بلدیاتی نظام کی بازگشت

قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر سنی۔ مجھے یوں لگا بلاول بھٹو زرداری سیاسی پختگی کی منزل کے قریب تر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی باڈی لینگوئج بھی بہتر ہوئی ہے۔

ان کی تقریر کے کئی موضوعات تھے تاہم جس موضوع نے زیادہ متاثر کیا وہ بلدیاتی نظام کے بارے میں ان کی بلند آواز تھی۔ ہم شاید دنیا کا ایک عجوبہ نظام جمہوریت چلا رہے ہیں جس میں بنیادی جمہوریت کے ادارے سرے سے ہی موجود نہیں، بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا ملک اٹھا کر دیکھ لیں وہاں آپ کو بلدیاتی نظام نظر آئے گا۔ امریکہ میں تو یہ نظام اتنا مضبوط ہے کہ نیویارک کا میئر امریکی صدر کو آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ اس کے اختیارات میں امریکی کانگریس اور امریکی صدر بھی مداخلت نہیں کر سکتے۔ ایک ہم ہیں کہ صبح و شام جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے مگر دوسری طرف حال یہ ہے کہ برسہا برس تک بلدیاتی نظام کو معطل رکھتے ہیں اس سے کتنی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، کوئی انہیں گننے لگے تو گنتی ختم ہوجائے۔

حالت یہ ہے کہ بلدیاتی نظام کے بغیر گڈ گورننس کا ہر دعویٰ بے کار ثابت ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے  درست کہا ہے کہ چار صوبوں میں سے صرف سندھ میں بلدیاتی نظام رائج ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اس نظام کے بغیر چل رہے ہیں اور وہاں بنیادی جمہوریت کے اداروں پر افسروں کا قبضہ ہے جو عوام کی نہیں سنتے، نہ انہیں عوام کے مسائل حل کرنے سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسلام آباد میں بھی بلدیاتی نظام کام نہیں کررہا۔ اب اس پر اگربلاول بھٹو زرداری نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں حکومت ایک ایسا منتخب بلدیاتی نظام قائم کرے جس کی تقلید صوبے کریں، مگر ہزاروں خواہشیں ایسی۔ بلاول بھٹو زردری نے اسمبلی کے فلور پر یہ اعلان بھی کیا کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوتے ہی تین ماہ میں وہاں بلدیاتی انتخابات کرا دیں گے۔ ان کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ صوبائی حکومتیں اختیارات کم ہونے کے ڈر سے بلدیاتی ادارے فعال نہیں کرتیں، کیونکہ جو فنڈز بلدیاتی نظام کے تحت استعمال ہونا چاہئیں وہ خود استعمال کرتی ہیں، بلدیاتی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے شہروں کے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے جو پہلے کونسلروں اور ممبران کے ذریعے حل ہو جاتے تھے لوگوں کو سرکاری دفاتر میں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ بیورو کریسی اختیارات کا مرکز بن گئی ہے اور اس کی وجہ سے جو ارتکاز اختیار پیدا ہوا ہے اس نے نظام کی چولیں ہلا دی ہیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر بلدیہ ضلع کونسل کا ایڈمنسٹریٹر بھی ہے۔ اختیارات کو سکیڑکر جبکہ آبادی بے تحاشہ بڑھ گئی ہو نظام کو کیسے بارآور بنایا جا سکتا ہے۔

