میرا کلکتہ کا آخری سفر
- تحریر نصرت جاوید
- جمعرات 02 / جولائی / 2026
1984کے دوران ہوئے بھارتی بنگال کے سفر کی جویادیں ابھی تک اس کالم میں قلم بند کی ہیں، وہ بہت خوش گوار تھیں۔ ان بھلے وقتوں کو اجاگر کرتی رہیں جب لوگوں کی اکثریت سادہ، شفیق اور بنیادی طورپر انسان دوست تھی۔
کلکتہ میں قیام کے ان ہی دنوں میں ناقابل برداشت غربت کو ڈرامائی انداز میں عیاں کرتے دو ایسے مناظر بھی دیکھے جو آج بھی ذہن میں آئیں تو ماتھے پر پسینہ آجاتا ہے۔پہلا منظر ایک بڑے بازار میں دیکھا۔ وہاں ماواڑی سیٹھ تھوک کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے گوداموں میں سامان ر کھنے اور وہاں سے اشیا نکالنے کے لئے انسانوں اور جانوروں کی کھینچی گاڑیاں ٹرین کے ڈبوں کی صورت مسلسل حرکت میں تھیں۔ دوپہر کا سورج دماغ بھنارہا تھا۔ بے تحاشتہ انسانوں اور سامان اٹھانے والی گاڑیوں کے اس ہجوم میں سڑک کے اس پار ایک سرکاری نل کے قریب کامل ننگی پشت کے ساتھ 55سے 60سال کے درمیان عمر والی ایک عورت بیٹھی تھی۔ اکڑوں بیٹھی اس عورت نے اپنا جسم ٹانگیں کاندھوں سے لگاکر’’چھپا‘‘ رکھا تھا۔ بازار کی بے ہنگم ٹریفک سے قطعاًبے نیاز وہ عورت اپنی ساڑھی کو تیز پانی کے نیچے رکھ کر بار بار رگڑرہی تھی۔ بغیر صابن کے صرف پانی کے بہاؤسے ساڑھی میں جمع ہوئی میل نکال رہی تھی۔ سینکڑوں افراد پر مشتمل ہجوم اس کی موجودگی سے قطعاً بے خبر اور بے نیاز تھا۔ میں لیکن سڑک کی دوسری جانب ایک کونے میں کھڑا ہوکر اس کی حرکات کا جائزہ لیتا رہا۔ غربت کے روبرو ایسی بے بسی میرے لئے قطعاًانوکھی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مگر اپنے تماشائی ہونے پر ندامت محسوس ہوئی۔ گھبرا کر ایک آٹو رکشہ کو ہاتھ دکھاکر روکا اور ہوٹل کے کمرے میں لوٹ کر بستر پر لیٹا کروٹیں بدلتے ہوئے وہ منظر بھلانے کی کوشش کرتا رہا۔ پتھر پر نقش ہوئے منظر کی مانند مگر وہ سین آج بھی میرے ذہن میں زندہ ہے۔
ایک اور واقعہ جس نے دل کو بہت دْکھایا وہ ایک ایسے رکشے والے سے متعلق تھا جسے انسان کھینچتے ہیں۔ ہوٹل سے نکل کر سڑک پر آیا تو وہ گلی کے کنارے کھڑا تھا۔ میں نے ’سیاح‘ بنتے ہوئے اسے مولاعلی سکوائر تک جانے کا کرایہ پوچھا۔ اس نے جو رقم بتائی وہ بہت معقول تھی۔ چسکے کے شوق میں اسے ہائر کرلیا۔ حالانکہ چند ہی قدم چلنے کے بعد ٹرام لی جاسکتی تھی۔ رکشے کے پیچھے جھولا نما ڈبے میں بٹھاکر مجھے وہ شخص ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھاکر کھینچنا شروع ہوگیا۔ پانچ منٹ بعد مگر تڑپ کر رک گیا۔ اس کے دائیں پاؤں میں سڑک پر بکھرا شیشے کا ٹکڑا گھس گیا تھا۔ وہ درد سے کراہتے ہوئے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اسے نکالنے لگا۔ ٹکڑا نکل گیا تو اس نے مجھے دوبارہ رکشے میں بیٹھنے کا کہا۔ میں نے مگر انکار کردیا۔ آنکھوں میں برجستہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اس نے ہاتھ باندھ کر مجھے بیٹھنے کو مجبور کرنے کی کوشش کی۔ وہ سواری اور کرائے سے محروم ہونا نہیں چاہ رہا تھا۔ جو کرایہ طے ہوا تھا اس سے تقریباًدگنی رقم دے کر میں نے اس کے کندھے کو تھپکی دی اور درخواست کی کہ وہ اپنے زخم پر کوئی دوائی بھی لگوالے۔
