بھارت خفیہ کارروائیوں، پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ ہتھکنڈوں اور پراکسی عناصر کے استعمال میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی نوعیت کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ گزشتہ سال مئی کے تنازع میں شرمناک شکست کے بعد مشرقی ہمسایہ ملک پاکستان کے مشکل سے حاصل کیے گئے امن اور استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کی بہادر مسلح افواج مغربی سرحدوں سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔جبکہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر بھی قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں، غزہ کے عوام اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور انصاف کی حمایت کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کا خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا غیر معمولی عالمی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جن کے اثرات انسانی زندگی پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔پاکستان عالمی برادری میں ایک امن پسند ملک کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے، جن پر بطور ثالث انہیں بھی دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام فریقوں کو امن اور ہم آہنگی کی راہ پر لانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف بھی ہے۔