آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد ایرانی اہداف پر امریکی حملے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے ان حملوں کے اعلان سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کیے گئے حملے کا جواب دے گا تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ دیکھ لیں گے۔‘ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں ان امریکی کارروائیوں کو ایرانی ڈرون حملے کا ’طاقتور جواب‘ قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کو جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ جمعرات کی شب ایک ڈرون حملے میں کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
سینٹ کام کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایرانی فورسز کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر بلا اشتعال جارحیت واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔‘ ایران کے خطرناک طرز عمل نے نہ صرف میری ٹائم سکیورٹی کو متاثر کیا ہے بلکہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ میں آزادیٔ نقل و حمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور اُن کی معاونت جاری رکھے گی۔ یاد رہے کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اگلے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا لیکن امریکہ نے اس بہانے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملہ کیا۔
آئی آر جی سی نے ان حملوں کو جنگ بندی اور امریکی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ایران کی ذمہ داری ہے۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دہرائے گئے تو ایران کا ردِعمل زیادہ وسیع ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔ ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران پر حملے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تو ہم نے اسے عزت دی، اگر انہیں ایم او یو سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔
اس دوران اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے بحری جہازوں کے عملے پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے غیر مجاز راستے استعمال کرنے کا خطرہ مول نہ لیں. آرگنائزیشن کے سربراہ ارسنيو ڈومنگیز کا بیان جمعرات کو ایک کارگو جہاز پر ایرانی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار روز کے دوران آبنائے ہرمز میں پھنسے 150 بحری جہازوں اور چار ہزار ملاح یہاں سے نکل چکے ہیں۔