1984کے برس کلکتہ میں یہ دونوں مناظر دیکھتے ہوئے مجھے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) پر بہت غصہ آیا۔ سرمایہ داری اور غربت کی نام نہاد دشمن جماعت 1977سے مغربی بنگال میں برسراقتدار تھی۔ میں حیران ہوا کہ ان کے ہاں ابھی تک سینکڑوں انسان جانوروں کی طرح رکشے کھینچ رہے ہیں۔ انہیں کم از کم سائیکل رکشوں کی جانب راغب کرنے کو صوبائی حکومت کوئی سکیم سوچ سکتی تھی۔ اسی طرح سڑک کنارے اپنی عریانی کو چھپاکر اپنے پاس موجود ایک ہی ساڑھی کی سرکاری نکلے کے پانی سے میل نکالتی عورت کو دیکھتے ہوئے سوال یہ بھی اٹھا کر مغربی بنگال میں کیونسٹ پارٹی کی حکومت کے دوران بے سہارا عورتوں کے لئے سرکار کی سرپرستی میں پناہ گاہیں تعمیر کیوں نہیں ہوپائی ہیں۔ میرے ذہن میں آتے سوالوں کے تسلی بخش جواب مظفر بھون میں بیٹھے کسی رضا کار سے نہیں ملے۔ تھوڑی تحقیق کے بعد اگرچہ دریافت ہوا کہ مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت اپنے وسائل دیہات سدھار جیسی سکیموں پر مبذول رکھے ہوئے درحقیقت درمیانے درجے کے کاشکاروں کو معاشی اعتبار سے توانا تر بنارہی ہے۔ تعلیم کے شعبے پر اگرچہ اس کی توجہ بے مثال تھی۔
تعلیم پر توجہ دینے کی بدولت مگر جو ذہین طالب علم ابھرے ان کی بے پناہ تعداد امریکہ جیسے ملکوں سے ملے وظیفوں پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے بنگال سے رخصت ہوگئی۔ ایسے چند طالب علموں کے ساتھ میں نے 1986 میں ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں چند روز گزارے۔ ان میں سے ایک بھی بنگال لوٹنا نہیں چاہ رہا تھا۔ اپنا مستقبل امریکہ سے وابستہ کرچکا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت مگر بدلتے حقائق سے غافل رہی۔ اس کی حکومت کے دوران ہی 1990کی دہائی کے اختتام کے قریب دیواربرلن گری اور روس کی قیادت میں قائم ہوا کمیونسٹ بلاک پاش پاش ہوگیا۔ مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کا جو دھڑا 1977سے برسراقتدار تھا وہ خود کو چین نواز کہتا تھا۔ اس کی سوویت یونین سے دوری اور چین کی سوچ سے قربت کے باوجود مغربی بنگال ہی میں نکسل باڑی کے مقام سے ایک تحریک ابھری جو ماؤزے تنگ کے نظریات کا حقیقی ترجمان ہونے کی دعوے دار تھی۔
بے زمین کسانوں کے حقوق کے حصول پر قائم ہوئی اس تحریک نے مسلح جتھوں کی مدد سے بڑے جاگیر داروں کے رقبوں پر قبضے شروع کردئے۔ ریاستی طاقتوں کا بھی اسلحہ اٹھا کر مقابلہ شروع کردیا۔ اس تحریک کے اثرات 1970 کی دہائی میں ہمارے ان دنوں سرحد اور آج خیبرپختون خواہ کہلاتے چند علاقوں میں بھی نمودار ہوئے تھے۔ پنڈی سازش کیس کی وجہ سے مشہور ہوئے میجر اسحاق کی بنائی مزدور کسان پارٹی سے تعلق رکھنے والے افضل بنگش اس سوچ کے نمائندہ تھے۔ وہ چارسدہ کے ’خوانین‘ کے خلاف متحرک ہوئے۔ ان کے ناقدین مگر اصرار کرتے رہے کہ نام نہاد’ایجنسیاں‘ انہیں غفار خان کی متعارف کروائی خدائی خدمت گار تحریک کا اثر کمزور کرنے کے لئے استعمال کررہی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو ان دنوں ہمارے وزیر اعظم تھے اور انہوں نے ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو وطن دشمن پکارتے ہوئے سپریم کورٹ کے ہاتھوں ’کالعدم‘ کروادیا تھا۔ افضل بنگش بھٹو حکومت یا ’سرکار مائی باپ‘ کے ’سہولت کار‘ تصور ہوتے تھے۔ ٹھوس حقائق سے قطعاًغافل ہونے کی وجہ سے میں اس ضمن میں کوئی حتمی رائے دے نہیں سکتا۔
1984 میں البتہ مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کے طرز حکومت پر چند ٹھوس سوالات اٹھانے کو مجبور ہوا اور بالآخر میرے خدشات درست ثابت ہوئے۔ بھارتی بنگال ویسا رومان خیز نہیں رہا جیسا میں نے 1984 میں دیکھا تھا اور اس کا تلخ تجربہ مجھے فروری 2001میں کلکتہ کے ایک اور سفر کے دوران ہوگیا۔ اس سفر کی تلخیوں کی وجہ سے وہ میرا کلکتہ کا آخری سفر بھی ثابت ہوا۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)