’یولیسس‘ کا اردو ترجمہ اور گھمسان کا رن
- تحریر آمنہ مفتی
- بدھ 01 / جولائی / 2026
ادب کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ایسا نہیں جس نے 'یولیسس' کے بارے میں پڑھ نہ رکھا ہو۔ زیادہ سنجیدہ قارئین نے اسے پڑھا بھی ہو گا۔ یہ ناول 1922 میں 2 فروری کو شائع ہوا اور اپنے موضوع، اسلوب، زبان و بیان اور انداز بیان کی وجہ سے موضوع بحث بن گیا۔ ناول کی کہانی 16 جون 1904 کا پورا دن ہے۔
اسی کی مناسبت سے اس تاریخ کو بلومز ڈے منایا جاتا ہے۔ جیمز جوائس نے اسے لکھتے ہوئے اسی 'جرآت رندانہ' کا مظاہرہ کیا جو ادیب اس وقت کرتا ہے جب اسے قاری سے داد نہیں چاہیے ہوتی۔ وہ صرف اپنی کہانی اپنے انداز میں کہنا چاہ رہا ہوتا ہے۔ ناول میں 'شعور کی رو' کا تجربہ کیا گیا اور ڈبلن کے ایک دن کو ایسا لکھا گیا کہ وہ شہر اپنے اس ایک دن سمیت امر ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا، قریباً سو برس بعد، 'انور سین رائے' صاحب نے اس کتاب کو نکالا، جھاڑا اور اس کے ترجمے کی ٹھانی۔
یہ بات جب لوگوں کے علم میں آئی تو غلغلہ مچ گیا، کسی نے کہا یہ ممکن ہی نہیں اور زیادہ تر نے کہا کہ ترجمہ ہو تو جائے گا لیکن بھدا ہو گا، یولیسس کی روح ترجمے میں کہیں کھو جائے گی۔ ترجمہ ہوا اور 'جہلم بک کارنر' والوں نے بڑے اہتمام سے چھاپا۔ امر شاہد نے اپنے گھر پہ ایک مختصر نشست سے اس کی رونمائی کا آغاز کیا جس میں میں بھی شریک تھی اور پھر چند تقریبات مزید ہوئیں جن کے بعد مترجم کو لندن واپس جانا تھا۔
کتاب ضخیم ہے لکھنے والے کو برسہا برس لگے، پڑھنے والوں کو بھی وقت لگتا ہے اور ترجمہ پڑھنے والوں کو تو کافی وقت لگتا ہے۔ اس لیے مکمل کتاب تو غالباً کسی نے بھی ابھی نہیں پڑھی لیکن کچھ ناقدین نے کچھ حصہ پڑھ کے اسے ناقص اور کچھ نے اے آئی کی کارستانی قرار دیا۔ بس پھر کیا تھا گھمسان کا رن پڑ گیا۔ کھانڈے سے کھانڈا بجا، نو نیزے خون چڑھا، کشتوں کے پشتے لگ گئے، اس نے اس کو رگیدا، اس نے اس کو گھسیٹا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔
ہمارے بچپن میں فارم پہ ایک کنبہ رہتا تھا جس کے کئی بھائی اور کئی بھابھیاں تھیں۔ لڑائی ہوتی تھی تو بچے، مرد عورتیں سب حسب توفیق حصہ ڈالتے تھے، ایسے میں اقبال عرف بالی نامی مرغ باز، اپنے کھڈے پہ چڑھ کے بیٹھ جاتا تھا اور سارا تماشا دیکھتا تھا۔ مقصود، اپنے مرغوں، انڈوں اور چوزوں کو بچانا بھی ہوتا تھا۔ ’یولیسس‘ کی اس لڑائی میں راقم نے بھی بالی کی طرح کھڈے پہ بیٹھ کے تماشا دیکھنے کی ٹھانی۔ بات یہ سمجھ آئی کہ ترجمہ چند صفحے پڑھنے کے بعد رد کر دیا گیا۔
طاہرہ کاظمی صاحبہ جو ہمیں عزیز بھی ہیں، ترجمے کے دفاع میں میدان میں اتریں اور لوگ باگ اصل بات چھوڑ کے ان کے پیشے کے بخیے ادھیڑنے اور انہیں 'دائی ماں، دائی ماں' کہنے میں مصروف ہو گئے۔ بہت گرد اڑی۔ فاضل مترجم نے ایک شعر کہا جس کا سلیس اردو میں ترجمہ یہ ہی تھا کہ میں نے اردو کو اس ترجمے کی شکل میں ایک شاہکار دیا ہے۔ اس پہ بھی بہت غوغا مچا یہاں تک کہ مترجم نے پسپائی اختیار کر لی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ترجمہ ہنوز مطالعے کی میز پہ ناخواندہ رکھا ہے۔ اورنگ زیب نیازی نے جو نکات اٹھائے وہ قابل غور ہیں۔ تصحیح اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ نظر ثانی کے بعد کچھ چیزیں بہت بہتر ہو جاتی ہیں۔ انورسن رائے صاحب نے بھاری پتھر اٹھایا، خوشی اس بات کی ہے کہ اس ملک میں اب بھی تعمیری کام ہو رہے ہیں، تنقید، تنقیض اور تعریف، کھیل کا حصہ ہیں مگر اصل چیز ہے سفر کا جاری رہنا۔
ترجمہ کرنے والے، چھاپنے والے، تنقید کرنے والے سب قابل قدر لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج بھی علم و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ ترجمے کی کمزوریوں پہ بات ہونی چاہیے اور اگر ترجمہ کمزور نہیں ہے تو جواب دلیل سے دینا چاہیے اور دلیل کے جواب میں دلیل لانی چاہیے، دو طرفہ تبرے بازی کا سلسلہ ختم ہو نا چاہیے۔ بڑے ناولوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، خواہ جب وہ لکھے جائیں یا جب ان کو کسی نئے خطے اور نئی زبان میں ڈھالا جائے۔ یہ ہی ان کتابوں کے بڑے ہونے کی دلیل ہے۔
خواہش تو یہ ہی ہے کہ عالمی ادب کے اردو تراجم کا سلسلہ جاری رہے تاکہ معیار بلند ہو اور اردو کے قاری کو عالمی ادب بھی پڑھنے کو ملے لیکن اس کے ساتھ ساتھ، اردو کے ناولوں اور دیگر اصناف کا بھی انگریزی ترجمہ ہونا چاہیے، تعلقات دو طرفہ ہوں تو بات بنتی ہے۔
امید ہے جلد ہی ہم اردو ادب کے بڑے ناولوں کے انگریزی ترجمے بھی دیکھ پائیں گے۔ لیکن شرط یہ ہی ہے کہ جو بھی ہو کھڈے سے نیچے نہیں اتریں گے جو کچھ کہنا سننا ہو گا یہیں سے کہہ سن لیں گے۔
(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)