سندھ طاس معاہدے کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا: پاکستان
حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس میں دوٹوک مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ اس پر 24 کروڑ افراد کی زندگیوں کا انحصار ہے، پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین و آبی ماہرین شریک ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے۔پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاکا معاملہ ہے۔ سندھ طاس معاہدہ امن، علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کیلئے ہر طریقہ اپنائیں گے۔
عطاتارڑ نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا۔ معاہدوں کی پاسداری ہی قوموں کے درمیان اعتماد اور عالمی نظام کے استحکام کی بنیاد ہے۔
وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے۔پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہمیں پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان، زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے، پانی کی عدم دستیابی سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا زیادہ بہاؤ نہیں بلکہ پانی کے کنٹرول کا ہے۔ مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے۔ یہ ماحولیاتی مسلہ نہیں بلکہ انصاف کا ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسئلہ ہے، بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ چھ ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا۔ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔ عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔بھارت پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ نہیں موڑ سکتا۔عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتا ہے۔اگر یہ معاہدہ کامیاب نہ ہوا تو پھر دنیا کا ہر ملک نشیب والوں کے حصے کا پانی روکے گا۔یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔
کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہوئی ہے، یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کیلئے ہے۔معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے، معاہدے میں مجموعی طور پر بارہ شقیں ہیں۔ معاہدے کے تحت فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر مسائل دونوں فریقین سے حل نہیں ہوتے تو پھر معاملہ ثالث کے پاس جائے گا۔ معاہدے کی شق نو کے تحت بین الاقوامی ثالث عدالت کے پاس معاملہ لے جایا جا سکتا ہے۔ پاکستان دو بار بھارت کی جانب سے متنازعہ بجلی گھر بنانے کا معاملے ثالثی عدالت لے جا چکا ہے۔کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت کر چکی ہے، ثالثی عدالت فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ ثالثی عدالت نے بھارت کو کہا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا۔ دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق درست اور بروقت معلومات دینا لازمی ہے۔ پاکستان دریاؤں کے نشیبی طرف ہے، یہ ڈیٹا پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔گزشتہ روز بھی بھارت کو اس بارے میں خط لکھ کر ڈیٹا فراہمی کا کہہ چکے ہیں۔بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں ڈیٹا فراہم نہ کرنے سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑ کر 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جا رہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے چناب بیاس لنک کی تعمیر مکمل غیر قانونی ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا۔معاہدے کے تحت بھارت اس لنک کی پاکستان کو معائنے کی اجازت دینے کا پابند ہے۔کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی لے جا چکا ہے۔ پانی لوگوں کی زندگیوں سے جڑا ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی سیمینار میں روسی ماہر عالمی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بھارت کے آبی مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ خطہ میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے۔ بھارت کے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے۔سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ پانی پر تعاون ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔ پاکستان کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہیں۔
بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔بھارتی قیادت اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔ بھارت پانی کو روک کر سیلابی صورت میں چھوڑ کر پاکستانی عوام کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے۔ عالمی سطح پر پانی پر شہری کا بنیادی حق ہے، عالمی ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں رکھا جا سکتا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا، خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات قرار دیا جا چکا ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر موجودہ حالت میں رکھنا مکمل غیر قانونی ہے۔بھارت سندھ طاس معاہدے کو دوسرے امور سے منسلک کیا جا رہا ہے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کے لئے تحریری خط لکھنا ضروری تھا، بھارت نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ چنا۔