زبردستی کا عشق
- تحریر ایاز امیر
- بدھ 01 / جولائی / 2026
چار سے زیادہ سال ہو گئے ہیں اس نظام کو جو پاکستانی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ رجیم چینج بھی اسے کہا گیا،ہائبرڈ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے جب اس نظام کی نزاکتیں بیان کرنا مقصود ہو۔ بنیادی نکتہ اس نظام کا یہ ہے کہ عوام کا لینا دینا اس سے کچھ نہیں۔
جب یہ ساری کارروائیاں شروع ہوئیں اور جب بعد میں الیکشن کے نام پر وہ سب کچھ رچایا گیا جو اس قوم نے پہلے نہیں دیکھا تھا تو سب کچھ اوپر سے ہی ہوا۔ عوام سے پوچھا گیا نہ رائے لی گئی۔ جو کچھ ایوانانِ اعلیٰ میں ترتیب دیا گیا عوام کے سروں پر ڈال دیا گیا۔ عوام کی داد بنتی ہے کہ کمال ہمت سے سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ زور زبردستی کے سودے، معاشی بدحالی، کمر توڑ مہنگائی اور اوپر سے وعظ و نصیحت کہ حالت تمہاری بہتر ہو رہی ہے۔ ایسے میں عوام جائیں تو جائیں کہاں۔
پچھلے سال ہندوستان نے اس بندوبست کے ساتھ مہربانی کی کہ بغیر سوچے سمجھے چھیڑ خانی کر دی۔ اس پر جو جھڑپیں ہوئیں ہمارا پلڑا بھاری رہا اور ان کے کئی جہاز مار گرائے گئے۔ جس سے ہماری بڑی بلّے بلّے ہوئی اورلوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اقوامِ عالم میں پاکستان کی قدر ومنزلت بڑھ گئی ہے۔ اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ ہندوستان کے جہاز تو گرے تھے اور چار روزہ جھڑپ میں ہماری دفاعی کارکردگی بہتر رہی۔ یہ دنیا نے بھی دیکھا اور اس کا اقرار کیا۔ پھر اس سال فروری کے آخری دن یہ ایران والی جنگ شروع ہو گئی اور ہمارے اہلِ اقتدار کی طرف سے ثالثی اور امن بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ جب امریکی نائب صدر اور ایران کی طرف سے سپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد آئے اور اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں مذاکرات کا طویل دور چلا تو یہاں کے مقتدر حلقوں کی بلّے بلّے بہت ہوئی اور پاکستان کی ہر طرف سے تعریف ہوئی۔ ہر طرف سے اعتراف ہوا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے اور ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن جوں جوں ایران اور امریکہ کی کشیدگی ایک دائمی شکل اختیار کر رہی ہے تو یہاں سے کی جانے والی کوششوں کو ایک نارمل انداز سے لیا جانے لگا ہے۔ تالیاں بجائی بھی جائیں تو کتنی بجائی جا سکتی ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کی دلچسپی اپنے حالات میں زیادہ ہوتی ہے اور خارجی امور یا دور کے ڈھولوں میں ذرا کم ہوتی ہے۔ یہ گرمی کا موسم اور اوپر سے مہنگائی اور معاشی بدحالی تو خارجہ امور کے معرکوں کو انسان کتنا سراہے۔ خیال یہ بھی آتا ہے کہ اوروں کے معاملات درست کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی اپنے مسائل پر بھی کچھ توجہ ہو جائے تو کتنا ہی بہتر ہو۔
جہاں تک اپنے مسائل کا تعلق ہے پاکستانی معیشت کو تو خدا جانے کون سی دیمک لگی ہوئی ہے کہ آگے چلنے کا نام نہیں لیتی۔ دو اڑھائی سال سے یہ سُن سُن کر کان پک چکے ہیں کہ معیشت میں استحکام آ گیا ہے۔ استحکام کاغذی اعداد وشمار تک محدود ہے، اس کا کوئی اثر ایسا نہیں کہ عام آدمی محسوس کر سکے اور بھنگڑا ڈالنے لگے کہ لو جی اس معاشی استحکام سے ہمارا چولہا زیادہ اچھا جلنے لگا ہے۔ استحکام کے کرشمات وزیر خزانہ اور وزیراعظم کی تقریروں تک محدود ہیں۔ معیشت کا یہ حال ہے تو سیاست کا اس سے زیادہ بہتر نہیں۔ سیاسی محاذ پر تو ہر چیز جام ہے۔ اسمبلیاں بیٹھتی ہیں اور تنخواہیں لیتی ہیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ اقتدار کا اصل منبع کہاں ہے اور کیسے چل رہا ہے۔ وہ جو ڈرامہ ہوتا ہے کہ پتلیاں ناچ رہی ہوتی ہیں اور ان کے دھاگے پیچھے سے کھینچے جاتے ہیں۔ چار سال سے کچھ اس قسم کا ناٹک یہاں چل رہا ہے۔ معاشی خوشحالی ہو جاتی، مہنگائی کے گھوڑوں کو کچھ لگام دی جاتی، بازار، منڈیوں اور فیکٹریوں میں نوکریاں ملنے لگتیں تو جمہوریت کے کھلواڑ پر کس نے رونا تھا۔ لیکن جہاں معاشی تنگدستی کے ساتھ زبردستی کی زبان بندی معمول بن جائے تو عوام پھر سوچتے تو ہیں کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسا کتنی دیر چلایا جا سکتا ہے۔ چار سال تو ہو گئے اور جو کرشمے اس نظام نے جنم دیے ہیں وہ اس قوم کے سامنے ہیں۔ نارمل سوال ہے کہ حضور جو کچھ آپ نے کیا ٹھیک کیا لیکن آگے کیا کرنا ہے؟ امریکہ کی وہ بات نہیں رہی جو ایران جنگ سے پہلے تھی۔ اسرائیل کی امریکی سیاست میں وہ حیثیت نہیں رہی جو اس جنگ سے پہلے تھی۔ نیویارک کی سیاست میں دیکھا نہیں کہ کیا ہوا ہے؟ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن میں تین ایسے نمائندے چنے گئے ہیں جو واضح طور پر اسرائیل مخالف ہیں۔ یہ اس شہر میں ہوا جہاں اسرائیل کی حیثیت اب تک مسلمہ سمجھی جاتی تھی۔ ان تینوں نمائندوں کے پیچھے میئر زہران ممدانی کا ہاتھ ہے۔ اسرائیل کے خلاف تو امریکی سیاست میں بات ہو نہیں سکتی تھی اور اب یہ صورتحال کہ اسرائیل کے کھلے مخالف سامنے آ رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ کہ جہاں اتنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کیا پاکستان میں ایسا ہی چلتا رہے گا؟ یہ جو یکطرفہ عشق یہاں کا حکومتی بندوبست پاکستانی عوام کے ساتھ چلا رہا ہے یہ ایسا ہی رہے گا؟
حالات اتنے ہی کنٹرول میں ہوں تو یہ روز کی خبریں نہ آئیں کہ خیبر پختونخوا میں فلاں مقام پر فلاں واقعہ ہو گیا،بلوچستان میں فلاں واقعہ ہو گیا۔ چار سال کوئی کم عرصہ نہیں، یہ تو پہلی جنگ عظیم کا دورانیہ ہے۔ دونوں مغربی محاذوں پر کچھ تو بہتری آئی، خبروں کا رخ بدلے۔ امن قائم ہو وہاں کے مکینوں کا اعتماد بحال ہو۔ حالات جتنے بھی خراب ہوں عوام کا حوصلہ قائم رہتا ہے جب احساس اور یقین ہو کہ اقتدار چلانے والوں کی سمت درست ہے لیکن حالات ایسے ہی چل رہے ہوں کہ 'نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘ تو پھر بے یقینی پھیلتی ہے۔ عوامی اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے اور پھر یہ کہنا کافی نہیں رہتا کہ پاکستان کا گراف بڑھ گیا ہے۔
پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اگر میدانِِ سیاست منجمد ہے تو یہ بھی عیاں ہے کہ کسی اعتبار سے کوئی نئی سوچ پیدا نہیں ہو رہی۔ وہ جو فیصلے چار سال پہلے کیے گئے تھے اُنہی پر اکابرینِ ملت کاربند نظر آتے ہیں کہ بس چلائے جاؤ ایسے اور پھر دیکھا جائے گا۔ یہاں کے حالات کا تعین تو اپنے لوگوں نے ہی کرنا ہے۔ جے ڈی وینس یا عباس عراقچی نے یہاں کے حالات درست نہیں کرنے۔ فارم 47 کوئی اتنا بڑا سیاسی نسخہ ہوتا تو اب تک دودھ اور شہد کی نہریں دریافت ہو چکی ہوتیں۔ اور یہاں کے لوگ ماضی کی سیاسی وابستگیاں بھول چکے ہوتے۔
بہرحال آزاد کشمیر کے حوالے سے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ ان بارہ مہاجرین کی نشستوں پر اتنی ضد کیوں دکھائی جا رہی ہے۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ ان بارہ نشستوں کے بل بوتے پر حکومتیں بنانے کے وقت گڑبڑ ہوتی ہے۔ ایسا کون سا مسئلہ ہے کہ اتنی سختی دکھائی جائے۔ جہاں سوئٹزرلینڈ کے اس خوبصورت شہر میں ایران اور امریکہ کے مذاکرات ہو سکتے ہیں اور اس سارے عمل میں ہمارا اہم کردار ہوتا ہے تو یہی فلسفہ اپنے معاملات میں نہیں کارفرما ہو سکتا؟ لیکن زیادہ سوال کیا پوچھے جائیں، مزاج خراب کرنے کی بات ہے۔ بلوچستان میں سزائیں بھی سنائی گئیں ۔ان کے بارے میں اب کیا تبصرہ کیا جائے ۔بس یہی کہاجا سکتا ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)