آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز اپنی حفاظت کے لئے صرف تہران کے مقررہ راستے استعمال کریں

  • جمعہ 26 / جون / 2026

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب‌ آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان جہازوں کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جو ’غیر واضح انتظامات، متوازی راستوں، یا ایران کو بطور ساحلی ریاست نظرانداز کرتے ہوئے‘ سفر کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قابلِ اعتماد فریم ورک ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ کی دفعات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، متوازی راستے کو معطل کر دیا جائے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق، ایران ’سلطنتِ عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے تعین کے لیے بات چیت کرے گا۔ اور یہ عمل دیگر خلیجی ساحلی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق ہوگا۔‘

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی نے آج صبح رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز صرف تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں کا استعمال کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں سے ہٹ کر جہاز رانی ممنوع ہے اور اس سے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی لازمی ہے۔

یہ ابتدائی انتباہ اس وقت سامنے آیا جب عمان نے 23 جون کو اعلان کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک نیا سمندری راستہ کھولا ہے۔ اس کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے حالیہ ایران-امریکہ معاہدے کے تحت قائم 60 روزہ عبوری مدت کے دوران قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

ایران کے حال ہی میں قائم کردہ ادارے ’پیرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی‘ نے بھی اعلان کیا کہ ’غیر مجاز راستوں کے استعمال سے پیدا ہونے والے کسی بھی نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر جہاز کے مالک، چارٹرر اور کپتان پر عائد ہو گی۔‘

دریں اثنا ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’خطے کے ممالک میں امریکہ کی جانب سے فوجی اڈوں اور سہولیات کا استعمال کر کے ایران پر حملہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ خطے کے ممالک کی سلامتی یا ان کے باہمی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔‘ بیان کے مطابق خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی سلامتی کے لیے امریکی عزم کے دعوے ’محض بیان بازی اور حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔‘