ایک اور غزہ

بیروت کی حمرا اسٹریٹ پر واقع کیفےیونس میں اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض نے اپنی مشہور نظم ’ایک نغمہ کربلائے بیروت کے نام‘ تخلیق کی۔ فیض احمد فیض 1979 سے 1982 تک بیروت میں مقیم تھے۔ وہ انگریزی، فرنچ اور عربی زبانوں میں شائع ہونے والے ایک ادبی جریدے ’لوٹس‘ کے ایڈیٹر تھے۔

لوٹس کا دفتر حمرا اسٹریٹ پر ہی واقع تھا۔ کیفے یونس میں فیض احمد فیض اپنے دیگر جلاوطن دوستوں ایڈورڈ سعید، ڈاکٹر اقبال احمد اور محمود درویش کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کو اپنی نظمیں سنایا کرتے۔ 1982 میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا اور جب اسرائیلی فوج بیروت کے قریب پہنچ گئی تو ہر طرف موت کا رقص شروع ہو گیا۔ فیض صاحب کو کہا گیا کہ اب بیروت چھوڑنا پڑے گا او’لوٹس‘ کا دفتر تیونس لے جانا ہوگا۔ اس وقت فیض صاحب نے بیروت کو کربلا سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ:

یہ شہر ازل سے قائم ہے

یہ شہر ابد تک دائم ہے

بیروت نگارِ بزمِ جہاں

بیروت بدیل باغِ جناں

جس کیفے یونس میں بیٹھ کر فیض احمد فیض نے 1982 میں یہ کہا تھا کہ یہ شہر ابد تک دائم ہے، اسی کیفے یونس میں جون 2026 کی ایک گرم دوپہر کو بیٹھا میں سوچ رہا تھا کہ بیروت واقعی آج بھی قائم و دائم ہے۔ لیکن اس شہر میں بار بار کربلا برپا کر دی جاتی ہے۔ میں نے اس کربلا کو 2006 کی لبنان اسرائیل جنگ میں بہت قریب سے دیکھا ، پھر 2024 کی جنگ میں بھی اس کربلا کو دیکھا اور اب 2026 میں تیسری بار اس کربلا کو دیکھ رہا ہوں ۔ جون کے وسط میں مجھے جیو نیوز کے ایک سینئر ساتھی نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے مذاکرات ہونے والے ہیں۔ آپ سوئٹزرلینڈ چلے جاؤ اور وہاں سے کیپیٹل ٹاک کرو۔ میں نے اپنے محترم ساتھی سے کہا کہ ایران اور امریکا کے مذاکرات میں بڑی رکاوٹ لبنان کی صورتحال بنے گی۔ اس لیے مجھے لبنان جانا چاہیے۔ کیونکہ اسرائیل لبنان کے راستے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرےگا۔

18جون کو میں بیروت کے ایئر پورٹ سے باہر نکلا تو سب سے پہلے میرے کانوں میں اسرائیلی ڈرون کی آواز پڑی۔ اندازہ ہو گیا کہ اسرائیل یہاں کیا کرنے والا ہے ؟ اگلے دن 19جون کی صبح میں اپنے کیمرہ مین حمران الیگزینڈر کے ساتھ جنوبی لبنان کے شہر نباطیہ کی طرف روانہ ہوا جس پر اسرائیل نے تین ماہ سے آگ کی بارش کر رکھی تھی۔ لیکن چند دن سے امریکی دباؤ پر فائر پاور کا استعمال روک دیا تھا۔ مقامی قانون کے مطابق غیر ملکی صحافیوں کو جنگ زدہ علاقوں میں داخل ہونےسے پہلے لبنانی فوج کے دفتر میں اپنی آمد کی اطلاع دینا ہوتی ہے۔ ہم نباطیہ کے قریب لبنانی فوج کے ایک دفتر میں اپنے کوائف کے اندراج کیلئے رک گئے۔ صبح آٹھ بجے کا وقت تھا دفتر میں تمام متعلقہ افراد ساڑھے سات بجے سے موجود تھے ۔ صرف ایک افسر ابھی نہیں پہنچا تھا۔ اسی افسر نے ہمیں اجازت نامہ جاری کرنا تھا۔ ہم اس کا انتظار کرنے لگے۔ بیس منٹ کے بعد یہ افسر گھبرایا ہوا آیا اور بتایا کہ کچھ دیر پہلے نباطیہ جانے والی سٹرک پر اسرائیل نے عام شہریوں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نشانہ بنایاہے۔ سڑک پر لاشیں بکھری پڑی ہیں جس کے باعث سٹرک بند ہو گئی ہے۔ اس لیے وہ لیٹ ہو گیا۔ اس نے ہمیں اجازت نامہ تو دے دیا لیکن کہا کہ ابھی واپس چلے جاؤ۔ جب سٹرک کھلے گی پھر آپ نباطیہ جا سکیں گے۔

