فہیم اختر: مضامین، کالم نویسی اور شاعری کا ایک منفرد سفراور ایک عظیم انسان
- تحریر زینب سعیدی
- بدھ 01 / جولائی / 2026
ادب کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی شناخت صرف ان کی کتابوں یا شاعری تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کی فکر، شخصیت، علمی وقار اور انسان دوستی بھی ان کے تعارف کا حصہ بن جاتی ہے۔ فہیم اختر لندن انہی ادبی شخصیات میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف، خصوصاً مضامین، کالم نویسی، تنقیدی تحریروں اور شاعری کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی تحریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ عہد حاضر کے سماجی، تہذیبی، فکری اور انسانی مسائل کی آئینہ دار ہیں۔
میری فہیم اختر صاحب سے پہلی ملاقات 2015 میں استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی صد سالہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے اہلِ قلم، محققین اور اساتذہ کے درمیان فہیم اختر صاحب کی شخصیت اپنی شائستگی، متانت، علم دوستی اور انکساری کی وجہ سے نمایاں محسوس ہوتی تھی۔ پہلی ملاقات ہی میں یہ احساس ہوا کہ وہ صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک ایسے انسان ہیں جن کے نزدیک ادب انسانیت کی خدمت کا ایک ذریعہ ہے۔
اس ملاقات کے بعد سے میں نے ان کی تحریروں کا باقاعدگی سے مطالعہ شروع کیا۔ جتنا ان کے مضامین، کالم اور شاعری کو پڑھتی گئی، اتنا ہی ان کی فکری وسعت، مطالعے کی گہرائی اور اظہار کی سادگی نے متاثر کیا۔ ان کے ہاں نہ غیر ضروری لفظی آرائش ہے اور نہ ہی تصنع۔ وہ اپنے قاری سے براہِ راست مکالمہ کرتے ہیں اور یہی ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
فہیم اختر کی کالم نویسی اردو صحافت کی اس روایت کا تسلسل ہے جس میں معاشرے کے مسائل کو محض بیان نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے اسباب، نتائج اور ممکنہ حل پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ ان کے کالموں میں انسانی اقدار، معاشرتی تبدیلی، ثقافتی شناخت، ہجرت کے مسائل، مشرق و مغرب کے تعلقات، زبان و ادب کی اہمیت اور عالمی منظرنامے پر اردو کے امکانات جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ ان کا قلم کسی مخصوص نظریاتی حصار میں قید نہیں بلکہ اعتدال، تحقیق اور فکری دیانت کا آئینہ دار ہے۔ ان کے مضامین میں تحقیقی انداز نمایاں نظر آتا ہے۔ ہر موضوع کو تاریخی، تہذیبی اور ادبی تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت انہیں دوسرے لکھنے والوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں صرف وقتی اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی حوالہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
فہیم اختر کی شاعری ان کی نثری تحریروں کی طرح فکر انگیز ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب بھی ہے اور خارجی مشاہدہ بھی۔ محبت، ہجرت، وقت، انسان، امید، تنہائی اور تہذیبی شعور ان کے شعری موضوعات میں نمایاں ہیں۔ ان کے اشعار میں جذبات کی شدت کے ساتھ ساتھ فکری گہرائی بھی موجود ہے۔ وہ قاری کو صرف متاثر نہیں کرتے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ بطور مقیمِ لندن ادیب، فہیم اختر نے اردو زبان کو دیارِ غیر میں زندہ رکھنے کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے نہ صرف برطانیہ میں اردو کی ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ مختلف ممالک کے اہلِ قلم کے درمیان ادبی روابط کو بھی مضبوط کیا۔ ان کی شخصیت مشرق اور مغرب کے درمیان ایک علمی و تہذیبی پل کی حیثیت رکھتی ہے۔
