کیا ایران مشرق وسطیٰ کی نئی ’سپر پاور‘ ہے؟

ایران جنگ کے خاتمہ کے بعد پاکستان اور دیگر ممالک میں امریکی جارحیت  اور  کسی بھی سپر پاور کے جبر و تسلط کے خلاف احتجاج کرنے والے  جنگ میں ایران کی فتحیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان  طے پانے والی مفاہمتی یادداشت  کو اس حوالے سے دستاویز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ  اب ایران ہی مشرق وسطیٰ میں فیصلہ کن قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ کا جائزہ لیا جائے تو   تمام  تر خواہش و امید کے باوجود یہ  قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ  دونوں ملکوں کے درمیان امن کا کوئی پائیدار معاہدہ طے پاجائے گا۔ یوں  لگتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف کامیابی کے دعوے کرتے رہیں گے اور حالات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔ یہ قیاس حقیقت میں تبدیل ہونے کی صورت میں بھی امریکہ شاید اب ایک بار پھر ایران پر بمباری کا آغاز نہ کرے ۔ صدر ٹرمپ کو دنیا بھر میں ہی نہیں بلکہ اندرون ملک بھی اس جنگ کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔  کانگرس کے بعد اب سینیٹ بھی ایران کے  خلاف جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔ اس لیے اگر ایران  نے یک طرفہ طور سے شدید جارحیت کا مظاہرہ نہ کیا تو شاید جنگ دوبارہ شروع نہ  ہوسکے۔

اس کے باوجود یہ باور کرنا ممکن نہیں ہے کہ تنازعہ  اب ختم ہوچکا ہے اور دونوں ملک بقائے باہمی کے متفقہ اصول پر چلنے پر راضی ہیں۔  اس  شبہ کی سب سے بڑی وجہ تو  مفاہمتی یادداشت ہوجانے کے باوجود دونوں جانب سے ایک دوسرے پر زبانی گولہ باری کا سلسلہ   ہے۔ صدر ٹرمپ نے  توایک تازہ بیان میں  ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا  ہے۔ دوسری طرف ایران ایک طرف ہمسایہ  ممالک  کو دھمکا رہا ہے تو دوسری طرف لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے سوال پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔   یہ مطالبہ اگرچہ مفاہمی یادداشت میں طے شدہ اصول کے مطابق ہے کہ   جنگ بندی کا اطلاق  لبنان پر بھی ہوگا۔ اسرائیل لبنان میں مکمل جنگ بندی پر راضی نہیں ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ اعلان کررہی ہے کہ جب تک اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی ، ان  کو نشانہ بنانا قومی خود مختاری کا تقاضہ ہے۔ اس مؤقف میں سب سے مضحکہ خیز  نکتہ یہ ہے کہ حزب اللہ ، اسرائیل سے تو لبنان کی خود مختاری  کا مطالبہ کرتے ہوئے انخلا پر اصرار کررہی ہےلیکن وہ خود  لبنا ن میں حاکمیت کے اس بنیادی اصول کو تسلیم نہیں کرتی کہ جنگ کرنے یا ملک کی حفاظت کا کام کسی خود مختار مسلح گروہ کا کام نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی ملک کی حکومت  ہی اس بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔ لبنانی حکومت تو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرکے کسی بھی طرح ایک خود سر  ہمسایہ ملک کو راضی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن حزب اللہ چند ڈرون یا میزائل پھینک کر ان کوششوں کو ناکام بنا دیتی  ہے۔

