بہشتی دروازے کی گارنٹی

آج کل پاکپتن کا بہشتی دروازہ ’کھڑکی توڑ‘ رش لے رہا ہے۔ اگر اِس کی کوئی ٹکٹ ہوتی تو بلیک کرنے والوں کی چاندی ہو جاتی۔ یہ بارہ فٹ کا ایک لکڑی کا پرانا دروازہ ہے جسے عقیدت مند ’بہشتی دروازہ‘ کہتے ہیں۔

محرم کے پانچ دنوں میں اسے کھولا جاتا ہے۔ ان پانچ دنوں میں وہاں جو حشر برپا ہوتا ہے، اسے دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ہمیں مفت خوری کی اِس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ اب جنت بھی مفت میں چاہیے۔ ہزاروں لوگ پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو دھکے دیتے، پسینے میں شرابور اس دروازے سے گزرنے کی جدوجہد کرتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جو اس لکڑی کے چوکھٹے کے نیچے سے ایک بار گزر گیا، اُس کے پچھلے اگلے تمام گناہ معاف ہو گئے اور مرنے کے بعد وہ سیدھا جنت میں لینڈ کرے گا۔ وہ بھی بزنس کلاس میں۔

اصل بات یہ نہیں ہے کہ لوگ صوفیا سے محبت کرتے ہیں، وہ ایک الگ چیز ہے۔ یہاں معاملہ محبت کا نہیں بلکہ ’مفت کی نجات‘ کا ہے۔ ہمیں جنت کا بھی شارٹ کٹ چاہیے۔ زندگی بھر اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، لوگوں کے حقوق غصب کریں، ناپ تول میں کمی کریں، ملاوٹ کریں، جھوٹ بولیں اور آخر میں کوئی ایسا نسخہ مل جائے کہ بس ایک چکر کاٹیں اور سیدھے جنت کے باغوں میں پہنچ جائیں۔ یہ مفت کی جنت کا وہ لولی پاپ ہے جو ہم نے خود کو دے رکھا ہے۔

دین کی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنا چونکہ جوکھم کا کام ہے، سو اُس میں کون پڑے۔ کون پڑوسی کا حق ادا کرے، سچ بولنے کے عذاب سے گزرے، دیانتداری سے زندگی گزارے! اس سے کہیں آسان ہے کہ سال میں ایک آدھ عمرہ یا حج کر لو اور اگر وہ بھی مشکل لگتا ہے تو ایک چکر پاکپتن شریف کا لگا لو، لائن میں لگو، پولیس کے دو ڈنڈے کھاؤ، دروازے سے گزرو اور کھاتہ کلیئر کر کے واپس آ جاؤ تاکہ اگلے سال پھر سے گناہ کرنے کا لائسنس مل سکے۔ بقول عطا الحق قاسمی، یہ خدا کے این آر او نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا خالق کائنات اتنا سادہ ہے کہ محض لکڑی کے دروازے سے گزرنے پر، وہ آپ کی زندگی بھر کی بدمعاشیاں معاف کر دے گا؟ اگر جنت اتنی ہی سستی اور مفت ہوتی تو پھر دنیا میں انبیا کو اتنی تکلیفیں اٹھانے، جنگیں لڑنے اور اخلاقیات کا درس دینے کی کیا ضرورت تھی؟

کسی نے بابا فریدؒ سے پوچھا تھا کہ جنت کا دروازہ کون سا ہے تو آپ نے اپنے عمل اور طریقے کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اصل راستہ یہ ہے یعنی پاکیزہ زندگی اور انسانیت کی خدمت۔ لیکن ہم نے اُن کی اس صوفیانہ اور علامتی بات کو مٹی کے ایک دروازے میں بند کر دیا۔ اگر آج بابا فریدؒ زندہ ہوتے تو اپنے مزار کا یہ حال دیکھ کر سر پیٹ لیتے کہ میں نے تو تمہیں خدا کا راستہ دکھایا تھا، تم نے لکڑی کے ایک کواڑ کو خدا بنا لیا!

ہم معجزوں، کرامتوں، وظیفوں اور شارٹ کٹس کی دنیا میں جیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کر جائے لیکن ہمیں ٹیکس نہ دینا پڑے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہو جائے لیکن ہمیں قانون کی عملداری نہ کرنی پڑے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آخرت سنور جائے لیکن ہمیں اپنی عادات نہ بدلنی پڑیں۔ لیکن یہ بھی یک طرفہ تصویر ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بہشتی دروازہ ناروے، سویڈن، ڈنمارک یا فِن لینڈ میں کیوں نہیں ہے؟ کیا وہاں کسی کو مفت میں جنت جانے کا شوق نہیں؟ یا وہ دنیا میں ہی جنت بنائے بیٹھے ہیں؟

اپنے ہاں عام بندے کو جس طرح زندگی گزارنی پڑتی ہے اُس کے بعد اُس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ ہم جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر، سگریٹ کے کش لگا کر، آسودگی اور اطمینان کے ساتھ غریبوں کو زندگی جینے کے لیکچر دیتے ہیں، ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ایک عام آدمی کی زندگی کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں اور وہ کس طرح ایک وقت کے کھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے۔

کسی دن ایک تجربہ کرنے کو دل کرتا ہے۔ اپنے آپ کو کسی بھرے پُرے شہر میں تنہا سمجھیں، آپ نے پرانے سے کپڑے پہن رکھے ہوں اور سڑک پر گھسٹ گھسٹ کے چل رہے ہوں۔ آپ کی جیب میں ایک ٹکا بھی نہ ہو۔ آپ کو ٹاسک دیا جائے کہ آپ نے محنت مزدوری کر کے ایک وقت کے کھانے کے پیسے کمانے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں طبیعت روشن ہو جائے گی۔ سیلف ہیلپ اور موٹیویشن کے تمام لیکچر بھول جائیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ آپ داتا دربار پہنچ جائیں یا پھر پاکپتن شریف کے بہشتی دروازے سے گزرنے کی کوشش کریں۔ یہی دل کرے گا کہ اِس زندگی میں تو جنت ملنے سے رہی تو کیوں نہ بہشتی دروازے کا ’جوا‘ کھیل کر دیکھ لیا جائے۔ بقول پنڈت ہری چند اختر:

ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہو گا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہو گا

رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہو گا
کسی نے کچھ لکھا ہو گا کسی نے کچھ لکھا ہو گا

بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہو گا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہو گا

تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی
تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہو گا

سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہو گا

مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہو گا

بھروسا کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہو گا

کالم کی دُم: آپس کی بات ہے میرے پاس جنت میں جانے کا ایک تیر بہدف نسخہ ہے۔ اِس کی خاصیت یہ ہے کہ نہ کہیں قطار میں کھڑے ہونا پڑتا ہے اور نہ کوئی وظیفہ پڑھنا پڑتا ہے۔ غریبوں کو استثنا حاصل ہے جبکہ امیروں کے لیے پریمئیم سروس دستیاب ہے۔ مکمل اعتماد کے ساتھ رابطہ کریں، آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ یہ پیشکش محدود مدت کے لیے ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)