اسرائیل کی بڑھتی عالمی تنہائی کیا رنگ لاسکتی ہے؟

پوری دنیا نے 14 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی دستاویز (ایم او یو) پر الیکٹرانک دستخط کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں امن معاہدے کے لیے بات چیت کی خاطر 60 دن کی مہلت رکھی گئی ہے۔

اسرائیل واحد ملک ہے جو ابھی تک جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ جنوبی لبنان پر وقفے وقفے سے بمباری کر رہا ہے تاکہ نہ صرف اس علاقائی جنگ بندی کو توڑا جا سکے۔ بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل امن معاہدے کے امکانات کو بھی ختم کیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، دونوں نے امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر اسرائیلی قیادت کی سرزنش کی ہے۔ دنیا بھر میں نتن یاہو کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ وہ اور ان کا ملک موت اور تباہی پر مبنی نسل کشی کی پالیسیوں کی وجہ سے تنہا اور بے نقاب ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ امن معاہدہ اہم ہے کیونکہ امریکی آبادی کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ امریکہ کی جنگ نہیں تھی اور اسرائیل نے بلاوجہ امریکہ کو اس میں گھسیٹا تھا۔

آئندہ وسط مدتی انتخابات اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ٹرمپ اس جنگ کی مزید سیاسی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم اسرائیلی رہنما اس بات پر قائل نہیں ہیں۔ وہ بدستور سمجھتے ہیں کہ یہودی لابی اتنی طاقتور ہے کہ ٹرمپ کو جنگ کے میدان میں واپس آنے پر آمادہ کر سکے گی۔ نتن یاہو اس بات پر مایوس ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ (عظیم تر اسرائیل) کا ان کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ عرب دنیا میں ان کے اتحادی اب اسرائیلی عسکری طاقت سے متاثر نہیں ہیں۔ اور ’معاہدہ ابراہیمی‘ کی مزید توسیع بھی بعید از امکان معلوم ہوتی ہے۔ آخر کس چیز نے ریاستِ اسرائیل کو اس تعطل تک پہنچا دیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں جدید ریاستِ اسرائیل کے قیام اور خطے پر غلبہ پانے کے اس کے عزائم سے نمٹنے کے انداز کا مختصر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1947 کی قرارداد نے دو ریاستوں، اسرائیل اور فلسطین کے قیام کی منظوری دی۔ 1948 میں اپنے قیام کے فوراً بعد، اسرائیل نے زیادہ سے زیادہ علاقہ حاصل کرنے کے لیے جتنے ممکن ہو سکے اتنے فلسطینیوں کو وہاں سے بےدخل کر دیا۔ عرب ممالک کے ساتھ 1948، 1967 اور 1973 کی جنگوں نے اسرائیلی علاقے کو مزید وسعت دی جبکہ فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے تک محدود کر دیا۔ وقت کے ساتھ، عرب ممالک نے اسرائیل کی حقیقت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ 2020 تک، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت کئی عرب ریاستوں نے معاہدہ ابراہیمی کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔

2023 تک، اسرائیل کو یقین ہونے لگا کہ دریائے نیل اور فرات کے درمیان کی زمینوں پر گریٹر اسرائیل بنانے کے مقصد کو حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اسرائیلی رہنماؤں اور دائیں بازو کے دھڑوں نے کھلے عام اسے ’وعدہ شدہ سرزمین‘ کے لیے ایک روحانی مشن قرار دیا اور اس کے نقشوں کی نمائش کی۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس نے مؤخر الذکر کو غزہ میں فلسطینیوں کی دو سالہ طویل نسل کشی کرنے کا موقع فراہم کیا۔ چونکہ اسرائیل کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل تھی، اس لیے اس سے اس کے مظالم کا حساب نہیں لیا جا سکا حالانکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جب اسرائیل نے ایران سے جنگ کرنے کا سوچا تاکہ وہ اپنے عزائم کی راہ میں اس رکاوٹ کو ہٹا دے۔

