مذہب، قانون اور جذبات
- تحریر خورشید ندیم
- سوموار 29 / جون / 2026
محرم کا پہلا عشرہ امن کے ساتھ گزر گیا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔ مسلک اور جذبات کی آمیزش نے جس طرح ہمارے مذہبی شعور کی پرورش کی ہے، اس نے مذہب کو ہدایت اور نظامِ اخلاق کے بجائے عصبیت اور شناخت بنا دیا ہے۔
ان ایام میں دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہیں عصبیت اور جذبات بے لگام ہو کر انسانی جانوں سے نہ کھیلنے لگیں۔ اہلِ اسلام نے سال بھر کے ایام کو باہم تقسیم کر رکھا ہے۔ ان ایام کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔ مسلمان عہدِ رسالت سے دو عیدیں مناتے چلے آ رہے ہیں۔ اب تین چار منائی جا رہی ہیں۔ ان تمام نئی باتوں کے پس منظر میں مسلکی عصبیت کارفرما ہے۔ مقصود گروہی امتیاز اور شناخت کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ خدا کو راضی کرنا۔ محرم سیدنا حسینؓ کے ذکرِ خیر کے بجائے شیعہ سنی اختلاف کی نذر ہو جاتا ہے۔ عصبیت اور جذبات کی کارفرمائی سے، مذہبی حوالہ رکھنے والی محترم شخصیات کی توہین کے واقعات بھی ہوتے ہیں جس سے اشتعال پھیلتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے پر اب مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
توہینِ مذہب، توہینِ نبوت و رسالت اور توہینِ صحابہ جیسے جرائم کے لیے یہاں قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس قانون سازی کا محرک جذبات ہیں۔ اس سے پہلے علم اور حکمت کی سطح پر جو تیاری لازم تھی،وہ نہیں کی گئی۔ قانون سازی ایک غیر جذباتی اور منطقی عمل ہے۔ ہماری فقہی روایت اس کا مظہر ہے۔ فقہ اور اصولِ فقہ کے باب میں جو کچھ لکھا گیا، اس پر ایک نظر ڈالنے ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ قانون سازی بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ اسے جذبات کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر میں قانون اسی سنجیدگی کے ساتھ بنتے اور نافذ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں قانون سازی کی تاریخ ایک مختلف کہانی سنا رہی ہے۔ یہاں لوگوں کے جذبات کودیکھ کر،مذہبی معاملات پر قانون سازی کی جاتی ہے۔ عدالتیں بھی ان جذبات کو سامنے رکھ کر ایسے مقدمات کے فیصلے سناتی ہیں۔ انصاف اور قانون کی حیثیت ضمنی ہوتی ہے۔ اشد ضرورت ہے کہ اس باب میں دینی روایت کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھا جائے اور پھر قانون سازی کی جائے۔ جب قانون بن جائے تو انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے جو دینی قانون کا مطالبہ ہے اور دنیاوی قانون کا بھی۔
توہینِ مقدسات کے باب میں، اردو میں ایسے لٹریچر کی شدید کمی ہے جو اس سوچ کی آبیاری کرے۔ میں آج ایک کتاب کا تعارف کرانا چاہوں گا جو اس کمی کو ایک حد تک پورا کرتی ہے اور لازم ہے کہ ہر اس آدمی کی نظر سے گزرے جو ان موضوعات سے دلچسپی رکھتا ہے۔ کہنے کو یہ ایک معروف حنفی فقیہ ابن عابدین شامی کی تصنیف کا ترجمہ ہے مگر یہ اس سے کہیں زیادہ،اس موضوع پر ایک علمی دستاویز ہے۔ ابن عابدین شامی کا شمار متاخرین فقہا حنفی میں ہوتا ہے۔ وہ انیسویں صدی کے نامور عالم ہیں جنہیں فقہ حنفی کے شارحین میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ ان کا انتقال 1836 میں دمشق میں ہوا۔ ان کے بتیس رسائل کا مجموعہ معروف ہے۔ ان میں ایک رسالہ توہینِ رسا لت اور توہینِ صحابہ کو موضوع بناتا اور اس باب میں فقہ احناف کا مؤقف بیان کرتا ہے۔
