معروف پاکستانی و بھارتی شخصیات کی پاکستانی و بھارتی وزرائے اعظم سے مذاکرات شروع کرنے کی اپیل

  • جمعرات 02 / جولائی / 2026

انڈیا اور پاکستان کے سو سے زائد ممتاز شہریوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات، سفارتی تعلقات، تجارت اور عوامی روابط کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اس ضمن میں 30 جون 2026 کو جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی نے سماجی، معاشی اور انسانی سطح پر بھاری قیمت وصول کی ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ’تنہائی کے بجائے روابط، مخاصمت کے بجائے مکالمہ اور تصادم کے بجائے تعاون‘ کا راستہ اختیار کیا جائے۔

اس اپیل پر دونوں ممالک کے درجنوں سابق سفارتکاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے دستخط کیے ہیں۔ انڈیا اور مقبوضہ کشمیر سے اِس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں انڈین خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، منی شنکر ایئر، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔

جبکہ پاکستان سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، ماہر طبعیات پروفیسر ہودبھائی، صحافی بینا سرور، سماجی کارکن شیما کرمانی، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر اور فنکارہ سلیمہ ہاشمی سمیت سول سوسائٹی کے معروف افراد نے دستخط کیے ہیں۔

یہ اپیل ’سینٹر فار پیس اینڈ پراگریس‘ کے چیئرمین او پی شاہ کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسلسل دشمنی لاکھوں نوجوانوں کو مواقع، خوشحالی اور محفوظ مستقبل سے محروم کر رہی ہے۔ دستخط کنندگان نے فوری طور پر دونوں ملکوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے، نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز تعینات کرنے اور معمول کی ویزا سروسز دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل، بشمول جموں و کشمیر، پر جامع اور بامعنی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جانا چاہیے، جبکہ دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اپیل میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سفری پابندیوں میں نرمی کی جائے اور خاندانوں، طلبا، اساتذہ، صحافیوں، فنکاروں، تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان روابط کو فروغ دیا جائے۔

اس مقصد کے لیے دہلی لاہور بس سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس اور سرینگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی کی سفارش کی گئی ہے جو ماضی میں تقسیم شدہ خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا ذریعہ تھیں۔

خط میں واہگہ اٹاری سرحد کو تجارت اور آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے، فضائی رابطے بحال کرنے اور کارگل سکردو روٹ کھولنے پر بھی غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی سیاسی موقف کی حمایت کرنا نہیں بلکہ خطے کے عوام کے مفاد کو ترجیح دینا ہے۔

انڈین خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت انڈیا کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اس خط پر دستخط کیے ہیں۔ بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ پانچ سال تک کام کیا ہے۔ وہ امن کے بہت بڑے حامی تھے۔ اُن کے خیالات نے میری سوچ کو بہت متاثر کیا ہے۔ مجھے جب اس خط کے بارے میں پتہ چلا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ اس پر سب سے پہلے دستخط کرنے والوں میں ڈاکٹر فارو‍ق عبداللہ بھی شامل ہیں تو میں نے بھی اس پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ بات چیت بہت ضروری ہے۔ بات چیت کے بغیر کشمیر میں دہشت گردی ختم نہیں ہونے والی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی کے سینیئر ترجمان شہزاد پونے والا نے انڈیا اور پاکستان کے ممتاز شہریوں کی جانب سے جاری کیے گئے کھلے خط پر سخت تنقید کی ہے۔

ایک ٹی وی چینل پر ردعمل دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب آپریشن سندور جاری ہے اور پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ تعطل کا شکار ہے، فاروق عبداللہ، منوج جھا اور محبوبہ مفتی جیسے لوگ پاکستان سے بات چیت کی بات کر رہے ہیں۔ یہ وہی افراد ہیں جو دہشت گردی کے حملوں کے بعد بھی پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور دہشت گردی کے بارے میں نرم رویہ رکھتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 کے پاکستان، انڈیا تنازع کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی ٹریک ٹو سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں قطر، بنکاک اور کولمبو وغیرہ میں چند غیررسمی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔

دو روز قبل اس ضمن میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا تھا کہ ’یہ نجی طور پر منعقد کی گئی تقاریب ہوتی ہیں، جن کا اہتمام غیر سرکاری فریقوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔‘

پاکستان کی جانب سے تاحال اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو اس خط میں اپیل کے ساتھ ساتھ ’چینج ڈاٹ اوج‘ پر ’انڈیا، پاکستان پیپلز ریزولیوشن‘ کے نام سے ایک پٹیشن بھی شروع کی گئی ہے جس پر دونوں ممالک نامور شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اِس خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی شامل ہیں جنہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے نام اس اپیل پر دستخط کیے ہیں کیونکہ میرے نزدیک متنازع مسائل کے حل کا واحد دانشمندانہ راستہ مکالمہ ہے، نہ کہ جذباتی قوم پرستی، جنگی جنون اور وقتاً فوقتاً جوہری ہتھیاروں کی دھمکیاں دینا۔

اس خط پر پاکستان سے دستخط کرنے والے پرویز ہودبھائی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کے کسی دوسرے خطے میں امن کی ثالثی کے لیے فخر کے ساتھ ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہمارے حکمرانوں کے لیے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا میں بھی امن کی جانب قدم بڑھائیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دونوں کے ہاں ضرورت مند افراد کی ایک بڑی آبادی ہے اور دونوں ہمیشہ پڑوسی ہی رہیں گے۔ لہٰذا نفرت انگیز بیان بازی کا سلسلہ اب لازماً بند ہونا چاہیے اور ہمیں عام سفارتی تعلقات بحال کرنے کے ساتھ ساتھ ویزے کی پابندیوں کو بھی نرم کرنا چاہیے۔‘