وینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 235 ہو گئی

  • جمعہ 26 / جون / 2026

وینزویلا میں دارالحکومت کے قریب آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4300 سے زیادہ زخمی ہیں۔

امدادی کارکن ملبے میں دبے افراد کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کاراکس اور قریبی ساحلی شہر لا گوائیرا میں منہدم ہونے والی عمارتوں میں ملبے تلے دبے لوگوں کی مدد کے لیے آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ بہت سے افراد بے گھر ہو گئے ہیں یا تباہ شدہ اور غیر محفوظ عمارتوں میں رہنے سے خوفزدہ ہو کر سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق بدھ کے روز آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 تھی اور اس کے چند ہی سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔ پہلا زلزلہ زمین کی سطح سے 20.3 کلومیٹر نیچے جبکہ دوسرا 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔

وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر ہورخے روڈریگز نے جمعرات کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ملک کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے گزشتہ روز ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کئی ممالک نے تعاون کی پیشکش کی ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی شامل ہے۔ ایک بیان کے مطابق امریکی فوج تلاش اور امدادی ٹیموں کی مدد اور ’تیز رفتار ریلیف آپریشنز‘ کے لیے بحری جہاز اور طیارے بھیج رہی ہے۔

ہورخے روڈریگز کے مطابق 250 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں لا گوائیرا میں واقع تھیں جہاں بی بی سی نے ایک 10 منزلہ ہوٹل کے ملبے میں تبدیل ہونے کی ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔ وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کاراکس میں بھی کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جبکہ تروخیلو، یاراکوئے، کارابوبو، اراگوا اور میراندا کی ریاستیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں۔

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس کی سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے جبکہ امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ وینزویلا کے دیگر متاثرہ حصوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش نے افراتفری بڑھا دی ہے۔

شام ڈھلتے ہی بہت سے مقامی لوگ عملی طور پر بے گھر ہو چکے تھے۔ وہ سڑکوں پر گھومتے رہے اور اپنے گھروں یا عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر رہے۔ لا گوائرا جیسے علاقوں سے اطلاعات کی ترسیل، جو کاراکس کے شمال میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں منہدم عمارتیں، بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ اور ریاستی دارالحکومت کے فیلڈ ہسپتالوں میں زخمیوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ شہر میں درجنوں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور اسے آفت زدہ علاقہ اور حقیقی سانحہ قرار دیا۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ حکام ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ شدید متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں میرانڈا، اراگوا، کارابوبو اور فالکون ریاستیں شامل ہیں۔