اگلے تین دن تک اسرائیل نے نباطیہ پر قبضہ کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ 23جون کو امریکا میں لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات ہونا تھے لہٰذا اسرائیل نے نباطیہ پر اپنے حملے کم کر دیئے۔ صورتحال کچھ بہتر ہوئی تو نباطیہ جانے والی سڑک کھول دی گئی اور اسی دن میں نباطیہ پہنچ گیا۔ جیسے ہی میں نباطیہ میں داخل ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ لبنان نہیں بلکہ غزہ ہے۔ اسرائیل نے نباطیہ کو لبنان کا غزہ بنا دیا ہے ، جہاں ہر طرف تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ اور انسانی لاشوں کی بدبو پھیلی ہوئی تھی ۔ میں نے ایسی ہی تباہی 2009 میں غزہ میں دیکھی تھی۔ ایک مقامی خاتون صحافی رعنا جونی نے مجھے بتایا کہ نباطیہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے کئی لاشیں موجود ہیں جنہیں نکالنے کا کام آج شروع ہو گا۔ رعنا جونی الجزیرہ کیلئےکام کرتی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود اپنا شہر چھوڑنے کی بجائے لبنانی سول ڈیفنس کے دفتر میں پناہ لی اور اسی بہادر خاتون کی رہنمائی میں ہم 23 جون کو نباطیہ شہر کے اندر داخل ہوئے۔

شہر کا کچھ پہاڑی علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں ہے جبکہ کچھ پہاڑوں پر سے حزب اللہ کی مزاحمت ابھی تک جاری ہے۔  رعنا جونی ہمیں علی الطا ہر کے وہ پہاڑ دکھا رہی تھیں جن کے پیچھے اسرائیلی ٹینک اور آرٹلری موجود تھی۔ وہ ہمیں ان پہاڑوں کی فوجی اہمیت سمجھا رہی تھیں کہ اس دوران اسرائیل نے نباطیہ کی طرف آرٹلری فائر کھول دیا۔ لہٰذا ہم نباطیہ سے الصیدہ کی طرف نکل گئے ۔ اسرائیل ہر صورت میں نباطیہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیونکہ نباطیہ پر قبضے کامطلب پورے جنوبی لبنان پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔ ایک دن کے وقفے کے بعد اسرائیل نے نباطیہ پر دوبارہ حملے شروع کر دیئے ہیں۔ اگر اسرائیل نباطیہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ایران اور امریکا کے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

ایران اور امریکا کی پچاس سالہ دشمنی ختم کرنےکیلئے ساٹھ دن کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی سے کیوں مشروط کیا ہے ؟ وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ جب اسرائیل اور امریکا نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تو حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے خلاف بڑا محاذ کھول کر ایران کی بھرپور مدد کی۔ اب جب ایران یہ جنگ جیت چکا ہے تو وہ حزب اللہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر ایران نے حزب اللہ کے ساتھ وفا نبھانے کا فیصلہ کیا ہے تو کیا امریکا اپنے پرانے دوست اسرائیل کے ساتھ وفا نبھائے گا یا نہیں ؟ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ایران کی رائے عامہ ڈٹ کر حزب اللہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ لیکن امریکی رائے عامہ اسرائیل کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی۔ بلکہ اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے۔ ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کیلئے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے نکالنا ضروری ہے۔ کیونکہ لبنان میں ایک اور غزہ امریکا اور ایران کے مذاکراتی عمل کیلئے بہت بڑا خطرہ بن جائے گا۔

یہ مذاکراتی عمل صرف دو ممالک کے تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کی ضمانت بن چکا ہے۔ اگر اسرائیل جنوبی لبنان سے نکل جائے تو ایران بھی حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف حملوں سے روکنے کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا فی الحال مشکل ہے ۔لیکن لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد حزب اللہ کو اسرائیل پر حملوں سے روک کر لبنان کے مزید شہروں کو غزہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)