۔ یہ 2023سے اٹھنے والی نئی لہر کا تجزیہ ہے جس میں ظلم کی نئی داستانیں لکھی گئیں۔ گویا ظلم ختم ہوا نہ ظالم۔ ایران میں 168 بچیاں شہید کر دی گئیں۔ ان کے وارث مگر موجود تھے۔ وہ خون بہا کیلئے کھڑے ہو گئے۔ عالمی قوت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ فلسطینیوں کا آج وارث کوئی نہیں۔ ان کے خون بہا کا مقدمہ لے کر کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ یہ خونِ خاک نشیناں تھا جو رزقِ خاک ہوا۔ بے حسی اور بے حکمتی کی انوکھی داستانِ جدید فلسطین کی سرزمین پر لکھی جا رہی ہے۔ افسوس اس قوم پر جس کی قیادت اور دوستوں نے اس کیلئے صرف مقتل آباد کیے۔

عرب ممالک کی عدم دلچسپی حسبِ سابق برقرار ہے۔ جنگ کے بعد معلوم یہی ہوتا ہے کہ سب اپنے اپنے دفاع اور مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ قطر خود کو محفوظ بنانے کیلئے سب سے زیادہ سرگرم ہے۔ اس نے ایران کی رقم لوٹانے میں سبقت کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خلیجی ممالک کو اعتماد میں لینے کیلئے ابو ظہبی پہنچ چکے۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں فلسطینیوں کا ذکر نہیں ہو گا۔ شاید صدر ٹرمپ کے خواب کی تعبیر کا وقت آ پہنچا۔ یہ خواب کیا ہے؟ ایک جدید غزہ کی تعمیر جو بیروت اور دبئی کا متبادل ہو۔ جو سیاحت کا عالمی مرکز ہو۔ جہاں ثقافتی رنگ بکھریں۔ یہاں کے مستقل مکینوں کو کہیں اور آباد کیا جائے۔ اس منصوبے کا انکشاف اسرائیل میں امریکی سفیر بہت پہلے کر چکے۔ اب تو دو ریاستی حل بھی کسی کے پیشِ نظر دکھائی نہیں دیتا۔

ایران امریکہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان مسئلہ فلسطین کو پہنچا۔ یہ پس منظر میں چلا گیا۔ یہ ممکن ہے کہ مزید کچھ عرصہ یہ عالمی منظر نامے پر دکھائی نہ دے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ظلم کی وہ داستان جو گزشتہ دو اڑھائی برسوں میں یہاں کی سرزمین اور انسانی جسموں پر لکھی گئی، وہ آسانی سے فراموش کر دی جائے گی۔ مظلومیت کا اثر ظلم سے کہیں دیرپا ہے۔ اس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس کے نتائج نکل رہے ہیں۔ امریکہ سمیت ساری دنیا میں فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل ایک قابلِ مذمت کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہولو کاسٹ سے صہیونیوں نے جو فائدہ اٹھانا تھا وہ اٹھایا جا چکا۔ اس سے امریکی سیاست میں تبدیلی آئے گی۔ ٹرمپ کے بعد کوئی صدر شاید اسرائیل کی اس طرح پشت پناہی نہ کر سکے۔ یوں بھی امریکیوں کو اب اندازہ ہو گیا ہے کہ اسرائیل ان کیلئے اثاثے سے زیادہ ایک بوجھ ثابت ہوا ہے۔ وہ اب اسے اتار پھینکنا چاہیں گے۔

 اگر اگلے صدارتی انتخاب سے پہلے فلسطین دوست حلقے فلسطین کے حق میں ایک مہم منظم کر سکیں تو کوئی امیدوار کھل کر اسرائیل کی حمایت کا عَلم نہ اٹھا سکے گا۔ اس لیے امکان موجود ہے کہ صدر ٹرمپ کا خواب بآسانی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ اگر حکمت کے ساتھ یہ مہم چلائی جائے تو اسرائیلی حمایت کو قومی بحث کا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ اس سوال کو موضوع بنایا جا سکتا ہے کہ ا مریکہ کو اس حمایت کے نتیجے میں کیا ملا؟ ماضی کے فوائد تو ثابت ہیں کہ کس طرح اسرائیل کا ہوّا کھڑا کر کے عربوں کے وسائل پر قبضہ کیا گیا۔ وہ کنویں مگر اب خشک ہو رہے ہیں۔ آج اسرائیل ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ اگر عرب ڈٹ جائیں اور وہاں امریکی اڈے ختم ہو جائیں تو امریکی سیاست کا رُخ بدل سکتا ہے۔

اس جنگ سے ثابت ہوا کہ فلسطینیوں کا وارث کوئی نہیں۔ انہیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے۔ یہ کسی دوسرے پر تکیہ کیے بغیر لڑی جائے گی۔ یہ جنگ سیاسی بنیادوں پر لڑی جائے گی۔ یہ امریکی رائے عامہ میں لڑی جائے گی۔ فلسطینیوں کو ایک سیاسی محاذ پر جمع کرنے سے لڑی جائے گی۔ غزہ میں امن کا جھنڈا لہرا کر لڑی جائے گی۔ اس حکمتِ عملی سے نجات حاصل کر کے لڑی جائے گی جس نے فلسطینیوں کو لاشوں اور ہجرت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ مسلم ملکوں کی قیادت میں خوفِ خدا پیدا کر کے لڑی جائے گی۔ یہ حقیقت پسند ہو کر لڑی جائے گی۔ یہ جنگ نئی قیادت پیدا کر کے لڑی جائے گی۔ کیا اس کا کوئی امکان ہے؟ امکان غیب کے پردے میں چھپے ہوتے ہیں۔ یہ واقعات ہیں جو ان کے چہرے سے پردہ اٹھا دیتے ہیں۔ کیا معلوم یہ جنگ فلسطینیوں کو اس خیال کی طرف راغب کرنے کا باعث بن جائے۔ مسلم ممالک کی قیادتوں کو بھی سیاسی جد وجہد کی حمایت میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اس خاکستر میں اتنی چنگاری موجود ہے جو اس مسئلے کو زندہ رکھ سکتی ہے۔ فلسطینیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگر وہ جنگ سے مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو انہیں کسی مسلم ملک کی حمایت میسر نہیں ہو گی۔

آج امن کے نوبیل انعام کا حقدار وہی ہو گا جو مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے صدر ٹرمپ کو شیشے میں اتار سکے۔ ایسے رجلِ عظیم کو فوراً تلاش کرنا ہو گا۔ ہمارے پاس اگلے صدارتی انتخابات تک کا وقت ہے۔ ایران خوش نصیب ہے کہ اسے پاکستان جیسا دوست مل گیا۔ فلسطینیوں کو بھی ایسے ہی دوست کی ضرورت ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)