الزامات اور دعوؤں سے آگے بڑھنے کی ضرورت
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 27 / جون / 2026
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے مئی کے دوران جھڑپوں میں شکست خوردہ ملک قرار دیا ہے۔ اس بیان کے دو نوں پہلو قابل توجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر پاکستان بھارت پر پراکسی گروپوں کے ذریعے بدامنی پیدا کرنے کا الزام لگاتا ہے تو دوسری طرف بھارت بھی پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست کہتا ہے۔ اور سرحد پار دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔
پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس کے علاوہ مئی کے دوران بھارت کی شکست اور پاکستان کی فتح کی کہانی بڑھا چڑھا کر بیان کی۔ زیب داستان کے لیے یہ کہانی خوشگوار ہوسکتی ہے لیکن اسے بار بار دہرانے سے ملک کو درپیش مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ دوسری طرف اگر بھارتی میڈیا یا سرکاری دعوؤں کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں بھی مئی کی جھڑپوں میں بھارت کی کامیابی کے شاندار دعوے نوٹ کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ معاملہ بھی دو طرفہ دعوؤں پر مشتمل ہے۔
اس نشاندہی کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی یا تخریب کاری میں بھارتی و افغان ہاتھ ملوث نہیں ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کا ذکر کرنے سے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو ان اقدمات کے بارے میں بتانا چاہئے جو ان مشکلات سے نکلنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ یہ تو ہے کہ ملک کے تمام متاثرہ علاقوں کو جن میں خیبر پختون خوا اور بلوچستان خاص طور سے شامل ہیں، کو تقریباً فوج کی تحویل میں دے دیاگیا ہے۔ اس طرح امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کوہلاک کرکے امن و مان بحال ہوجائے گا۔ تاہم تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ اگر صرف عسکری قوت پر انحصار کیا جائے تو عام طور سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے یہ پہلو بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ بلاشبہ کسی سانحہ میں ملوث لوگوں کو افغانستان میں تربیت ملتی ہوگی یا انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسیاں فنڈز فراہم کرتی ہوں گی لیکن کوئی بھی ایجنسی اپنی پراکسیز کو فعال کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی مدد و تعاون کی محتاج ہوتی ہے۔ کوئی بھی ملک یا اس کی ایجنسیاں باہر سے اپنے ایجنٹ بھیج کر مقامی لوگوں کی مدد و تعاون کے بغیر ہلاکت خیز کارروائیاں کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ حکومت کو ہمسایہ ملک پر الزام تراشی کرتے ہوئے کم از کم یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے دشمن طاقتوں کو پاکستان کے اندر سے پاکستان کو کمزور کرنے والی کارروائیوں کے لیے مددگار مل جاتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
اس کی ایک وجہ بلاشبہ مالی فوائد ہوں گے۔ ہر ملک میں ایسے وطن فروش موجود ہوتے ہیں جو ذاتی مفادکے لیے قومی سکیورٹی کا سودا کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔لیکن جس وسعت اور تسلسل سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں، ان کی روشنی میں صرف یہ عذر کافی نہیں ہوسکتا۔ اس کی دوسری بڑی وجہ مقامی طور سے لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی، ناپسندیدگی، حکومت سے ناراضی اور اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کا احساس ہے۔ پاکستان کے چھوٹے علاقوں میں یہ احساس کئی دہائیوں سے پروان چڑھتا رہا ہے لیکن کسی بھی حکومت نے اس کا نوٹس لینے اور اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ ایک طرف دشمن پر الزام تراشی سے کام چلایا جاتا ہے تو دوسری طرف ملک کے اندر حقوق کی بات کرنے والے گروہوں یا افراد کو ملک دشمن قرار دے کر ان کی آوازیں دبانے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے یہ دل شکستہ لوگ یا تو خاموش ہوکر بیٹھ رہتے ہیں یا بعض اوقات قانون شکن قوتوں کا آلہ کار بننے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان میں سال ہا سال سے یہ صورت حال موجود رہی ہے لیکن کوئی بھی حکومت یاریاستی ادارہ لاپتہ افراد کے بنیادی مسئلہ کا شافی حل بھی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ بھارت کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے وزیر اعظم کو اس صورت حال پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اور جانچنا چاہئے کہ دشمن کی تخریب کاری روکنے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔
ملک میں عسکری گروہوں کے دنگا فساد یا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بلاشبہ فوجی طاقت کا استعمال ہی واحد فوری حل ہوسکتا ہے لیکن ملک کے وسیع علاقوں کو فوج کے حوالے کرنے کا یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ وہاں بنیادی حقوق نظر انداز ہوتے ہیں اور سول زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ قومی میڈیا میں تو حکومت کے بیانات یافراہم کردہ معلومات کی وجہ سے لوگوں کو دشمن کے نازیبا اور افسوسناک ہتھکنڈوں کا علم ہوتا رہتا ہے لیکن جن علاقوں میں میڈیا عام نہیں ہے اور جدت کے اس دور میں بھی جو علاقے ماڈرن مواصلاتی سہولتوں سے محروم ہیں، وہاں کے عوام تک حکومت کا پیغام تو نہیں پہنچتا لیکن تخریبی عناصر کی پھیلائی ہوئی معلومات ضرور عام ہوجاتی ہیں۔ کیوں کہ قومیت پسندی یا علاقائی خودمختاری یا قبائیلی تعلق کی بنیاد پر یہ عناصر کسی نہ کسی طرح دیہات ور دور دراز علاقوں میں لوگوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ حکومت فوج کے مسلسل استعمال، طاقت پر بھروسہ کرنے اور مواصلاتی سہولتیں عام نہ کرنے کے سبب ایسی رسائی حاصل نہیں کرپاتی۔ اس کمزوری کی ذمہ داری دشمنوں کی بجائے، اپنی نالائقی اور غلط ترجیحات پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کو ہمسایہ ملک پر الزام لگاتے ہوئے اس کا ادراک بھی ہونا چاہئے۔
بھارت ایک بڑا اور طاقت ور ملک ہے۔ اس نے آپریشن سندور کاا آغاز کیا اور ڈھٹائی سے اب تک اسے جاری رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے پاکستان کے سر پر ایک نئی جنگ کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے اور حکومت اپنے قلیل وسائل کے باوجود فوج کے اخراجات بڑھانے پر مجبور ہے۔ لیکن دیگر جنگوں کے علاوہ مئی کے دوران ہونے والی جھڑپوں سے بھی یہی واضح ہؤا ہے کہ یہ مسئلہ الزام لگانے یا ایک دوسرے کو میدان جنگ میں نیچا دکھانے سے حل نہیں ہوگا۔ بھارت شاید جان بوجھ کر پاکستان کو مسلسل جنگ کے ماحول میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ وہ دیگر عوامی ضروریات پر توجہ نہ دے سکے۔ کسی بھی حکومت کو معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایران امریکہ معاہدہ میں پاکستان کی سفارتی مہارت کا پوری دنیا نے مشاہدہ بھی کیا اور اس کا اعتراف بھی کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کو بھی بتانا چاہئے کہ وہ ملک کی اس صلاحیت کو بھارت و افغانستان کے ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے کیسے استعمال کریں گے؟
بدقسمتی سے باہمی مذاکرات کا راستہ صرف بھارت نے بند نہیں کیا بلکہ پاکستان بھی اب ہمسایہ ملک کے ساتھ کسی مواصلت یا سفارتی کاوش کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔ مئی کی جھڑپوں کے دوران ایک دوسرے پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں ، وہ بدستور موجود ہیں۔ اور جنگ رکنے کے باوجود باہم مواصلت کے راستے تلاش کرنے کا کام نہیں ہؤا۔ پاکستانی لیڈروں کو سوچنا چاہئے کہ اگر ایران اور امریکہ جیسے دشمن بات چیت اور مفاہمتی یادداشت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو پاکستان اور بھارت کیوں ایسے ہی راستہ اختیار نہیں کرسکتے۔ یہ دونوں ملک تو ایک دوسرے کے ہمسایہ میں واقع ہیں اور ان کے درمیان متعدد ثقافتی و سماجی روایات بھی سانجھی ہیں۔
پاکستانی لیڈروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کو دوستی میں بدلنے کے لیے جو مہارت اور چابکدستی استعمال کی ہے، اس کا کچھ مظاہرہ بھارت کے ساتھ معاملات حل کرنے میں بھی ہونا چاہئے۔ کسی سفارتی پیش رفت کے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات درست ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے ملک کے گوناں گوں مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