پاکستان نے افغانستان میں کارروائی کے دوران 29 شدت پسند ہلاک کردیے
پاکستان نے کہا ہے کہ اتوار کی شب مستند انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 29 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
تاہم افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افغان شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے ان مراکز میں موجود بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ اتوار کی شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے جاری ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات اور سنیچر کی شب کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کے بعد دو مختلف کارروائیوں میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق 28 جون (اتوار) کو ہی سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ایک گروہ کے خلاف بھی انٹیلیجنس بنیادوں پر زمینی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں شدت پسند کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت کالعدم جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے مزید تین شدت پسندوں کو ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔‘
پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کراچی میں ایک دہشت گرد حملے میں تین فوجی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ پاکستانی فوجی کے مطابق اس واقعے میں تین حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ کالعدم تحریکِ طالبان سے منسلک گروہ جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں رینجرز کیمپ حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ شدت پسند نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اُس نے وہیں سے تربیت حاصل کی ہے۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا پر اس شدت پسند کا ’اعترافی بیان‘ بھی نشر کیا گیا ہے۔