پیپلزپارٹی فی الوقت پہلی بڑی جماعت بن گئی ہے جس نے باقاعدہ طور پر بلدیاتی نظام کی بحالی کے لئے آواز اٹھائی ہے حالانکہ یہ کام مسلم لیگ ن کو کرنا چاہیے تھا کیونکہ ماضی میں بلدیاتی نظام کے فروغ کے لئے اس نے موثر اقدامات کئے تھے۔ بلدیاتی نظام اور صوبوں نیز مرکز کے نظام میں کوئی اس طرح کی مطابقت نہیں کہ اگر مرکز یا صوبے میں حکومت کرنے والی جماعت کسی شہر کے بلدیاتی الیکشن میں ہار جاتی ہے تو اسے اس پر عدم اعتماد سمجھا جائے۔ دونوں میں بہت فرق ہے اور دونوں کی کیمسٹری بھی مختلف ہے۔ تو صرف اس خوف سے کہ کہیں بلدیاتی انتخابات میں شکست ہو گئی تو صوبے کی حکومت متزلزل ہو جائے گی ایک غیر منطقی بات ہے۔  اگرچہ بلاول بھٹو زرداری کا استدلال یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات میں شکست کے خوف سے انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ خوف اگر ہے بھی تو کیا اسے بلدیاتی نظام کی بساط لپیٹنے کا جواز بنایا جا سکتا ہے؟ میرا خیال ہے اس سے بڑی عوام کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو سکتی کہ انہیں نچلی سطح پر اپنے نمائندے چننے کا موقع نہ دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں اس سارے عمل میں الیکشن کمیشن کا کردار بھی بہت متنازعہ رہا ہے۔ وہ ایک آئینی ادارہ ہے اور اسی حیثیت سے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقت مقررہ پر بلدیاتی انتخابات کرائے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ اپنی اتھارٹی کو منوانے کی بجائے صوبائی حکومتوں کی منشاء پر انتخابات کو التواء میں رکھے ہوئے۔ کبھی ایک بہانہ اور کبھی دوسرا۔ کبھی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کا بہانہ اور کبھی ووٹر لسٹوں کی عدم دستیابی۔

 آج عوام کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ایم این اے اور ایم پی اے دستیاب نہیں ہوتے کیونکہ وہ خود موجودہ افسری نظام کے ہاتھوں بے بس ہوچکے ہیں اور دوسری طرف دفاتر میں کرپشن اور سرخ فیتے نے انہیں زچ کر رکھا ہے۔ ایسے میں ایک بڑا جھانسہ کھلی کچہریوں کا دیاجاتا ہے۔ جہاں سوائے خانہ پُری کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھاکہ عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل تو یونین کونسل کی سطح پر ہی حل ہوجاتے تھے اور یونین کونسلر ہی ان کی دادرسی کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ یونین کونسل میں ایک سرکاری ملازم سیکرٹری کی شکل میں بیٹھا ہوتا ہے جس کی توجہ عوام کے مسائل پر کم اور دیگر مفادات پر زیادہ ہوتی ہے۔

پنجاب میں پولیس اور عوامی نمائندوں کے درمیان میچ پڑ گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے ستر ارکان نے پولیس کے خلاف ایک قرارداد پیش کر دی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمدخان بھی اس سلسلے میں ہمنوا نظر آتے ہیں اب اس کے پیچھے اصل کہانی توتلاش کرنے کی ضرورت ہے، البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں پولیس کے مظالم بہت بڑھ گئے ہیں،جہاں نوبت یہاں تک آجائے کہ ایک پولیس والے کو ویگن کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا بندہ پسند نہ آئے اور وہ سیٹ خالی نہ کرنے پر اسے گولی مار دے وہاں حالات کی سنگینی کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک منطقی بات ہے کہ جب پولیس والے کسی غریب پر ظلم ڈھاتے ہوں گے تو اس کے ورثا لازماً اپنے علاقے کے رکن اسمبلی کے پاس جاتے ہوں گے جب اس کی بات بھی نہ سنی جاتی ہوگی تو اسے اپنی رکنیت کے جواز پر یقیناً سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔

 بلدیاتی نظام میں یہ چھوٹے موٹے کام یونین ناظم یا کونسلر سنبھا ل لیتا ہے۔ جب یہ خلاموجود ہے تو پھر ارکان اسمبلی ہی عوام کی زد میں ہیں۔ انہیں بھی اگربے بس کر دیا جائے تو پھر وہ کہیں نہ کہیں تو آواز اٹھائیں گے۔ پنجاب میں یہ بات زبانِ زد عام ہے کہ یہاں جو ہائبرڈ نظام چل رہا ہے، اس میں عوامی نمائندوں کا کوئی کردار یا کشن نہیں ہے۔ اوپر چیف منسٹر اور نیچے افسر ہیں۔ یہ ماڈل ہمارے معاشرتی نظام سے لگا نہیں کھاتا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)