نتن یاہو ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہیں یقین دلایا کہ ایرانی حکومت امریکہ کے حملے برداشت نہیں کر سکے گی۔ ایک ماہ قبل وینزویلا کے خلاف اپنی کامیابی سے تقویت پانے والے، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ حالانکہ نتن یاہو کی طرف سے اس سے قبل امریکی صدور کو دی گئی ایسی تجاویز کو ٹھکرا دیا گیا تھا۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی 40 روزہ جنگ میں ایرانی شہروں اور تنصیبات پر مسلسل بمباری کی گئی۔ ایران نے اپنے خود مختار مہلک ہتھیاروں، خاص طور پر میزائل اور ڈرون، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر فائر کرکے جواب دیا۔ اسرائیل کی توقع کے برعکس ایرانی حکومت رہبر علی خامنہ ای سمیت اپنی سول اور عسکری قیادت کو کھونے کے باوجود بچ گئی۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرنا شروع کر دیا، جس نے خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی سپلائی معطل کر دی۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر دی۔ جیسے جیسے عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھتا گیا اور ایران کے خلاف کوئی واضح جیت نظر نہیں آ رہی تھی، ٹرمپ نے جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستانی قیادت نے، جس نے فریقین کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا تھا، جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے امریکہ اور ایران نے 4 اپریل 2026 کو قبول کر لیا۔ چند ہی دنوں میں امریکہ اور ایران نے 47 سال کی باہمی دشمنی کے بعد پہلی بار آمنے سامنے مذاکرات کے لیے اپنے وفود اسلام آباد بھیجے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہفتوں کے مذاکرات کے بعد، دونوں ممالک نے اسلام آباد مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کیے، جس میں 60 دن کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں سمیت تمام اہم معاملات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے کھول دیا اور امریکہ نے اس کی ناکہ بندی اٹھا لی۔ تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں اور عالمی معیشت ممکنہ کساد بازاری سے بچ گئی۔

اسرائیل تنازع کے فوجی حل پر یقین رکھتا ہے۔ جنوبی لبنان پر اپنے حملوں کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اس کی کوششوں کو صرف امریکہ کی سخت الفاظ میں سرزنش سے روکا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ابھی بھی امید ہے کہ امریکہ میں اس کی طاقتور لابی ایران کے ساتھ امن معاہدے کی ٹرمپ کی پالیسی کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم، اسرائیلی قیادت کو حیرت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکی رائے عامہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں پر اسرائیلی ویٹو کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔

دریں اثنا، خلیجی ممالک خطے کے لیے امریکی سکیورٹی چھتری کی تاثیر کا جائزہ لینے لگے ہیں۔ ان میں سے کچھ ریاستیں اب ایران کو دشمن کے طور پر نہیں دیکھتی ہیں اور ایران کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ امن معاہدے کے بعد، خطے کے لیے ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ ابھر سکتا ہے، جس کی بنیاد اجتماعی سلامتی کے نظریے پر ہوگی۔ پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب، قطر، مصر اور ممکنہ طور پر دیگر خلیجی ریاستیں اس طرح کے علاقائی انتظام کا حصہ بننا چاہیں گی۔ چین اور روس اس طرح کے علاقائی انتظام کی توثیق کرنے کا سب سے زیادہ امکان رکھتے ہیں۔

یہ صورت حال اسرائیل کی تنہائی کا باعث بن رہی ہے۔ اسے ایک مخمصے کا سامنا ہے۔ نتن یاہو لڑنا چاہیں گے لیکن وہ امریکہ کی واضح حمایت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ اگر وہ نہیں لڑتے تو اس سال اکتوبر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو سکتا ہے۔ مزید، غزہ میں اندھا دھند اموات کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اسے اور اس کے ساتھیوں کو اجتماعی قتل کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال اسرائیل کافی سٹریٹیجک جگہ کھو چکا ہے۔

ایک عظیم تر اسرائیل کے لیے اس کی خواہش خاک میں مل گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیلی اتحادیوں کو بھی اسرائیل کی قاتل حکومت کے ساتھ الحاق کے فائدے کا یقین نہیں ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے، اسرائیل کے پاس مغربی ایشیا کے نئے زمینی حقائق کو قبول کرنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے کا انتخاب کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

یہ تبھی ممکن ہوگا جب وہ فلسطینی ریاست کے لیے جگہ پیدا کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ریاست کے طور پر اسرائیل کا مستقبل تاریک بادلوں کی زد میں آ جائے گا ۔

(مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔)

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)