آبادکاری کے اسرائیلی منصوبے آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں: پاکستان

  • منگل 30 / جون / 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حق میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے جغرافیائی وجود کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالات مسلسل تشویشناک رخ اختیار کر رہے ہیں جہاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل کے متعدد ارکان نے بھی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتساب پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہےجبکہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ ای ون منصوبہ فلسطینی علاقوں کے باہمی جغرافیائی ربط کو متاثر کرے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور بنا دے گا۔

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 4 ہزار 750 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے جو بین الاقوامی برادری کی کوششوں کے برعکس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے مالی وسائل کی بندش پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے فلسطینی ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور حکومتی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال ای ون منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 3 ہزار 401 نئے مکانات تعمیر کیے جانے کا منصوبہ شامل ہے۔ناقدین کے مطابق اس منصوبے سے مستقبل میں ایک مربوط اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