یہ اردو ترجمہ ا س کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ اصل عربی رسالہ قدیم طرزِ تحریر کا نمونہ ہے۔ اس میں مصنف نے بہت سے حوالے دیے ہیں۔ دقتِ نظر کے بغیر یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کہاں اصل متن شروع ہے اور کہاں حوالہ۔ پھر یہ ایک طویل تحریر ہے جو مسلسل چلی جاتی ہے۔ آج کا قاری اس اسلوب کا خوگر نہیں ہے۔ وہ کتاب کے جس تصور سے آشنا ہے، وہ اس سے مختلف ہے۔ اس جدید قاری کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اس رسالے کا انگریزی میں اس اہتمام اور محنت کے ساتھ ترجمہ کیا کہ اسے ایک نئی کتاب بنا دیا۔ ایک طرف انہوں نے کتاب کی ترتیبِ نو کی اور اسے ابواب وفصول میں تقسیم کر دیا۔ دوسری طرف اقتباسات اور اصل متن میں واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا۔ اس کے ساتھ پیراگراف بھی بنا دیے۔ اس طرح یہ کتاب اصل متن اور مصنف کے مدعا کو متاثر کیے بغیر ایک نئی کتاب بن گئی جو جدید قاری کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے اس کا ایک طویل مقدمہ لکھا جس میں یہ بتایا کہ احناف کے اصولِ فقہ کیا ہیں اور توہینِ رسالت وصحابہ کے باب میں ان اصولوں کے اطلاق کے نتائج کیا ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے پاکستان میں رائج قوانین کا ایک شاندار تجزیہ کر کے یہ بھی بتایا کہ یہ احناف کے نقطہ نظر کا ترجمان نہیں ہے اور فقہ حنفی کے حوالے سے ا س میں کیا کمزوریاں پائی جاتی ہیں جو اصلاح طلب ہیں۔ مثال کے طور پر ابن عابدین یہ بتاتے ہیں کہ فقہ حنفی کے مطابق اگر توہینِ رسالت کا مرتکب کوئی مسلمان ہے تو اس پر ارتداد کے قانون کا اطلاق ہو گا۔ اس کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو ارتداد کے مجرم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر غیر مسلم ہے تو اس کے ساتھ ’سیاسہ‘ کے تحت معاملہ کیا جائے گا۔ یہ فقہ حنفی کا ایک تصور ہے جس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اس جرم کی سزا کا تعین اربابِ حکومت، مقاصدِ شریعت کے روشنی میں از خود کریں گے اور یہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ یہی نہیں، ڈاکٹر صاحب نے موضوع کی مناسبت سے کتاب اس میں ایسے ضمیمہ جات شامل کر دیے ہیں جس سے اس کی افادیت بڑھ گئی ہے۔ ان میں ایک ضمیمہ ارتداد کی سزا کے بارے میں حنفی مذہب کے بارے میں بھی ہے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب جب ابن عابدین کی اس رسالے کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے تھے تو ان کی معاونت ان کے شاگرد ڈاکٹر محمد رفیق شنواری نے کی۔ شنواری صاحب کو اسی دوران میں اس کے اردو ترجمے کا خیال آیا اور یہ کیا ہی مبارک خیال تھا۔ اس کا حاصل ایک شاندار اور رواں اردو ترجمہ ہے جس کی صحت پر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اردو کے دینی لٹریچر میں یہ ایک اہم اضافہ ہے۔ ان مباحث سے دلچسپی رکھنے والا کوئی عالم یا طالب علم اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے وہ علما جو فقی حنفی پر اس سختی سے عمل کر تے ہیں کہ نماز کے اوقات میں دوسرے فقہی مذاہب کی رعایت پر آمادہ نہیں ہوتے، انہوں نے ایک انتہائی اہم مسئلے میں فقہ حنفی کی رائے کو رد کر دیا اور اب اس قانون پر گفتگو کے لیے آمادہ نہیں۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے فقہ حنفی کی رو سے اس قانون کے قابلِ اصلاح پہلوؤں کو نمایاں کر دیا ہے۔ احناف کی اس رائے پر تنقید ہو سکتی ہے اور بعض اہلِ علم اس باب میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ بطورِ خاص ارتداد کی سزا محلِ نظر رہی ہے۔ تاہم دیانت داری کا تقاضا ہے کہ تنقید سے پہلے اس رائے کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ سطحی علم یا ا دھوری معلومات کے نتیجے میں قائم کی جانی والی آرا صرف ابہام کا باعث بنتی ہیں۔
عشرہ محرم کے دوران میں چند غیر ذمہ دار عناصر کی بے اعتدالیوں پر آج مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ یہ مطالبہ کرتے وقت یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ توہینِ مذہب، توہینِ رسالت اور توہینِ صحابہ کے باب میں اسلاف کی رائے کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)