انسانیت کے ماتھے پر ایک شرمناک داغ
- تحریر فہیم اختر
- جمعہ 26 / جون / 2026
بچوں کی نسل کشی انسانی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جب معصوم جانیں، جو مستقبل کی امید اور امن کی علامت ہوتی ہیں، جنگ اور طاقت کے کھیل کا نشانہ بن جائیں تو یہ صرف ایک قوم کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا المیہ بن جاتا ہے۔
غزہ میں فلسطینی بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ دنیا کے ضمیر کے لیے ایک کڑا سوال ہے۔ یہ ایک ایسی شرمناک حقیقت ہے جس نے انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور عالمی انصاف کے تمام دعووں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ ایک نہایت افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہورہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں فلسطینی بچے ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ لاکھوں بچوں کی زندگی خوف، بھوک، بے گھر ہونے اور شدید ذہنی صدمے کی نذر ہو گئی۔ صرف جسمانی نقصان ہی نہیں بلکہ ان کے بچپن، تعلیم، صحت اور مستقبل کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔
بچوں کے لیے قائم ہسپتالوں، اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو نقصان پہنچنے کے نتیجے میں ایک پوری نسل غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ بچے جو کتابوں، کھیل کے میدانوں اور خوابوں کے مستحق تھے، آج ملبے، دھوئیں اور ماتم کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے چہروں سے مسکراہٹیں چھین لی گئی ہیں اور ان کی آنکھوں میں خوف مستقل گھر کر چکا ہے۔مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگ بندی اور امن کی کوششوں کے باوجود بچوں کی ہلاکتوں اور تکالیف کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ کسی بھی بچے کو اس بنیاد پر نشانہ بنانا کہ وہ ایک مخصوص قومیت یا علاقے سے تعلق رکھتا ہے، نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن بلکہ بین الاقوامی قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ" بچپن کے ماہیت کو تباہ کر دیا گیا ہے'' اسرائیل کی طرف سے 7 اکتوبر 2023 سے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن، اور اسرائیل بچوں کے خلاف جسمانی اور نفسیاتی نقصانات سمیت سنگین خلاف ورزیوں اور جسمانی نقصانات اور جرائم کا جائزہ لے رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 20179 افراد ہلاک اور 44143 بچے زخمی ہوئے۔اس رپورٹ میں اکتوبر 2025 کے غزہ امن منصوبے کے بعد جنگ بندی سمیت فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے اور ان کے قتل کو بیان کیا گیا ہے۔ کمیشن مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے ارکان کی طرف سے کیے جانے والے تشدد میں تیزی سے اضافے کا بھی جائزہ لیتا ہے۔کمیشن فلسطینی بچوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد سمیت تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے استعمال کا جائزہ لیتا ہے، خاص طور پر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراست کے دوران۔ یہ اسرائیل کے بچوں کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے انداز کا تجزیہ کرتا ہے، جیسے کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات اور اس کے قلیل سے طویل مدتی نتائج، نیز نوزائیدہ بچوں پر تولیدی تشدد کے اثرات، جس کے نتیجے میں نوزائیدہ صحت اور پیدائش کے خراب نتائج نکلتے ہیں۔ یتیم خانوں اور اسکولوں پر حملے، یتیموں اور غیر ساتھی بچوں کی دیکھ بھال کے نقصان کو متاثر کرتے ہیں، اور بالترتیب بچوں کے لیے تعلیمی نقصان اور سیکھنے میں خلل ڈالتے ہیں۔
کمیشن نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ حالاتِ زندگی کے اثرات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی بہت سی اموات کو روکا جا سکتا تھا، تاہم موجودہ حالات بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل کی جانب سے گزشتہ دو سالوں کے دوران مسلسل اور وسیع پیمانے پر کیے جانے والے حملوں نے فلسطینی بچوں کی بقا، صحت اور نشوونما پر شدید اور کثیر جہتی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ ان کے لیے سنگین ذہنی صدمے بھی پیدا کیے ہیں۔اس کے علاوہ، کمیشن نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں بچپن کی علامتوں کا کس طرح مذاق اڑاتے اور انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے غزہ پر زمینی حملے کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے طرزِ عمل کے حوالے سے اخلاقی، تادیبی اور قانونی سوالات جنم لیتے ہیں۔آخر میں، کمیشن نے مختلف فریقین کے لیے حملوں کے خاتمے، معاوضے، جوابدہی اور بین الاقوامی پابندیوں کے نفاذ سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کا مقصد بچوں کے لیے جوابدہ انصاف کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم اور مغربی کنارے میں جنگی جرائم ہو رہے ہیں۔ کمیشن آف انکوائری کے نتائج افسوسناک ہیں۔ کمیشن آف انکوائری کے ذریعہ رپورٹ کردہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی سراسر پیمانے اور منظم نوعیت کے نتیجے میں غزہ اور مغربی کنارے کے بچوں میں بے مثال اموات، زخمی اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے، غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 20000 سے زیادہ فلسطینی بچے ہلاک اور 44000 سے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔رپورٹ میں مزید واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کو کس حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے۔ دنیا اب اس سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ کسی بھی بچے کو کبھی نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
بچپن زندگی کا سب سے خوبصورت اور محفوظ دور ہونا چاہیے، لیکن فلسطینی بچوں کے لیے یہ دور خوف، محرومی اور سوگ کی علامت بن گیا ہے۔ جب ایک بچہ اپنے والدین کو کھو دیتا ہے، جب ایک ماں اپنے بچے کو ملبے سے نکالتی ہے، یا جب ایک طالب علم اپنے تباہ شدہ اسکول کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، تو یہ صرف ایک انفرادی سانحہ نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کی ناکامی بن جاتا ہے۔دنیا بھر کے ممالک، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے بارہا تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ صرف بیانات اور مذمتیں ان معصوم جانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں؟ انصاف تب ہی معتبر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ جوابدہی بھی ہو۔ اگر عالمی قوانین کمزوروں کی حفاظت نہ کر سکیں تو ان کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
غزہ کے بچوں کی چیخیں، ان کے ادھورے خواب اور ان کی خاموش قبریں آج بھی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ایک ایسی دنیا، جو خود کو انسانی حقوق کی علمبردار کہتی ہے، مگراب تک زیادہ تر ایک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔غزہ کی سرزمین آج بھی ان معصوم بچوں کے خون سے تر ہے جن کے خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھے کہ انہیں ملبے تلے دفن کر دیا گیا۔ یہ صرف عمارتوں، اسکولوں اور اسپتالوں کی تباہی کی داستان نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر لگنے والا ایسا زخم ہے جو نسلوں تک نہیں بھر سکے گا۔ جب دنیا کے ایوانوں میں قوانین، انسانی حقوق اور انصاف کی باتیں کی جاتی ہیں، تو غزہ کے بچوں کی خاموش چیخیں ان تمام دعووں کا نوحہ بن جاتی ہیں۔ اسرائیلی درندگی نے نہ صرف زندگیاں چھینی ہیں بلکہ ایک پوری نسل کے بچپن، امیدوں اور مستقبل کو بھی تاراج کر دیا ہے۔ تاریخ اس خون آلود باب کو صرف جنگ کے طور پر نہیں، بلکہ انسانیت کی اجتماعی ناکامی کے طور پر یاد رکھے گی، اور آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب معصوم بچے مارے جا رہے تھے تو دنیا آخر خاموش کیوں تھی؟