بے سمت دنیا
- تحریر ملیحہ لودھی
- سوموار 29 / جون / 2026
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست شدید ہلچل اور بے یقینی کا شکار ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد شاید ہی کبھی دنیا اتنی غیر مستحکم رہی ہو جتنی آج ہے۔
بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سخت معاشی و تجارتی مقابلہ آرائی نے عالمی عدم استحکام میں اضافہ کر دیا ہے۔ پرانا عالمی نظام، اپنے اصولوں اور ضابطوں سمیت، تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی نظام بکھر رہا ہے، جبکہ کثیرالجہتی تعاون (Multilateralism) غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک کثیر قطبی (Multipolar) دنیا جنم لے رہی ہے۔ بڑی اور علاقائی طاقتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی نے دنیا کو ایک ایسے ماحول میں دھکیل دیا ہے جہاں واضح قوانین موجود نہیں اور ہر طرف غیر یقینی اور بے یقینی کا راج ہے۔
سخت عسکری طاقت (ہارڈ اسٹیٹ) ایک بار پھر عالمی سیاست کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔ بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ۔ اگرچہ طاقت کا استعمال کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا، لیکن اب یہ طاقتور ممالک کا پہلا انتخاب بن گیا ہے، آخری نہیں۔ سفارت کاری کا آغاز اب اس وقت ہوتا ہے جب میزائل پہلے ہی چل چکے ہوتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، روس کی یوکرین کے خلاف جنگ، اسرائیل کی غزہ، لبنان اور شام میں محاذ آرائی، اور بھارت کی پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی ۔۔۔۔ یہ سب اس بڑھتے ہوئے رجحان کی مثالیں ہیں کہ تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ ان تمام اقدامات نے بین الاقوامی قانون اور طاقت کے استعمال پر عائد قانونی پابندیوں کی خلاف ورزی کی مگر ان کے مرتکب ممالک کو کسی مؤثر جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جس سے پہلے ہی کمزور عالمی نظام مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ مستقبل صرف تشویشناک نہیں بلکہ خاصا انتشار زدہ دکھائی دیتا ہے۔
اس بے ترتیبی اور انتشار کی کیا تشریح کی جائے؟ حالیہ برسوں میں کئی اہم کتابیں شائع ہوئی ہیں جو بدلتی ہوئی دنیا، موجودہ عالمی بحران اور مستقبل کے ممکنہ عالمی نظام کا جائزہ لیتی ہیں۔ ان میں الیگزینڈر اسٹب کی The Triangle of Power: Rebalancing the New World Order برینڈن سمز کی The Return of the Great Powers اور جیک واٹلنگ کی Statecraft: The New Rules of Power in a Divided World شامل ہیں۔ یہ کتابیں مختلف زاویوں سے موجودہ عالمی صورت حال کا تجزیہ کرتی ہیں اور مستقبل کے بارے میں الگ الگ نقطۂ نظر پیش کرتی ہیں۔
فن لینڈ کے صدر اور سابق وزیر اعظم و وزیر خارجہ الیگزینڈر اسٹب اپنے طویل سفارتی اور سیاسی تجربے کی بنیاد پر عالمی نظام کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لبرل عالمی نظام بکھر چکا ہے اور وہ اعتماد، جو بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد تھا، ٹوٹ چکا ہے۔ ان کے خیال میں آئندہ عالمی نظام کا انحصار تین قوتوں کے درمیان تعلقات پر ہوگا۔ عالم مغرب (امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی)، عالم مشرق (روس اور چین) اور عالم جنوب (ترقی پذیر اور اکثریتی ممالک)۔ اسٹب کے مطابق عالم جنوب کو موجودہ عالمی نظام میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں، اس لیے وہ عالمی طاقت کی منصفانہ تقسیم کا خواہاں ہے۔ یہ ممالک کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے عالمی فیصلوں میں اپنی خودمختار حیثیت اور مؤثر کردار چاہتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اس تقسیم شدہ اور غیر مستحکم دنیا سے کس نوعیت کا عالمی نظام جنم لے گا؟ اسٹب کا خیال ہے کہ عالم جنوب نئے عالمی توازن اور نظام کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وہ یالٹا کی سیاست کے بجائے ہیلسنکی کے طرزِ عمل کو اپنانے کی تجویز دیتے ہیں، یعنی طاقتور ممالک کو چاہیے کہ وہ عالم جنوب اور معاشی طور پر مضبوط درمیانے درجے کی طاقتوں کے مفادات اور نقطۂ نظر کو بھی عالمی فیصلوں میں جگہ دیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کے مؤرخ برینڈن سمز اپنی کتاب میں روایتی جغرافیائی سیاست اور بڑی طاقتوں کی واپسی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے مطابق سرد جنگ کے بعد ایک ایسا دور آیا تھا جب بین الاقوامی قانون، اقتصادی تعاون اور عالمگیریت کو فوقیت حاصل تھی۔ اور یہ تصور عام تھا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم کا دور ختم ہو چکا ہے۔ مگر گزشتہ ایک دہائی نے یہ خوش فہمی ختم کر دی۔ عالمی انحصار (Interdependence) کو خود ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا جبکہ عالمگیریت کے منفی اثرات اور اس سے پیدا ہونے والی کمزوریوں نے کئی ممالک کو اس سے دور ہونا سکھایا۔ سمز کے مطابق اب فوجی طاقت کو معیشت، قانون اور اخلاقیات پر برتری حاصل ہو چکی ہے۔ فیصلے اقتصادی مفادات کے بجائے جغرافیائی سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے وہ خبردار کرتے ہیں کہ ممکن ہے جغرافیائی سیاست ہمیں موسمیاتی تبدیلی سے پہلے ہی تباہ کر دے۔
عالمی نظم و نسق (Global Governance) کمزور پڑتا جا رہا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو چاہیں کر گزریں گی۔ ان کے راستے میں کئی عملی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود سمز کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں بھی عالمی سیاست پر بڑی طاقتوں کا غلبہ برقرار رہے گا۔ اگرچہ کوئی ایک واحد سپر پاور دنیا پر حاوی نہیں ہوگی۔ وہ بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے ایسی حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہیں جو اس حقیقت کو تسلیم کرے۔
جیک واٹلنگ کی کتاب Statecraft اس بات پر مرکوز ہے کہ آج کی بدلتی ہوئی دنیا میں ریاستیں کس طرح مقابلہ کرتی ہیں، اپنے اثر و رسوخ کو کیسے بڑھاتی ہیں اور محدود وسائل کے باوجود اپنے قومی مفادات کا مؤثر دفاع کیسے کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ریاستیں حکمت عملیاں بناتی ہیں لیکن ان کے نتائج عام انسان بھگتتے ہیں۔ موجودہ غیر یقینی عالمی ماحول میں مؤثر ریاستی حکمت عملی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اب دنیا دو قطبی نہیں بلکہ کثیر قطبی ہے۔ اور مقابلے کے میدان بھی پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق کامیاب وہی ریاستیں ہوں گی جو صرف دفاع ہی نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت، ٹیکنالوجی، اطلاعات اور دیگر تمام شعبوں میں مہارت کے ساتھ اپنی قومی حکمت عملی نافذ کریں۔
آج کے اس بے مہار عالمی ماحول میں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا اب واقعی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا اصول نافذ ہو چکا ہے؟ حالیہ واقعات کا جائزہ لیا جائے تو جواب نفی میں ملتا ہے۔ جدید جنگ، جس میں ڈرون، میزائل اور غیر روایتی حکمت عملیاں شامل ہیں، نے نسبتاً کمزور ممالک کو بھی طاقتور ریاستوں کے مقابلے میں مؤثر مزاحمت کا موقع فراہم کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی بھی ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ کر سکی۔ آج کی دنیا میں صرف فوجی برتری، فتح یا غلبے کی ضمانت نہیں رہی۔ امریکہ کا آپریشن ایپک فیوری، روس کی یوکرین میں غیر فیصلہ کن جنگ، اور گزشتہ سال پاکستان کے خلاف بھارت کی جارحیت، سب اسی حقیقت کی مثالیں ہیں۔
آخر میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا درمیانے درجے کی طاقتیں (Middle Powers) بھی عالمی سیاست کی سمت بدل سکتی ہیں یا یہ اختیار صرف بڑی طاقتوں کے پاس ہے؟ اس پر بحث جاری ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق عالمی بساط صرف بڑی طاقتیں ہی الٹ پلٹ سکتی ہیں۔ جبکہ دوسرے ماہرین سمجھتے ہیں کہ درمیانے درجے کی طاقتوں کا باہمی تعاون اب نئے عالمی نظام کی اہم خصوصیت بنتا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی ڈیووس میں یہی مؤقف اختیار کیا کہ اگر درمیانے درجے کے ممالک متحد ہو جائیں تو وہ بڑی طاقتوں کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں اور عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں تمام ممالک کو خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ لیکن اصل مسئلہ صرف پیچیدگی نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا ہے جو منتشر، غیر متوازن اور بے سمت ہو چکی ہے۔ اور بظاہر آنے والے مستقبل میں بھی غیر یقینی اور عدم استحکام کا شکار رہے گی۔
(مصنفہ امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر رہ چکی ہیں۔)
(بشکریہ: روزنامہ ڈان)