اس معاملہ میں جہاں حزب اللہ  پر لبنان کی خود مختاری کو تسلیم  نہ کرنے کا شبہ کیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کی وفاداریاں لبنان سے زیادہ ایران  کے ساتھ ہیں۔ اسی لیے ایران بھی حزب اللہ کو اپنا حصہ سمجھتے ہوئے، کسی بھی قیمت پر اس کی حفاظت اپنا فرض سمجھتا ہے۔  لیکن حالات کی مکمل تصویر دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ایران  کچھ عرصہ پہلے تک غزہ کے فلسطینی گروہ حماس کے بارے میں بھی ایسے ہی جذبات و خیالات رکھتا تھا۔  اسرائیل و امریکہ تو یہی مانتے ہیں کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس  کا اسرائیل پر حملہ ایران کی مدد و تعاون سے کیا گیا تھا۔  اس حملہ میں  اسرائیل کے لگ بھگ  1200 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ البتہ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر جو  جنگ مسلط کی، اس میں 73 ہزار بے گناہ شہری مارے جاچکے ہیں ۔ ان میں ایک تہائی معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے  گزشتہ سال کے آخر میں  غزہ امن منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت نہ صرف غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ فراہم ہونے تھے بلکہ عالمی امن فورس نے غزہ کا انتظام سنبھال کر وہاں نمائیندہ انتظامیہ  کو فعال بنانے کے لیے کام کرنا تھا۔ تاہم  ان دونوں پہلوؤں پر کام نہیں ہوسکا کیوں کہ حماس نے معاہدے کے مطابق ہتھیار پھینکنے سے انکار کیا  ہے۔ اس وقت اسرائیل  غزہ کے ساٹھ فیصد رقبے پر قابض ہے اور وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر  قبضہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ بیس لاکھ سے زیادہ  لاچار فلسطینی غزہ کی پٹی میں بے یار و مددگار کسی چھت  یامناسب دیکھ بھال کے رہنے پر مجبور ہیں۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ایران نے امریکہ کے ساتھ ’ڈیل ‘ کرتے ہوئے حزب اللہ کی حفاظت اور  اپنے لیے  مالی وسائل کے حصول کی شرائط  تومنوائی ہیں لیکن غزہ کے مسئلہ پر ایرانی وفد نے کوئی بات  نہیں کی۔ نہ ہی فلسطینیوں کی خود مختاری کا سوال امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی معاہدہ کے بنیادی نکات میں شامل ہے۔  حالانکہ پہلے گزشتہ سال جون میں اور اب فروری میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کا آغاز حماس کی دہشت گردی  کی وجہ  سے ہؤا تھا۔ اسی معاملہ پر ایران کو سزا دینے کے لیے اس پر تباہی مسلط کی گئی۔ اب نہ صرف فلسطین یا حماس کا معاملہ ایرانی ایجنڈے سے غائب ہے بلکہ ایرانی لیڈر اب فلسطین کے حق خود مختاری کی بات بھی نہیں کرتے۔ پھر رہبر اعلیٰ مجتبی خامنی ای کے اس دعوے   کی  بنیاد ہے کہ ایران کسی صورت اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اس دعوے کا مقصد نفرت پھیلانے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ جن فلسطینیوں کے معاملہ  پر ایران کی انقلابی حکومت نے اسرائیل کو تباہ کرنے کا اعلان کررکھا ہے، ان کے حقوق کی بات تو کسی فورم پر موجود ہی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پر فلسطینی بچوں کی نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت پر زور د یالیکن ایران کے لیے امریکہ کو شکست دینے کا دعویٰ دہرانا زیادہ اہم و ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اب ایرانی قیادت بار بار  خلیجی ممالک کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ امریکہ ان کی حفاظت میں ناکام ہوچکا ہے، اس لیے انہیں امریکی اڈوں کو ختم کرنے کا اقدام کرنا چاہئے۔ لیکن  کیا یہی سوال  ایرانی لیڈر خود سے نہیں کرتے کہ وہ کیسے یک بیک فلسطینی کاز سے دست بردار ہوچکے ہیں۔  شاید انہیں اب  آبنائے ہرمز پر قبضہ اور ہمسایہ ممالک کو دباؤ میں لانے کا ’برتر‘ مقصد مل چکا ہے۔  کیا ان حالات میں عرب ممالک  ایران کو علاقے کی بڑی قوت مان کر  اس کے باجگزار ہوجائیں گے؟   ایران کے حامی عناصر یہی تاثر  عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن  عرب  یا خطے کے دیگر ممالک اسرائیل  کی  یک طرفہ جارحانہ پالیسی کے بعد اب ایران کے شدت پسندانہ طرز عمل کو کیسے قبول کریں گے؟ جبکہ ایران   بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے اور علاقے میں امریکی بالادستی کے خاتمہ کے لیے کوئی  مشترکہ ایجنڈا سامنے لانے میں بھی کامیاب نہیں ہؤا۔

عرب ممالک  نے ایرانی جارحیت کے باوجود جنگ کے دوران جوابی کارروائی نہ کرکے درحقیقت  جنگ کو وسیع ہونے سے  روکا تاکہ علاقائی ممالک کے درمیان نفرتیں فروغ نہ پائیں۔ ’جنگ میں کامیابی‘ کے زعم میں ایرانی لیڈر ابھی تک عرب ممالک کی اس صلح پسندی اور امن کی خواہش کے  لیے احترام دکھانے میں ناکام ہیں۔ وہ یک طرفہ نعرے بازی کے ذریعے مسلسل خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تہران شاید یہ سمجھنے لگا ہے کہ امریکہ کو علاقے سے نکال کر وہ خود اس کی جگہ عرب ممالک کی سرپرستی کا کردار ادا کرسکتا  ہے۔   ایرانی لیڈروں کے یک طرفہ گھمنڈ  کی وجہ سے علاقے میں  کسی بڑے پالیسی شفٹ کا  امکان نہیں ہے۔عرب ممالک اگر امریکہ سے مایوس ہوتے ہیں تو وہ اپنی حفاظت کے لیے  دیگر آپشنز  پر غور کریں گے۔ ان کے پاس مضبوط اور پائیدار دفاعی میکنزم استوار کرنے کے لئے وسائل کی کمی نہیں ہے ۔  خاص طور سے ایران اگر مسلسل عرب ممالک کی خود مختاری اور مفادات کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے تو مشرق وسطی  میں کسی منی سپر پاور کے سامنے آنے کا تو شاید کوئی امکان نہ ہو لیکن جنگی تیاریوں اور تنازعات میں اضافہ ہوگا جو کسی بھی مرحلے پر مسلح تصادم کی شکل اختیار کرسکیں گے۔

مفاہمی یادداشت میں مانا گیا ہے کہ ایران ، عمان اور ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر   آبنائے ہرمز کے مستقل انتظام کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچے گا۔ لیکن تہران کی حکومت آبنائے ہرمز پر اپنے تسلط کا اعلان کرکے مسلسل ہمسایہ ملکوں  کے مفادات سے انحراف کررہی ہے۔ ان حالات میں ایران علاقے کا عسکری مانیٹر تو شاید نہ بن سکے لیکن امریکہ کے ساتھ  کسی قابل قبول معاہدے کے بغیر نہ تو ایران پر سے تمام پابندیاں ختم ہوں گی  اور نہ  عرب ممالک کے لیے خود سر ایران کی بالادستی ماننا ممکن  ہوگا۔ یہ مسئلہ فتح کے شادیانے دھیمے کرکے بقائے باہمی کے اصول کے تحت علاقے کے تمام  ملکوں کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنے  سے ہی حل ہوسکتا ہے۔