میرے نزدیک فہیم اختر کی سب سے نمایاں خوبی ان کی انسان دوستی اور علمی انکساری ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں بھی اسی قدر سادہ، متوازن اور مہذب ہیں جتنی ان کی تحریریں۔ ان کے ساتھ ہونے والی مختصر ملاقاتیں بھی اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کو اپنی ادبی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ سنہ 2015 میں استنبول یونیورسٹی کی اس یادگار کانفرنس میں ہونے والی پہلی ملاقات میرے علمی سفر کا ایک اہم باب بن گئی۔ اس کے بعد سے میں نے ان کی متعدد تحریریں، مضامین، کالم اور شاعری کا مطالعہ کیا اور ہر نئی تحریر کے ساتھ یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ فہیم اختر عصر حاضر کے ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کو محض تخلیقی اظہار نہیں بلکہ معاشرتی شعور، فکری بیداری اور انسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فہیم اختر کی تحریروں میں وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی اخوت کا جذبہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ وہ زبان، مذہب، نسل اور جغرافیے کی تقسیم سے بالاتر ہو کر انسان اور انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ یہی وصف ان کی شخصیت اور ان کے قلم دونوں کو ایک آفاقی جہت عطا کرتا ہے۔ فہیم اختر صرف ایک شاعر، کالم نگار یا مضمون نگار نہیں، بلکہ ایک ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو علم، تہذیب، انسان دوستی اور فکری دیانت کی خدمت کے لیے وقف کیا۔ ان کی شخصیت اور ان کا ادبی سفر اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ احترام سے یاد رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ فہیم اختر صاحب کی ایک اور نمایاں خوبی، جو ان کی علمی اور ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ہمیشہ میرے لیے باعث تحسین رہی ہے، نئی نسل اور طلبہ کی حوصلہ افزائی ہے۔ میں خود اس کی ایک زندہ مثال ہوں۔ سنہ 2015 میں استنبول یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس میں جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو انہوں نے نہ صرف میرے تحقیقی مقالے کو توجہ سے سنا بلکہ میرے اردو بولنے، لکھنے اور ادبی اظہار کی بھی بے حد حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ اسٹیج پر جا کرکس طرح تقریر کرنی ہے۔ ان کی شفقت آمیز رہنمائی، مثبت تنقید اور اعتماد افزا گفتگو نے میرے علمی سفر میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ آج اگر میں اردو زبان و ادب کے میدان میں اعتماد کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہوں تو اس میں فہیم اختر صاحب کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا بھی نمایاں حصہ شامل ہے۔
فہیم اختر صاحب کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی خاموش فلاحی خدمات ہیں۔ وہ ایسے بے شمار رفاہی کام انجام دیتے ہیں جن کی کبھی تشہیر نہیں کرتے۔ ضرورت مند افراد کی مالی معاونت، غریبوں کو حج کی سعادت دلوانا، مستحق بچیوں کی شادی میں تعاون، بیمار افراد کے علاج کا انتظام کرنا اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ان کی ان خدمات میں شامل ہے۔ ان کی یہی خاموش خدمتِ خلق انہیں محض ایک ادیب نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نہایت مؤثر، فکر انگیز اور حوصلہ افزا مقرر بھی ہیں۔ ان کی تقاریر نوجوانوں میں خود اعتمادی، علمی ذوق اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ ہم جیسے بہت سے طلبہ اور نوآموز اہلِ قلم نے ان کی گفتگو سے نہ صرف علمی رہنمائی حاصل کی بلکہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنا بھی سیکھا۔
مجھے یقین ہے کہ آنے والی نسلیں بھی فہیم اختر کی تحریروں سے اسی طرح فیض حاصل کریں گی جس طرح آج کے قارئین ان کی فکر، بصیرت اور ادبی خدمات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ان کا ادبی سرمایہ اردو زبان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے، جس پر تحقیق کی مزید ضرورت ہے تاکہ ان کی خدمات کو علمی دنیا میں وہ مقام مل سکے جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ میرے نزدیک فہیم اختر صاحب ایک نیک، باوقار اور منفرد انسان ہیں۔ آج کے اس مادہ پرستانہ دور میں وہ خاموشی سے دوسروں کے لیے بھی وہی خیر اور بھلائی چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ یہی بے غرض انسان دوستی، علمی انکساری، اخلاقی بلندی اور خدمتِ خلق کا جذبہ ان کی شخصیت کو واقعی منفرد اور قابلِ احترام بناتا ہے۔
(اردو اسکالر۔ تہران، ایران)